ایسے وقت میں کہ جب دنیا امریکہ و اسرائیل کے ہاتھوں لاکھوں مظلوموں کے قتلِ عام کو دیکھ چکی ہے، وزیراعظم کی جانب سے امریکی صدر کیلئے مسلسل خوشامدی رویہ تمام غیرت مند پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا رہا ہے۔ مظلوموں کا دفاع اور ظالم سے نفرت ہماری انسانیت، غیرت اور دین کا تقاضا ہے۔
غزہ والوں نے کہا ہے ہم آہستہ آہستہ مر رہے ہیں کوئی اسرائیل کو روکنے والا نہیں💔
شاید ان کو خبر نہیں ہوئی کہ ان کو بچانے والے سب اسرائیل کے ساتھ دوستیاں بڑھانے کے راستے اور لچک تلاش کر رہے ہیں۔
#فلسطین
#پاکستان کے بعد اب #ترکیہ نے بھی کہا ہے کہ ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں اگر سنہ ۱۹۶۷ والی فلسطینی ریاست تسلیم کی جائے۔
اسحاق ڈار بھی اس سے قبل ابراہیمی معاہدے کے بیان پر لچک دکھانے کا کہہ چکے ہیں۔
یہ سب کے سب فلسطینیوں کو 22% زمین پر فلسطینی ریاست بنانے کے طرفدار کیوں ہیں؟
#فلسطین تو پورا 100% فلسطینیوں کا تھا سنہ 1948 میں ناجائز وجود صہیونی ریاست کا قائم کیا گیا۔
یہ 1967کی ریاست کی بات کرنا فلسطین کے ساتھ کوئی وفاداری یا حمایت نہیں بلکہ فلسطین کاز کو دفن کرنے کے مترادف اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چند خوشامدی ٹولہ سوشل میڈیا پر ان بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے جبکہ فلسطین کا دفاع کرنے والی قوتیں اور شخصیات خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
یاد رکھیں قائد اعظم محمد علی جناح فلسطین کی تقسیم یعنی فلسطین پر صہیونی ریاست کے قیام کے مخالف تھے۔ یہی واضح اصولی پالیسی ہے۔
ابراہیمی معاہدے کو مسترد کرنا اچھا اقدام ہے لیکن 1967 کی سرحدوں کی بات خود بخود اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح #فلسطین کی تقسیم کے خلاف تھے۔
افواہیں کوئی نہیں پھیلا رہا ہے جب پاکستان کہتا ہے کہ سنہ ۱۹۶۷ کی سرحدیں یعنی دو ریاستیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ پاکستان کا اصولی موقف نہیں ہے۔ کیونکہ اصولی موقف میں اسرائیل ایک ناجائز وجود ہے۔
سنہ ۶۷ والے موقف میں اسرائیلی قبضہ اور قتل و غارت سب کو تسلیم کیا جانے کا اشارہ ہے۔
جس تناسب سے پٹرولیم مہنگا کیا تھا اس تناسب سے سستا کیوں نہیں ہو سکتا ؟
137 روپے بڑھایا تھا تو 137 روپے سستا کیوں نہیں کیا ؟
55 روپے بڑھ سکتا ہے تو 55 روپے کم کیوں نہیں ہو سکتا ؟
عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے
پاکستان کے وزیر خارجہ جناب @MIshaqDar50 صاحب کے مسئلہ #فلسطین پر موقف سے متعلق رد عمل
#پاکستان کے غیور عوام، اہل دانش اور محبانِ وطن وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اس حالیہ بیان پر گہری تشویش اور شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں جس میں انہوں نے 1967ء کی سرحدوں کے تحت فلسطین کی تسلیم شدگی کو پاکستان کی پالیسی میں کسی بھی ممکنہ لچک کے لیے شرط قرار دیا ہے۔
وزیر خارجہ کا یہ مبہم اور معذرت خواہانہ اندازِ گفتگو دراصل بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تاریخی فلسطین پالیسی سے انحراف کی ایک کڑی اور معاہدہ ابراہیمی کے پس منظر میں بیرونی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا عندیہ معلوم ہوتا ہے، جس کی پاکستان کا ہر شہری پرزور مذمت کرتا ہے۔
بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان سے بھی پہلے، اور بعد میں بھی، اسرائیل کو ایک ناجائز اور غاصب ریاست قرار دیا تھا۔
قائد اعظم کا موقف کسی سفارتی مصلحت یا جغرافیائی سرحدوں کا محتاج نہیں تھا، بلکہ وہ اسے ایک خالص انسانی، اسلامی اور اخلاقی مسئلہ سمجھتے تھے۔
