صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم
اک لمحہ آ کے ہنس گئے ، میں ڈھونڈتا پھرا
ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ
ہر سو شرر برس گئے ، میں ڈھونڈتا پھرا
راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑھک گئیں
دن دلدلوں میں دھنس گئے ، میں ڈھونڈتا پھرا
راہیں دھوئیں سے بھر گئیں، میں منتظر رہا
قرنوں کے رخ جھلس گئے ، میں ڈھونڈتا پھرا
تم پھر نہ آ سکو گے ، بتانا تو تھا مجھے
تم دور جا کے بس گئے ، میں ڈھونڈتا پھرا