"I'm not a politician. But just to see the way he's (Imran) being treated today is shocking. You know, no one treats a human being like that. On humanitarian grounds, I don't think he deserves what he's getting," @RaviShastriOfc said.
https://t.co/M7dz8oxWxm
بطور صحافی میں وفاقی حکومت اور کسی صوبے کی لڑائی پہلی دفعہ نہیں دیکھ رہا کچھ سال پہلے شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کو جائز قرار دیتے تھے اسوقت کے ایک وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے کیپیٹل ٹاک میں شہباز شریف کی صوبائی حکومت پر وہی الزامات لگائے جو آج کل وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف لگاتی ہے ۔ شہباز شریف اپنے دفاع میں وہی کچھ کہہ رہے تھے جو آج سہیل آفریدی کہتے ہیں صرف کرادر اور مقامات بدل چکے ہیں لیکن تاریخ وہی ہے جو بار بار اپنے آپ کو دہراتی جا رہی ہے
اس فوج کو میں نے توپیں بندوقیں ہیلی کاپٹر لے کر دیے نواز شریف
لیکن یہ پاکستانیوں کا قتل عام کر رہیں ہیں۔
نواز شریف
اس بیان پر کوئی ردعمل ؟ کوئی غم وغصہ
خواجہ آصف صاحب بتانا پسند کریں گے کہ بحیثیت وزیرِ دفاع آپ اُنہیں واپس لانے کے لیے کیوں گئے تھے؟ طالبان سے مذاکرات کے لیے جو جرگہ بھیجا گیا تھا، اُن کی فہرست جاری کی جائے کہ اُن میں پاکستان تحریکِ انصاف سے کون کون شامل تھا اور انہیں کس کے کہنے پر طالبان سے مذاکرات اور دوبارہ بسانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟
"دیکھیں مسئلہ غیر قانونی یا نا قانونی کا نہیں ہے—اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، یہ بڑے بدقسمت ہیں۔ ہمارے جتنے بھی جج ہیں، چیف منسٹرز ہیں، یہ سب 60 سال سے اوپر ہو چکے ہیں اور ان کے پاس 15 سے 20 سال باقی ہیں۔ اس 15-20 سال کو قبر سے پہلے ٹھیک کرنے کے لیے یہ اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ ان سے بڑا بدقسمت کون ہوگا؟ اللہ نے ان کو اس قوم کو ٹھیک کرنے کا موقع دیا تھا لیکن یہ الٹے راستے پر چل پڑے۔"
"جہاں تک خان صاحب اور ان کی بہنوں کا تعلق ہے، یہ تو خوش قسمت ہیں۔ جیل میں بندہ کوئی گناہ نہیں کر سکتا—نہ کسی کی غیبت کر سکتا ہے اور نہ جھوٹ بول سکتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ان کی غیبت ہو رہی ہے۔ جنید بغدادی نے فرمایا تھا کہ 'اگر میں کسی کی غیبت کروں تو اپنی ماں کی کروں، تاکہ میرے گناہ انہیں مل جائیں اور ان کی نیکیاں مجھے مل جائیں'۔ تو سوچیں اس وقت خان صاحب کو کتنی نیکیاں مل رہی ہوں گی! اور ان کی بہنیں اس جدوجہد کو سعادت اور فخر سمجھ کر کر رہی ہیں، کوئی سزا سمجھ کر نہیں—اور جو لوگ اسے سعادت سمجھتے ہوں، انہیں آپ کبھی شکست نہیں دے سکتے۔"
"یہ لوگ جتنا چاہے ظلم کر لیں، ہمارے درجات ہی بلند ہو رہے ہیں۔ آج سے 500 سال پہلے بھی فرعون جیسے لوگ تھے، اب وہ کہاں ہیں؟ اور 500 سال پہلے خان صاحب جیسے لوگ بھی تھے جو فرعونوں کے خلاف لڑتے تھے—آج 500 سال سے قبر میں ایک شخص مصیبت میں ہے اور دوسرا چین و سکون میں ہے۔ اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہمیں مصیبت والی آخرت چاہیے یا سکون والی۔ کیا یہ لوگ اللہ کو ناراض کر کے اپنی دنیا یا آخرت بنا سکتے ہیں؟ ایک آدمی نے 100 قتل کیے تھے، لیکن جب اس نے سچی توبہ کی تو اللہ نے اسے معاف کر دیا۔ اس لیے میری ان کے لیے کوئی بددعا نہیں ہے، بلکہ میں یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق دے دے۔"
عمران خان کے بہنوئی اور ڈاکٹر عظمی خان کے شوہر احد خان کی گفتگو
Imran Khan’s cousin, Qasim Zaman, a completely non-political individual who has never made public statements or participated in politics, has now also been detained under the draconian MPO. Mass human rights violations continue as Pakistan continues its free fall into what they proudly call a “hard state.”And all of this is happening while UN Secretary-General @antonioguterres is visiting Pakistan.