قائد اعظم نے واضح طور پر اسرائیل کو صہیونیت کا خنجرقرار دیا تھا جسے مسلم امہ کے قلب میں گھونپا گیا۔ انہوں نے اسرائیل کو مغرب کا ناجائز بچہ قرار دیا۔
قائد اعظم نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے ساتھ فلسطین کو فلسطینیوں کو وطن قرار دیا۔
وزیر خارجہ کی زبان سے 1967ء کی سرحدوں پر دو ریاستی حل کی بات کرنا اور پھر کسی لچک کی گنجائش نکالنا، فلسطینی شہداء کے خون سے وفاداری نہیں بلکہ سودے بازی کی بو دیتا ہے اور پاکستان کی نظریاتی پالیسی سے انحراف کا اشارہ ہے۔
1967ء کی سرحدوں کو بنیاد بنانا دراصل 1948ء میں فلسطینیوں کی 78 فیصد سے زائد زمین پر اسرائیلی قبضے کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کا سرکاری موقف ہمیشہ پورے فلسطین کی آزادی اور بیت المقدس (یروشلم) کے دارالحکومت ہونے پر مبنی رہا ہے۔ اس اصولی موقف میں کسی بھی قسم کا ابہام پیدا کرنا یا لچک کا لفظ استعمال کرنا قائد اعظم کے اصولوں اور پاکستان کے آئین کی روح کے منافی ہے۔
وزیر خارجہ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امت مسلمہ غزہ میں جاری بدترین نسل کشی پر سراپا احتجاج ہے۔
معاہدہ ابراہیمی کے سائے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پسِ پردہ مہم جوئی کی بازگشت پاکستانی عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔
ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام کسی بھی ایسے بین الاقوامی معاہدے یا دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہیں جو مظلوم فلسطینیوں کی قربانیوں پر پانی پھیرنے اور ایک غاصب صیہونی حکومت کو مشروعیت (Legitimacy) دینے کے لیے تیار کیا گیا ہو۔
پاکستان کی عوام کے دل فلسطینی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ غزہ کے ہسپتالوں پر گرنے والے بم ہوں یا معصوم بچوں کی شہادتیں، پاکستانی عوام نے ہمیشہ اسے اپنا ذاتی دکھ مانا ہے۔
اسحاق ڈار صاحب کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جس منصب پر بیٹھے ہیں، وہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی غیرت اور حمیت کا امین ہے۔ عوام حکومتِ پاکستان سے یہ توقع نہیں رکھتی کہ وہ مبہم بیانات کے ذریعے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی چور دروازہ تلاش کرے، بلکہ عوام ایک ٹوک اور واضح انکار کا مطالبہ کرتی ہے۔
وزیر خارجہ کا بیان پاکستانی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستونوں کو ہلانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
ہم حکومتِ پاکستان اور وزیر خارجہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس معذرت خواہانہ اور مبہم بیان پر قوم سے معافی مانگیں۔
سفارتی زبان میں لچک جیسے خطرناک الفاظ کے استعمال سے فوری تائب ہوں اور دنیا بھر کے سامنے ایک بار پھر دو ٹوک الفاظ میں قائد اعظم کے اس فرمان کا اعادہ کریں کہ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔
عید غدیر :
(یوم اعلان ولایت مولا علی علیہ السلام )
فرقہ پرست مولوی کہتے ہیں
یہ تو شیعہ مناتے ہیں ؟؟
صرف شیعہ ہی کیوں مناتے ہیں ؟؟
سنی کیوں نہیں مناتے ؟ ؟
کیا رسول اللہ ﷺ اور مولا علی علیہ السلام صرف شیعوں کے ہیں ؟؟
کیا وہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بھی شیعہ تھے کہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے مولا علی علیہ السلام کی ولایت و امامت کا اقرار کیا ؟؟
تمام اولیائے و صوفیاء کرام کہ جو براہ راست مولا علی علیہ السلام کی امامت کے مقلدین ہیں
کیا وہ سب بھی شیعہ ہیں ؟؟
تمام علمائے ربانیین ، مشائخ و صالحین و مومنین جو من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ کے فرمان پہ مکمل ایمان رکھتے ہیں
کیا وہ سب بھی شیعہ ہیں ؟؟
اللہ کے بندو !
