ٹرمپ سے بعیت ہوگئی ۔ ایرانی عوام کو ملائیت سے آزادی مبارک ۔ ایران کی سڑکوں پر شدت پسند شیطانوں کی بجائے جدت پسند فارسی reformer Parisian نظر آ رہے ہیں 😃
💥امی، یہ سب کیا ہے؟ آپ نے اتنی مہنگی ساڑی لے لی… اور ابو کے لیے ایک بنیان تک نہیں؟” 💔🥹
ابو نے الماری سے پرانی بنیان نکالی۔
کپڑا اتنا نرم ہو چکا تھا کہ جیسے وقت نے اسے گھس کر دھاگوں میں بدل دیا ہو۔ انہوں نے اسے پہن کر آئینے میں خود کو دیکھا، ہلکا سا مسکرائے… اور جیسے کسی غیر موجود شخص سے مخاطب ہوں، آہستہ سے بولے:
“ابھی نئی لینے کی ضرورت نہیں… یہ دو مہینے اور چل جائے گی۔”
یہ جملہ کسی اور کے لیے نہیں تھا…
یہ ایک عادت تھی… خود کو کم کرنے کی عادت۔
بیٹا دروازے کے پاس کھڑا سن رہا تھا۔
ابو کے جاتے ہی وہ تیز قدموں سے ماں کے پاس گیا، جیسے کوئی انصاف مانگنے آیا ہو۔
“امی، یہ سب کیا ہے؟ آپ نے اتنی مہنگی ساڑی لے لی… اور ابو کے لیے ایک بنیان تک نہیں؟”
ماں نے پلٹ کر دیکھا۔ لہجے میں خفگی تھی، مگر کہیں نہ کہیں تھکن بھی۔
“تمہارے ابو کو خود ہی کچھ نہیں چاہیے۔ اور میری چیزوں کا حساب لینے لگے ہو؟ تمہارے کپڑے، تمہاری بہن کی چیزیں… سب اسی گھر کے پیسوں سے آتے ہیں۔ تم روز اپنی خوشی کے لیے پٹرول جلاتے ہو، کبھی پوچھا میں نے؟”
بیٹا چپ ہو گیا… مگر اس کے اندر کچھ اب بھی کھٹک رہا تھا۔
بیٹی نے موبائل سے نظریں اٹھائے بغیر کہا:
“امی ٹھیک کہہ رہی ہیں… ابو کو جو کرنا ہے کرنے دیں۔ ہمیں اپنی زندگی کیوں روکنی چاہیے؟”
یہ جملہ کمرے میں گونجا نہیں… بس کہیں اندر جا کر بیٹھ گیا۔
اور پھر سب اپنی اپنی دنیا میں لوٹ گئے۔
گھر میں سب کچھ ویسا ہی رہا۔
صرف ایک چیز بدلتی رہی…
ابو۔
وہ پہلے بھی کم بولتے تھے…
اب تو جیسے ان کی آواز بھی اپنے اندر سمٹنے لگی تھی۔
وہ پہلے بھی کم مانگتے تھے…
اب تو جیسے مانگنے کا حق ہی بھول گئے تھے۔
وہ پہلے بھی سادہ تھے…
اب سادگی اور محرومی میں فرق مٹ گیا تھا۔
کوئی نہیں دیکھتا تھا کہ وہ صبح سویرے کیوں نکل جاتے ہیں…
اور شام کو تھکے قدموں سے کیوں لوٹتے ہیں۔
کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ وہ رکشہ کیوں نہیں لیتے…
کیوں بیس روپے بچانے کے لیے لمبا راستہ پیدل طے کرتے ہیں۔
کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ ان کے پاس “چاہتیں” اب بھی ہیں…
بس انہوں نے انہیں بولنے سے منع کر دیا ہے۔
وہ آہستہ آہستہ کم ہو رہے تھے۔
جیسے کوئی شخص اپنے ہی گھر میں جگہ گھیرنے سے شرمندہ ہو جائے…
اور خود کو سمیٹنا شروع کر دے۔
ایک دن بیٹے نے اچانک غور کیا…
ابو پہلے جیسے نظر نہیں آتے تھے۔
نہ قد کم ہوا تھا… نہ جسم…
مگر وہ چھوٹے لگنے لگے تھے۔
جیسے کوئی آدمی اپنی موجودگی خود مٹا رہا ہو۔
اسے یاد آیا…
وہ بنیان۔
وہ جملہ۔
“یہ دو مہینے اور چل جائے گی…”
اچانک اسے احساس ہوا…
وہ بنیان صرف کپڑا نہیں تھی۔
وہ ایک حد تھی…
جہاں ایک آدمی نے اپنی خواہش کو روکا تھا۔
پھر ایک اور حد آئی ہو گی…
جہاں اس نے اپنی ضرورت روکی ہو گی۔
پھر ایک اور…
جہاں اس نے خود کو۔
اور اب…
وہ آدمی مکمل نہیں رہا تھا۔
وہ ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا…
اور ہر ٹکڑا اس گھر کے کسی نہ کسی فرد کے پاس تھا۔
مگر عجیب بات یہ تھی…
کسی کے پاس بھی پورا ابو نہیں تھا۔
اور شاید…
کسی کو اس کی کمی بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
افسانہ: بنیان
ہزاروں سال ۔۔۔۔ ہزاروں ۔۔۔
یقین کیجیے ، شعر غلط پڑھ دینے کا اتنا افسوس نہ تھا ، کسی کی جانب سے تصحیح نہ کیے جانے کی کوفت اپنی جگہ مگر ڈیسک پیٹنے کی آواز نے اس اذیت کو اور بڑھا دیا ۔