Surely Imran Khan’s treatment and fundamental rights must be on the agenda, but so too must the detention and persecution of his family members, party leaders and workers.
Pakistan is not being “reset.” It is being dismantled.
رجیم چینج کے بعد پی ڈی ایم حکومت کے سامنے افغانستان سے طالبان کو واپس لانے کے منصوبے کو ڈی جی آئی اور آرمی چیف نے رکھا اور انہوں نے بغیر کسے چوں چرا کے لبیک کہا۔ وہی پلان جس پر عمران خان اور ہم نے ابسولوٹلی ناٹ کہا تھا۔ اگلے ہفتے افغانستان ایک وفد بھیجا گیا جس کو عوامی نمائندہ وفد کہا گیا۔ میں نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھائے کہ منتخب اراکین میں سے کوئی نہیں گیا کس کو ہمارے فیصلے کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے؟
جولائی ۲۰۲۲ کے آخری دن افغانستان سے طالبان کی پہلے تشکیل ہوئی۔اگست کے پہلے ہفتے میں جب سوات اور دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تو ہم نے مجبوراً عوامی طاقت سے ان کو واپس دھکیلا۔ پہلے آئ ایس آئی اور فوج نے دھمکیاں دیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ، پھر جب عوامی طاقت کے سامنے بے بس ہوئے تو مجھے الیونتھ کور،آئی ایس پی آر اور آیی ایس آیی سے فون کروایا کہ ”دیکھیں مراد صاحب وعدے کے مطابق آپ کا سوات کلییر ہوگیا ہے آپ نے باقیوں کو ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا”۔ٹھیکا تو ہم نے لے رکھا تھا، کہا جب تک یہ واپس نہیں جائیں گے مظاہرے جاری رہیں گے۔ اور ۱۶ اگست ۲۰۲۲ کو آخری بندہ بھی سرحد پار چلا گیا۔ آئ ایس پی آر نے اس کا کریڈٹ لیا۔ پریس ریلیز جاری کی۔
اس کے بعد تو امن ہونا چاہئے تھا ناں؟
سرحد پر باڑ لگی ہوئی تھی، سیکورٹی یقینی بنانی چاہئے تھی ناں؟
لیکن ستمبر ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پھر سے ان کو لانے کا انتظام کیا گیا۔ اس دفعہ دونوں جانب سے کالز موصول ہوئیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ۔ ہم کیسے رُک سکتے تھے؟ ہماری تو زندگیوں کا سوال تھا۔ عوام کو موبلائز کیا پھر بھی سنوائی نہیں ہوئی۔ پنڈی میں مظاہرہ کیا اور اگلے دن پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ فوج کی گاڑیاں آئیں، پولیس کو ہٹایا اور ان کو واپس افغانستان کی سرحد پر چھوڑ آئے۔ مجھے وارن کیا کہ یو ہیو کراسڈ دی لائن۔۔ کون سی لائن؟ امن قائم کرنا بھی فوج کی ریڈ لائن ہوگئی؟
پھر فیصلہ ہوا کہ مالاکنڈ والے تو آنے نہیں دے رہے لہذا جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے۔ یہ اطلاع ملتے ہی میں نے اسلام آباد میریٹ میں دہشت گردی کی واپسی اور نئی لہر کے عنوان سے میڈیا، تجزیہ نگاروں، سفارت کاروں، سابق پولیس افسران اور سیکورٹی ایکسپرٹس کے لیے سیمینار رکھا کہ پالیسی بدلیں ورنہ پھر جنازے اٹھیں گے۔ جنوبی اضلاع سے تحریک اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ پھر یوں ہوا کہ بغاوت، غداری، دہشت گردی کے مقدموں کے بعد سر کی قیمت بھی لگا دی اور یہ سب نو مئی سے پہلے ہوا۔ پھر اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نو مئی کا سہارا لیا گیا۔
اب بجائے اس کے کہ اپنی غلط پالیسی پر معافی مانگ کر پختونخواہ اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں، علماء، طلباء، وکلاء، سول سوسائٹی، میڈیا ودیگر کے جرگے میں بنی پالیسی اپنا کر دنوں میں امن حاصل کیا جائے اپنی اسی ڈالری جنگ کا ایندھن اپنے جوانوں اور شہریوں کو بنایا جا رہا ہے۔
عمران خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والا مارچ اب صرف عمران خان کی رہائی تک محدود نہیں رہا۔ واضح ہوا کہ جو میڈ اپ دہشت گردی لائی گئی اب ایک مرتبہ پھر آپ کو اس کا ایندھن بنانے کے لیے عمران خان کی حکومت صوبے میں ختم کرکے وہی کھیل شروع کرنا ہے۔
پورے پختونخواہ کو پیغام دو اگر بے گھری سے بچنا ہے۔ آئی ڈی پی کیمپس کی زندگی نہیں چاہئے، مارٹر گولوں، لڑاکا طیاروں اور توپ کی گولیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ اپنے ہی گھر میں گلے میں شناختی پٹے ڈال کر چیک پوسٹوں پر ذلیل ہونے کے بعد، ان گھس بیٹھیوں کے اس سوال کا سامنا نہیں چاہتے کہ ”تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں کو جارہے ہو؟“ تو پوچھو کہ تم ہو کون ہمارے فیصلے کرنے والے؟ للکارو کہ ہم اپنے گھروں سے بے گھر نہیں ہوں گے۔ نکلو۔ کہ یہ لڑائ آج سے پہلے بھی صرف عمران خان کی نہیں تھی۔ اور آج تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ داؤ پر لگی یہ زندگیاں تمہاری ہیں۔ جیل میں بیٹھا عمران خان، تمہارے ووٹوں سے بنی اس کی یہ حکومت تو محض ان خون آشام درندوں کے مقابلے میں تمہاری آخری ڈھال ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو کھلا خط۔۔
“فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے!!
