اگر آپ کے دل میں اللہ کی محبت سما جائے تو خود کو اللہ کے قریب، متقی اور پرہیزگار پائیں گے۔ اللہ کی محبت ہی ’’روح کا علاج‘‘ ہے۔ دروازے چاہے کتنے ہی سختی سے بند ہوں۔ اس کے پاس ہر چیز کی کنجی ہے۔ جب اللہ اپنی رحمتوں کے دروازے کھولتا ہے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔
#شفاء_للروح
فیملی کے 3 بنیادی مطالبات: 🚨
عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے مکمل اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
بانی پی ٹی آئی کی بلاجواز قیدِ تنہائی کو فی الفور ختم کیا جائے۔
عمران خان پر قائم تمام سیاسی اور بے بنیاد مقدمات کو فوراً ختم کیا جائے۔
"یہ جج لائے ہی عمران خان کو سزائیں سنانے کے لیے گئے ہیں اور آئینی عدالت کے قیام کا مقصد بھی صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی کو نشانہ بنانا ہے۔" — علیمہ خان
بانی پی ٹی آئی کا ١٠ ستمبر ۲۰۲۵ کا وکلا کے ساتھ گفتگو،
“میری بہنوں اور اہلیہ کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ علیمہ خان باہر آ کر صرف میرا پیغام پہنچاتی ہیں۔ ان کے خلاف مہم افسوسناک اور ملک پر مسلط رجیم کی بزدلی اور خوف کا واضح ثبوت ہے۔
بشریٰ بیگم کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ بشرٰی بیگم نے آج تک مجھے کسی وزیر، ٹکٹ ہولڈر یا سینٹر کو نامزد کرنے کا نہیں کہا۔ وہ کوئی سیاسی پیغام نہیں بھیجتیں۔ وہ قید تنہائی میں ہیں ان کا باہر کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ان کو قید و بند کی صعوبتیں صرف میری اہلیہ ہونے کی وجہ سے برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔
ظالم رجیم کو گمان تھا کہ بشرٰی بیگم کو میری کمزوری بنا کر استعمال کریں گے لیکن اپنے غیر متزلزل ایمان کے باعث وہ میری طاقت بن گئی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کی شاید وہ واحد خاتون ہیں جو غیر سیاسی ہیں مگر صرف ان کے خاندان کے کسی شخص کے سیاست میں ہونے کی وجہ سے انہیں قید برداشت کرنی پڑی ہو۔ بشری بیگم کی طبعیت ناساز ہے۔ انھیں چلتے ہوئے چکر محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے معائنے کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی ہے لیکن اب تک قبول نہیں کی گئی۔ ان کا ڈاکٹر سے ترجیحی بنیادوں پر معائنہ انتہائی اہم ہے۔ بشری بیگم کو سیاسی مقدمات میں قید کرنا عاصم رجیم کی اخلاقی اور مذہبی گراوٹ کا ثبوت ہے۔
مجھ پر اور میرے خاندان پر تمام مظالم عاصم منیر کروا رہا ہے۔ ملک میں اس وقت عاصم لا نافذ ہے جس نے ڈاکو ڈفر الائنس کے تحت ملک چلا کر اخلاقیات کا جنازہ اٹھا دیا ہے۔ اخلاقی پستی کا ثبوت یہ ہے کہ میرے خاندان کی عورتوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے گفتگو (۱۰ ستمبر، ۲۰۲۵)
۵ اگست تک تحریک کو پیک پر لے جانے اور فیصلہ کن تحریک کے حوالے سے بدھ کے روز میٹنگ بلائی گئی ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس کو اک روزہ ایونٹ کے بجائے ایک فیصلہ کن تحریک کی طرف لے جائیں۔ انشاءاللہ آپ کے لائحہ عمل کے اعلان کے بعد میرے حلقے سمیت پوری قوم اپنے لیڈر کے لیے مزید بہتر انداز سے تیاریاں کرتے ہوئے نظر آئے گی، جس لیڈر کی وجہ سے ان کا امن ممکن ہوا، کسٹم ایکٹ کا خاتمہ ہوا اور زندگی میں خوشحالی آئی اور آج پھر ان پر جبر کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
