میں نے مہینوں پہلے یہ اطلاع دے دی تھی کہ اسٹیبلشمنٹ نومبر سے پہلے پہلے عمران خان کے حوالے سے اپنے گھناؤنے منصوبوں پر عملدرآمد کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان میں مکمل طور پر مصر ماڈل لاگو کیا جارہا ہے، گذشتہ دنوں لگنے والی ملاقاتوں پر پابندی، عمران خان کی اہلیہ کے بعد ان کی بہنوں کی بھونڈے کیسز میں گرفتاری اور ان کے وکیل انتظار پنجوتہ کی گمشدگی اگر اس خدشے کو تقویت دینے کے لیے ناکافی تھی بھی تو اب ��ڈیالہ سے عمران خان کے حوالے سے آنے والی خبریں اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہیں کہ عمران خان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
پاکستان پر قابض مافیہ کو مخلصانہ مشورہ ہے، فوراً سے پیشتر پارٹی قیادت اور وکلاء کو عمران خان سے ملنے دیا جائے تاکہ وہ ان کی خیریت کے حوالے سے قوم کو آگاہ کریں۔ عمران خان اور محمد مُرسی شہید کے قد میں جو فرق ہے اس کا شاید آپ کو اس وقت اندازہ نہیں ہے۔ اس آگ سے کھیلنے کی خواہش ترک کردیں ورنہ کسی کے دامن میں خیر نام کی خیرات نہیں رہے گی۔