I have full confidence that the newly appointed Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, will work in line with my vision of sustainable peace, our tribal traditions, and the aspirations of the people, to help the federal government implement an effective framework for lasting stability in the province.” 2/2
Message from former Prime Minister Imran Khan from prison - October 8th, 2025
“میں “لا الہ الا اللہ” کا ماننے والا ہوں۔ یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کے خوف اور غلامی سے آزادی دیتا ہے- میری زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے عاصم منیر کے ہاتھ میں نہیں۔ ہمارا ایمان ہی ہماری ”حقیقی آزادی“ کا ضامن ہے، کیونکہ یہ کلمہ انسان کو خوف کی زنجیریں توڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔
مجھے توڑنے کی کوشش میں مجھے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، ایک سال سے میرے ذاتی ڈاکٹر کو معائنے کی اجازت نہیں دی گئی، کئی کئی ہفتے تک اخبارات اور ٹی وی بند کر دئیے جاتے ہیں، فیملی ممبران اور وکلا تک کو ملنے سے روکا جاتا ہے- ڈیڑھ سال سے سیاسی رفقأ سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر افغانستان کی موجودہ حکومت کی مخالف لابی کو خوش کرنے کی کوشش میں کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے دور میں خطے میں قائم ہونے والے امن کو تباہ کر رہا ہے۔ جہاں ہمارے بہترین تعلقات ہونے چاہییں وہاں جان بوجھ کر حالات خراب کیے جا رہے ہیں- میرا دل اس پر بھی بہت رنجیدہ ہے کہ ہم نے کئی دہائیوں کی مہمان نوازی کے باوجود موجودہ دور میں اپنے افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے باہر نکالا ہے۔ حالانکہ وہاں زلزلہ بھی آیا ہے اور ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیئے-
علی امین گنڈاپور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ افغانستان جائیں اور ان کے ساتھ جا کر بیٹھیں اور باہمی مسائل اورامن و امان کے حوالے سے بات کریں تاکہ حالات کو مزید بگاڑ سے بچایا جا سکے۔ جعلی وفاقی حکومت کو اس بات کا جواب دینا چاہیے، مریم نواز جاپان اور تھائی لینڈ جا سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ اپنے صوبے میں امن کے لیے افغانستان کیوں نہیں جا سکتا؟
خیبر پختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف ملٹری آپریشن، ڈرون حملوں اور علاقوں سے بے دخلی کروانے کا عمل دراصل تحریک انصاف کی عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ علی امین گنڈا پور کو اس آپریشن کے خلاف بھر پور مزاحمت کرنی چاہیئے۔ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب سے تباہ حال ہے۔ اگر وہاں ڈرون حملے اور آپریشن نہ رکا تو یہ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ ہمارے کتنے پولیس اہلکار بھی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ یہ آپریشن جب تک بند نہیں ہو گا، لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا اور دہشتگردی مزید بڑھے گی۔
اس وقت پورا ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سیلاب کی وجہ سے لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ پوری قوم کو یکجا ہو کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ میں اگر جیل سے باہر ہوتا تو ضرور فنڈ ریزنگ اور ٹیلی تھون کرتا مگر اب اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ وہ بڑھ چڑھ کر اور دل کھول کر ریلیف کے کاموں اور سیلاب متاثرین کی امداد میں حصہ لیں۔
بلوچستان میں سیاسی جلسے پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج میں پوری تحریک انصاف کو شرکت کرنی چاہیے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو
(8 ستمبر 2025)
“لوگوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے خوف میں مبتلا ہیں۔ اسی خوف کے باعث ہم پر ظلم بڑھایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں صرف اس امید کے ساتھ ذہنی اذیت دی جا رہی ہے کہ میں ٹوٹ جاؤں اور اپنے نظرئیے سے پیچھے ہٹ جاؤں۔ مجھے توڑنے کی کوشش کا مقصد عوام کی آواز دبانا ہے۔
یہ وہی طرز عمل ہے جو سقوط ڈھاکہ کے وقت یحیٰی خان کا تھا۔ اس نے بھی صرف اپنے اقتدار کی طوالت کی کوشش میں اندھا ہو کر عوامی آواز کو دبانے کے لیے ہر قسم کی فسطائیت بپا کی اور بالآخر ملک کو توڑ دیا۔ یہ ساری تفصیلات حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں موجود ہیں۔ عاصم منیر بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ملک میں ظلم کر رہا ہے اور ملک کو کمزور کر رہا ہے۔
1971 اور موجودہ دور میں بہرحال فرق صرف یہ ہے کہ آج عوام باشعور ہے۔ سوشل میڈیا نے تمام حقائق عوام پر واضح کر دئیے ہیں اور عوام ظلم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سیکھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ظلم کا نظام جلد ختم ہو کر رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے۔
ملک میں سیلاب کی وجہ سے ہر جانب تباہی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے اب سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی فصلیں، مال مویشی سب ڈوب گئے ہیں۔ جس سے زرعی معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے اور اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ ایسے میں اہم ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کی امداد کے لیے بلا تفریق سب اپنا کردار ادا کریں۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو اس مقصد کے لیے ضرور ٹیلی تھون اور فنڈ ریزنگ کرتا۔ محض حکومتی ادارے اتنی بڑی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے بلکہ ہر ایک شخص کو اپنا حصہ ڈال کر من حیث القوم اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرنا ہو گی۔