میٹنگ میں اس نکتے کو بھی سامنے رکھیں کہ پختونخواہ کے جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا میں پہلے ہی میڈ اپ دہشت گردی سے حالات خراب ہوچکے ہیں اور اب مالاکنڈ ریجن میں سوات، دیر، بونیر ،شانگلہ میں وہی بیس بیس بندے جن کو باجوڑ سے سیلاب کے دنوں میں خصوصی روٹ لگا کر منتقل کیا گیا تھا (اس کی تفصیل میں پچھلے سال ٹویٹس اور پھر کتاب میں درج کر چکا ہوں) ان کو یکدم سےمتحرک کر دیا گیا ہے جس کے بعد ہی پچھلے ہفتے جھڑپ اور سی ٹی ڈی ڈرون گرانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ مہینوں نہیں، ہفتوں یا دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے اور اس دفعہ نہ صرف بیانیہ بنا کر دہشت گردی کا ملبہ آپ پر ڈالا جائے گا بلکہ ان لائے ہوئے لوگوں سے نشانہ بنوایا جائیگا۔ پھر سے سن لیجئے “آپ کو نشانے پر رکھا جائیگا”۔ ایسے حالات میں تحریک تو چھوڑیں پی ٹی آئی گھروں تک محدود ہوجائے گی۔ عوام کا نقصان تو ہوگا ہی آپ کو بھی اندازہ ہے کہ اس سے عمران خان کی زندگی مزید کتنے خطرات سے دوچار ہوگی جب ان کا مضبوط قلعہ اور کارکن بھی محصور اور محدود ہوجائے گا۔ میں نے اپنی غیر موجودگی میں جن کو امن کا پرچم حوالے کیا تھا وہ تیار ہیں، آپ یعنی قیادت و اراکین اسمبلی بھی امن پاسون کا انعقاد کریں کیونکہ امن کے دشمنوں کی پالیسیوں کو شکست اسی سے ہوگی۔
تیسرا نکتہ فوج عوام کو لشکر بنانے پر زور دے رہی ہے۔ ماضی میں امن کمیٹیز بنا کر ان کو عسکری سپورٹ دے کر ظلم کی داستانیں رقم کی گئیں۔امن کمیٹیز کی نشاندہی پر لوگوں کو فوج کے حوالے کیا جاتا رہا، گھر گرائے گئے۔ پھر پالیسی بدلی آباد کاری کا فیصلہ ہوا اور واپسی پر انہی امن کمیٹیز سے بدلہ لینے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ٹارگٹ کیلینگز کے واقعات اسی پالیسی کا خمیازہ ہے۔ آج پوری کی پوری قوم کو لشکر بنانے پر لگا کر ان کو لڑنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ جو لشکر کے خلاف ہوتا ہے یا انکار کرتا ہے ان پر چنگیز خان، ہلاکو خان بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ قوم امن پاسون کررہی تھی آپ گولیاں چلا رہے تھے، قوم آپ کو غلط پالیسی بتا رہی تھی، آپ غداری کے تمغے بانٹ رہے تھے دہشت گردی لانا آپ کی خواہش تھی تو قوم کیوں لشکر بنائے؟ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو پھیلایا گیا اب آپ قوم کو بندوق تھما کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہو؟
ڈرون حملوں پر مجرمانہ خاموشی،آپریشن پر خاموشی، ریڈیو پاکستان بلڈنگ، نو مئی کی رپورٹ اور زمہ داران کا تعین نہ کرنا وغیرہ پہلے ہی آپ پر سیاہ دھبہ ہے اب پی ٹی آئی کو صوبے میں کچلنے کے لیے انکے مد مقابل کھڑا کرکے عوام کو مزید اذیت دینے کا ارادہ ہے۔ اس لیے تمام تر تفصیلات کو دیکھتے ہوئے گزارش ہے کہ کل کی بلائی گئی میٹنگ میں ایک دن کا ایونٹ نہیں ایک تحریک کا پلان واضح کیجئے۔ محصور اور محدود ہونے سے قبل فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھیں۔