It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
آپ کو تو آرام اور طریقے سے بات کرنی چاہیے تھی۔ اب جس انداز میں وہ کہہ رہے تھے کہ جی فلانی ڈبل روڈ ہم نے دی ہے بلوچستان میں؛ بلوچستان کی سوئی گیس کے ٹریلینز آف ٹریلینز آف ڈالرز آپ لے گئے ہیں۔ اگر آپ پورے بلوچستان کی سڑکیں پکی کر دیں اور پورے بلوچستان کو سولر دے دیں، پھر بھی آپ بلوچستان کی گیس کے مقروض رہیں گے۔
آپ کے پاس وقت بہت تھوڑا ہے۔ ہمارے ارد گرد کے علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہت بڑی بربادی ہے۔ اس کی تیاری کے لیے، خدا کے لیے اپنے لوگوں پر بھروسہ کریں۔ لوگوں کو آپ سے کچھ نہیں چاہیے؛ جس طرح قیصر بھائی نے آپ سے کہا کہ پشتونخوا وطن اور بلوچستان کے لوگ سینٹرل ایشیا کے ذریعے اپنی تجارت کر کے خود کو پالتے تھے۔ وہ خود اپنا پیٹ پالتے تھے، لیکن آپ نے اس پر پابندی لگا دی اور اس چکر میں آپ نے پنجاب کے زمیندار کو بھی فارغ کر دیا۔
ہم پر آپ فوراً غدار کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔ میرے بھائی نے کہا تھا کہ "پاکستان ہے تو ہم ہیں"، جی ہاں، شہباز بھائی یہ بات 100 فیصد درست ہے۔ لیکن پاکستان آسمان پر لٹکی ہوئی کوئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان کا مطلب بلوچستان ہے، پاکستان کا مطلب خیبر پختونخوا ہے، پاکستان کا مطلب سرائیکی علاقہ ہے، پاکستان کا مطلب سندھ ہے اور پاکستان کا مطلب پنجاب ہے۔ جب یہاں خوشی ہوگی، جب یہاں امن و امان ہوگا، تب ہی پاکستان میں امن ہوگا۔
کشمیر کے لوگ آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ ان کے مطالبات کیا ہیں؟ خدا کے لیے شہباز بھائی، میں شریف لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہاں کوئی وفد (ڈیلیگیشن) بھیجیں اور انہیں سمجھائیں۔ آپ پاکستان کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
گلگت بلتستان کے 24 حلقوں کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج، فارم 45 اور تمام حلقوں میں موجود 48 نمائندوں کی رپورٹس کے مطابق، عمران خان کے حمایت یافتہ امیدوار 18 نشستوں پر کامیاب قرار پائے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی 4 اور مسلم لیگ (ن) صرف 2 نشستیں حاص�� کر سکی ہے۔ اب اگر نتائج تبدیل بھی کیے جاتے ہیں تو اس سے زمینی حقیقت نہیں بدل سکتی، کیونکہ عوام اپنا فیصلہ سنا چکی ہے اور سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہے۔
فیاض راجہ
افسوسناک 💔
"ہمارا سٹیٹ آف دی آرٹ بس سٹینڈ تیار پڑا ہے NHA والے NOC نہیں دے رہے۔ ہمارا ڈیم تیار پڑا ہے صرف NOC چاہئے لیکن ہمیں نہیں دے رہے ڈیم سے صرف خیبرپختونخوا کو نہیں پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ یہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہے ہیں"۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
بریکنگ نیوز 🚨نو مئ واقعہ سے کچھ دیر قبل خان کا یہ تاریخی پیغام 🔥🔥🔥
میرے پاکستانیو!! جب تک میرے یہ الفاظ آپ تک پہنچیں گے یہ لوگ مجھے ایک بوگس کیس میں گرفتار کرچکے ہونگے۔ خان کے الفاظ وہ کیا تھے سنیئے اس کلپ میں اور ہر جگہ اسے پھیلا دیجئے۔
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن ��ک عمران خان کے نام پر ل��ے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فار�� ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے ��ور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا ��ھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
Our family has appealed to all party office holders, senior leadership, MNAs, MPAs, and Senators to come to Adiala Jail this Tuesday to build pressure on the government to:
1. Allow immediate access for Imran Khan’s lawyers and family.
2. Transfer Imran Khan to Shifa International Hospital for proper medical examination and treatment, in the presence of specialists, his personal doctor, and family.
3. Ensure Chief Justice Dogar takes up the bail applications of Imran Khan and Bushra Bibi so they can be released from this illegal imprisonment without delay.
Imran Khan and Bushra Bibi are being held in solitary confinement, one of the harshest forms of treatment in violation of Pakistani law and international human rights standards.
Imran Khan’s goodwill gesture of delaying the political rally of April 9 shall be reciprocated by at least honoring his prisoner rights and dignity per Mandela Rules:
1) End Solitary Confinement, which is Mental Torture and an extremely inhumane act
2) Allow his basic rights of getting new books, access to newspapers and TV
3) Allow Meetings with family, personal doctors, lawyers and political party members. If doctors recommend shift to hospital, he shall immediately be shifted to Shifa International Hospital in Islamabad
4) Regular hearings of his cases in court without any intervention of Asim Munir so that he can be released soon on merit
Imran Khan always puts Pakistan first. It’s time for regime to honor his rights.
سبی کاظمی نے خود کو محض دس منٹ کے لیے عمران خان جیسے کمرے میں بند کیا، اور پھر کیا حالت ہوئی اس کے بعد سبی کاظمی کا پاکستان کی عوام کے لیے ایک خاص پیغام:
#نظریاتی_لیڈر_عمران_خان
اچھا ہوا قاسم خان پر تنقید کی گئی ،
آئس پی آر اور تارڑ کے لنڈوں نے خوب مخنت کی جس کا سب بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قوم کو GSP پلس سٹیٹس اور اس کے 27 پوائنٹ کا پتا چلا جن کی خلاف ورزیاں ناجائز حکمران کر رہے ہیں ۔۔۔
عقل رکھنے والوں کو خوب نظر آرہا ہے کہ کون GSP پلس کی خلاف ورزیاں کر کے اسے خطرے میں ڈال رہا ہے اور پاکستان کا نقصان کر رہا ہے ۔۔
ملٹری ٹرائل ، ووٹ چوری ، عوام پر سیدھی گولی��ں چلانا ، ججز کو دھمکانا ، عمران خان سمیت عوام کا آئینی اور قانونی حق مارنا سمیت بلوچستان اور پاکستان بھر میں لوگوں کو مسنگ کرنا سب GSP پلس کی خلاف ورزیاں ہیں 🚨🚨
جیو قاسم خان ❤️🔥
I have asked FM Qureshi to visit Iran, KSA & USA to meet with respective foreign ministers, Secretary of State; & COAS Gen Bajwa to contact relevant military leaders to convey a clear message: Pakistan is ready to play it's role for peace but it can never again be part of any war
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے ��ے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)