فرقہ پرستی سے باہر نکلو
اللہ کی واحدانیت ،
رسول اللہ ﷺ کی رسالت
اور مولا علی علیہ السلام کی ولایت
ان کا کسی فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے
یہ پوری انسانیت و تمام عالمین کیلئے ہے
#غدیر_خم
#عید_غدیر
#حق_علی_مولا
28 فروری کے ایران میں اعلی قیادت کے قتل عام اور بدترین جارحیت شروع کرنے سے پہلے دبئی میں ایک درجن سے زائد میٹنگز ہوئی تھیں۔ ان میٹنگز میں امریکی، اسرائیلی اور اماراتی ایجنسیوں کے سربراہان نے جنگ کا منصوبہ فائنل کیا تھا۔ جیسے لندن پلان بنا لندن میں تھا لیکن اس کی execution دبئی میں ہوئی تھی ویسے ہی ایرانی قیادت کے قتل اور جنگ کے منصوبے کو پایہ تکمیل دبئی میں پہنچایا گیا تھا۔
یہ ہیں امارات کے وہ حکمران اور ان کردار جن سے پاکستانی عہدےداران اظہار ہمدردی کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ہم تمہارے ساتھ کھڑے ہیں۔
اظہار ہمدردی تو مظلوم سے کیا جاتا ہے۔ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو کر اسے دلاسہ دیا جاتا ہے۔ ظالموں کے ساتھ کھڑا ہونے کے کیا معنی ہیں؟
لیکن یہاں کے سستے دانشوروں کو تو امریکہ منتیں ترلے کرتا نظر نہیں آ رہا وہ تو یہ ظاہر کرنے کی کوشش میں ہیں کہ ایرانی مدد مانگتے پھر رہے ہیں 🙂
گھٹیا گٹر کی پیداوار ہی ایران کو نیچا دکھا کر خوش ہو رہے ہیں ۔۔۔۔
تف ہے ان پر جو صرف بکواس کرنا جانتے ہیں
عمان مذاکرات میں پاکستان کو ساتھ نا شامل کرنا پھر اسلام آباد مذاکرات کا رکشہ مس کرنا ایران کو پھنسا چُکا ھے
بحری ناکہ بندی ایران کا بہت نقصان کر رہی اور اب ٹرمپ نے حکم دیا ھے مزید جہاز بھیجو اور ناکہ بندی سخت کرو
ایران کے 41 آئل ٹینکرز 69 ملین بیرل تیل لے کر کھڑے ہیں بندرگاہوں پر لیکن امریکی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے بندرگاہوں سے نکل نہیں پارہے ، اس تیل کی قیمت تقریبا چھ ارب ڈالر بنتی ھے ، ایرانیوں کی اپنی دوائی جب واپس امریکہ نے ان پر استعمال کی تو اب ایرانی کہہ رہے ہیں یہ دوائی تو بہت کڑوی ھے جو ہم پورے خلیجی ممالک کو کھلا رہے تھے ۔۔۔۔
وہی سکرپٹڈ بیانیا
ایک بات یہ کہ وہاں ایسی کوئی صورتحال نہیں
دوسرا یہ کہ آٹھ سالا تویل جنگ میں بھی وہ لوگ نہیں گھبرائے
وہ لوگ اللہ کی راہ میں دشمن سے جہاد کر رہے ہیں اور اللہ کا وعدہ سچا وعدہ ہے
باقی بغض کی آگ میں آپ کی خواہشات ہی ہیں
ایران کے اسوقت تقریباً تمام جہاز رکے ہوے ہیں
اس صورت میں ایران میں غذائی قلّت کا بھی خدشہ ہے۔
ایسا نہ ہو کہ ایرانی عوام خود پیٹ کی بھوک کی وجہ سے سڑکوں پر نکل آئے۔
ایرانی ملاؤں کا روایتی تکبر انہیں لے ڈوبے گا۔
The Zionist regime is destroying entire villages in southern Lebanon as Western politicians, diplomats, and journalists look away.
The collective West is your enemy.