بلوچستان میں اختر مینگل کے والد کی برسی پر حملے کی شدید مذمت اور اختر مینگل سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہاں پر عوامی نمائندگان کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 8 ستمبر کو محمود اچکزئی کی ہڑتال کی کال پر تحریک انصاف بھر پور شرکت کرے۔ بلوچستان کی عوام کو دہشتگردی اور ہائبرڈ ماحول سے نجات ملنی چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے وہاں آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جسے خیبرپختونخوا حکومت کو فوری طور پر بند کروانا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں لہٰذا اس آپریشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کر کے اسے رکوائیں۔ قبائلی اضلاع میں ہونے والے ڈرون حملے بند کروانا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔
افغانستان میں زلزلے پر میرا دل بہت رنجیدہ ہے اور مجھے دکھ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو زبردستی ملک سے باہر نکال رہے ہیں جبکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو بھی اپنے افغان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (5 ستمبر، 2025)
“I appeal to the people of Pakistan to take part, with their customary zeal, in the ongoing rescue and relief efforts amidst the tragic floods engulfing the country. Pakistan Tehreek-e-Insaf will also play its role for the flood-affected without any discrimination.
I have always endeavored to raise awareness regarding climate change and the devastation it brings. Earlier, we launched the “Billion Tree Project” in Khyber Pakhtunkhwa, and upon coming into the federal government, initiated the “Ten Billion Tree Project.” Alongside this, we began work on several vital environmental protection initiatives, including small, medium, and large-scale dams as well as national parks, which have helped mitigate ecological destruction. Trees are the true guardians of the environment. Rapid progress on such projects must be made a national priority.
My heart is deeply grieved by the loss of lives and devastation caused by the earthquake in Afghanistan. We stand firmly with our Afghan brothers in this hour of trial. I also express profound concern and sorrow over the forced expulsion of Afghans from Pakistan.
Drone strikes and military operations against our own people in Khyber Pakhtunkhwa must come to an immediate halt. Chief Minister Ali Amin Gandapur and the provincial government must vigorously resist such actions. Those regions are already reeling under the destruction of floods; in such circumstances, launching operations, drone attacks, or displacements is akin to rubbing salt into fresh wounds.
In light of my directions, the decision of Pakistan Tehreek-e-Insaf to boycott the by-elections is commendable. The candidates who have withdrawn their nomination papers also deserve appreciation, as do the members who have resigned from the parliamentary committees. I further instruct them that if they have any vehicles or privileges still in use, they must return them immediately. The final date of the Peshawar rally shall be decided in consultation during September, keeping in view the flood situation.
For three years, despite enduring oppression and coercion, and despite being on the side of truth, I called for dialogue in the national interest. Yet, political vengeance was taken to its extreme against me and my family. Our people were fired upon with live bullets, and even our Opposition Leader in the Parliament was disqualified. No space for dialogue remains after such actions.
They may imprison me or whomever they wish from my family but neither shall I retreat from my stance, nor will I bow before them.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation in Adiala Jail - September 2, 2025
@Aladeen_Pro اس پاگل کا بغض نہیں ختم ہونا مرشد سے 😒
جاہل آدمی صرف 3.5 سال خان صاحب کی حکومت رہی ہے اور تم جیسے ہزاروں بے نقاب ہو گئے ہیں جو عوام کو اپنا چورن بیچ رہے تھے انقلاب کا
@Itx_Wahab123 ہمیں اپنی غلطیوں پر مطیع صاحب سے معذرت کرنی چاہیے ُ۔کیونکہ جب ہماری حکومت تھی وہ تب بھی اسٹیبلشمینٹ کی مداخلت کو غلط کہتے تھے اور آج بھی-
پر تب ہمیں وہ بہت برے لگتے تھے لیکن یہ بات سچ ہے کے وہ ایک بہت اچھے صحافی ہیں اس لیے ان کا اس سہیل وڑائچ سے کوئی مقابلہ نہیں
@KhSaad_Rafique سب لوگ ایک جیسے ہی ہو تم ابھی کل جعلی وزیراعظم سے ملاقات کی ہے آپ نے کبھی آپ کے ضمیر نے یہ نہیں آواز دی کے عوام کے ووٹ سے حکومت بناتے ہیں ناکے فارم 47 سے