🚨 José Mourinho on Argentina vs. Egypt:
“This is daylight robbery. It’s a shame what football is becoming. How do you let the play continue, allow the goal to be scored, and only then decide to go back and cancel it? If there was a foul, stop the game immediately. Don’t wait until after the goal.
Then I ask another question—why wasn’t Argentina’s first goal reviewed with the same attention when it looked very close to offside? Why was every incident involving Argentina checked, while Egypt didn’t seem to get the same treatment?
VAR is supposed to bring fairness, not confusion. Today, it looked like every important decision went in Argentina’s favour. Football deserves better.”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ تم سے پہلی قومیں اس لئے برباد ہوئیں جب اُن کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اُسے سزا دی جاتی”۔
پاکستان کے مشہور ٹی وی اینکر افتاب اقبال کی سابق اہلیہ مریم علی نے اپنے چند جملوں سے اس ملک کا ٹرینڈ ہی تبدیل کر دیا ۔
انہوں نے نہ کوئی الزام لگایا نہ کوئی گند اچھالا نہ کوئی پرانا حساب کھولا بلکہ صرف اتنا کہا کہ میری شادی میری تقدیر میں لکھی تھی ۔میں اس کے بیٹے کی ماں ہونا اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہوں اور میرے دل میں آج بھی آفتاب اقبال کے لیے عزت موجود ہے۔
یہ وہ بیان ہے جو پاکستانی سوشل میڈیا کے اس ماحول میں بالکل انوکھا ہے جہاں طلاق کے بعد عام طور پر میدان جنگ گرم ہوتا ہے جہاں الزامات کی برسات ہوتی ہے جہاں ٹی وی اسکرینوں پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔
مریم علی نے اس روایت کو توڑا اور ثابت کیا کہ عورت کا وقار اس کی خاموشی میں نہیں بلکہ اس کے متوازن اور باوقار کلام میں ہوتا ہے۔
مریم علی نے اپنے بیان میں لکھا کہ کئی لوگوں نے مجھے بے شمار مشورے دیے آفتاب صاحب کے بارے میں کھل کر بولنے اور انہیں ایکسپوز کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے سستی شہرت اور کسی کو شرمندہ کرنے کوئی شوق نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے دل میں آفتاب اقبال کے لیے عزت ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ دنیا جو مرضی کہتی رہے۔
یہ الفاظ ایک ایسی عورت کے ہیں جس نے شاید بہت کچھ سہا مگر اس کے باوجود اپنے بچوں کے باپ کے لیے دل میں نیک جذبات رکھے۔
یہ اسلامی اخلاق کا بھی تقاضہ ہے اور انسانی وقار کا بھی تقاضہ۔ جو عورت اپنے سابق شوہر کو بدنام کرنے کی بجائے اس کے لیے دعاگو رہے وہ اصل میں خود اپنی عظمت کی گواہی دیتی ہے ۔
افتاب اقبال کی سابقہ اہلیہ مریم علی کا یہ بیان ہر اس عورت کو پڑھنا چاہیے جو ٹوٹے ہوئے رشتے کے بعد خود کو بکھرا ہوا محسوس کرتی ہے کیونکہ یہ بیان بتاتا ہے کہ ٹوٹ کر بھی سنبھل سکتے ہیں بکھر کر بھی سمٹ سکتے ہیں اور دنیا کے سامنے بغیر کسی کو نیچا دکھائے اپنا سر اونچا رکھا جا سکتا ہے
An Israeli woman, released by Hamas said:
“I was afraid of being sexually assaulted, but instead, I was given a hijab to cover my body. For them, women are sacred. They told us they believed in the Qur’an and they would not harm us.”
If you believe God promised you someone else's land 3,000 years ago, you're a religious lunatic. If Muslims or Christians said God promised them the property of Jews, we'd call them terrorists or fascists. When Israel says they're owed Arab property, our press calls them victims.
VANCE: “We were right on the cusp of a major breakthrough… and then there’s a big explosion in a civilian area in Beirut, killing people who have nothing to do with Hezbollah.
That’s not acceptable.”
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کے انڈیا جو ہے وہ دریا چناب پر ڈیم بنا رہا ہے یہ سو فیصد نہیں ایک سو دس فیصد درست ہے verified انفارمیشن ہے
اب اس میں وہ کرے گا کیا
جب یہ ڈیم مکمل ہو جائیں گے تو مکمل ہونے کے بعد انڈیا کے پاس یہ کپیسٹی ہو گی وہ جب چاہے چناب کا ٹوٹل واٹر آخری قطرے تک روک سکتا ہے
اب وہ کرے گا کیا جب ہمیں ضرورت ہوا کرے گی ہماری فصلوں کو ضرورت ہوا کرے گی وہ روک لے گا اور جب ہمیں ضرورت نہیں ہوا کرے گی وہ ایک دم چھوڑا کرے گا جس سے یہاں پر سیلاب آ جایا کرے گا یعنی ہم ایک ہی سال میں کبھی قحط سالی میں ہوں گے اور کبھی سیلاب کی نظر ہوں گے!
رانا ثنااللہ
🇱🇧🇮🇱 Israel Katz, Israeli Defense Minister, brags about war crimes in Lebanon on Channel 14:
“We have flattened the entire first line of villages in southern Lebanon, all the houses have been destroyed. The residents will never see them standing ever again. The 200,000 Lebanese residents who were in the 'security zone' are never returning again. Not one of them will ever return to southern Lebanon,"