ہمارے فوجی پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔
سب سے بڑی وجہ 2024 کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی سر عام چوری ہے جس نے عوام کے غصے کو ابھارا ہے۔ جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے کر “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی-
دوسری وجہ چھبیسویں آئینی ترمیم ہے۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ میرے مقدمات "پاکٹ ججز" کے پاس لگانے کے لیے ناصر جاوید رانا نے فیصلے کو ملتوی کیا۔ عدالتوں میں جاری "کورٹ پیکنگ" کا مقصد یہی ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات من پسند ججز کے پاس لگا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیے جا سکیں۔ اس سب کا مقصد میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلے، انسانی حقوق کی پامالی اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔
تیسری وجہ "پیکا" جیسا کالا قانون ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر پہلے ہی قبضہ کیا جا چکا ہے، اب پیکا کی صورت میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو 1.72 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے۔
چوتھی اہم وجہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت پر ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ہمارے لیڈران اور کارکنان کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد چھاپے مارے گئے، 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کی گرفتاریاں کی گئیں، انہیں اغوا کیا گیا، لوگوں کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور تحریک انصاف کو کچلنے کی غرض سے مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے جس نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
پانچویں بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بدولت معیشت کا برا حال ہے جس نے عوام کو مجبور کر دیا ہے اور وہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ معاشی عدم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔ گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں دہشتگردی کا خوف ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری صرف تب آتی ہے جب ملک میں عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت قائم ہو اس کے علاوہ سب کلیے بے کار ہیں۔
چھٹی بڑی وجہ تمام اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انتقام کی غرض سے تحریک انصاف کو کچلنے کا کام کرنا ہے۔ میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔ پرسوں اے ٹی سی کے جج نے عدالت میں میری اہلیہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اس کے باوجود کے وہ آنا چاہتی تھیں کسی نادیدہ قوت نے اس کو سبوتاژ کیا۔
بحیثیت سابق وزیراعظم میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔ میری پالیسی پہلے دن سے ایک ہی ہے یعنی فوج بھی میری اور ملک بھی میرا۔ ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو، اور اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔”
13 days.
For 13 days, my mother Aleema Khan (68) and aunts Dr Uzma Khan (66) and Noreen Niazi (72), have been detained without access to their family or lawyer.
We have pursued every available avenue — the courts, the Home Secretary and the Deputy Commissioner. Yet we remain unable to see them, speak to them, or independently confirm their wellbeing.
We are now forced to return to the Lahore High Court again for something that should never have required repeated litigation: the right to have access to family and legal counsel.
@DrUzma_KhanPK@Noreen_KhanPK@Aleema_KhanPK@ImranKhanPTI
🇵🇰 13 DAYS SINCE the detention of IMRAN KHAN'S THREE SISTERS, their family still hasn’t been allowed to see them!!
Aleema Khan, 68, Dr Uzma Khan, 66, and Noreen Niazi, 72, were detained for 30 days under Pakistan’s Maintenance of Public Order law ahead of PTI’s planned MARCH.
Now Aleema’s son Shershah says the family has gone through the courts, the Home Secretary and the Deputy Commissioner without gaining access to the women or being able to independently confirm their wellbeing.
The state says these are lawful preventive detentions. The family is now going back to the Lahore High Court simply asking to see the detainees and their lawyers.
Whatever the political justification offered for detaining them, there is a much simpler issue here.
Their children want to see their mothers.
They want to know they are safe.
Writer: Oliver
”جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے- پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں“
عمران خان (یکم جولائی، ۲۰۲۵)