”میری تینوں پھو پھو اور کزنز جیل میں نہیں، بلکہ لاپتہ ہیں۔ انہیں نامعلوم مقامات پر رکھا گیا ہے، کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ناقابلِ تصور ہے۔ دنیا کو پاکستان میں جاری اس صورتحال پر نظر ڈالنی ہوگی۔“
قاسم خان
#PakistanUnderFascism
”میرے والد ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جسے اقوامِ متحدہ (UN) نے ’تشدد‘ قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کا کہنا ہے کہ انہیں غیر انسانی حالات میں بلا جواز حراست میں رکھا گیا ہے۔ حکومتی نظام کی جانب سے میری پھوپھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
اس ملک میں کوئی بھی اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار نہیں کر سکتا۔ یہاں فوجی آمریت اور ایک ظالمانہ نظامِ حکومت ہے۔ دنیا کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔“ ��� @CBCNews کے ساتھ @Kasim_Khan_1999 کا انٹرویو۔
#PakistanUnderFascism #FreeImranKhan
🚨🚨🚨 It has now been confirmed by multiple sources that @ImranKhanPTI’s sisters have been on hunger strike in prison for the past 48 hours, protesting their alleged illegal detention and the reported maltreatment of women prisoners. The family has also reportedly been denied access to them.
This is a video the 10-year-old son of PTI Member of the National Assembly Zubair Khan Wazir made from the bathroom, where he was locked in as his father was being abducted by intelligence agencies. The women of the family inside the home were also violently dragged.
Pakistan has had dictators rule in the past, but none have targeted children and families this way. #AsimLaw
Ali Bilal unarmed & our dedicated & passionate PTI worker murdered by Punjab police. Shameful, this brutality on unarmed PTI workers who were coming to attend election rally. Pakistan is in the grip of murderous criminals. We will file cases against IG, CCPO & others for murder.
4 اکتوبر کو انشاءاللہ عوام کا سمندر سڑکوں پر ہوگا۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔ ہمارے کارکن پُرامن لانگ مارچ کے لیے بیتاب ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں 24 گھنٹے کی ڈیدلائن سے ہمارے لاکھوں کارکن سڑکوں پر ہونگے۔ انشاءاللہ۔
نی عظمی توں مارچ نوں چھڈ۔۔میاں داود ایڈووکیٹ نے تواڈی سب دی ماں دی ریڈ لائن اڑا کے رکھ دتی اے۔۔ نی مر جانی اے تے شریفاں دی نوکرانی اے۔۔دس نی توں اس دا جواب کیوں نہیں دیندی؟؟
Make your contribution. Leave a lasting dedication.
Introducing the Virtual Donor Wall- Shaukat Khanum Karachi, a digital space where you or a loved one can become part of #ShaukatKhanumKarachi
Donate now: https://t.co/vCgTW79tCU
#SKMCH#VirtualDonorWallSKMKarachi
ھمارا علاقہ ایک ھے۔ ھم ایک دوسرے کے سیاسی مخالف ھیں لیکن اب ان کے ساتھ جو ھو رہا ھے یہ ظلم ھے۔ میں اور میرا خاندان اس کی بھرپور مزمت کرتے ھیں یہ ساست نہی ھے۔
My dear Ama, couldn't be more proud. Honoured to be in the same jail as you. Even without seeing you, I feel your love and protection, your shade on me.
Ya Allah, protect my parents and entire family, grant us sabr and never leave us alone.
حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
I’ve been instructed to call on the public not to attempt to march or protest nearby Adiala jail on 27 March. I’ve heard from sources that this may be used as an excuse for the establishment to launch a “counter” assault on the jail (Which my father is being held in), which could endanger his life. Please do not give them any reasons for “accidents” to happen to my father during the protest.
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی ح��اظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ��ے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
سیکسورٹی فورسز میرے گھر میرے بھائیوں، بھتیجوں کے گھر میں داخل ہو چکی ہے۔ گرانے کے لئے مشینری بھی ہمراہ ہے۔ کوئی ایک جواز دے دیں، گرانے کا۔ پورے پاکستان کو اپنی زمین ڈکلیئر کرو گے؟
اپنے آخری سانس تک نہیں جھکوں گا۔ یہیں بیٹھا ہوں۔ تمہاری دہشتگردی مجھے نہیں جھکا سکتی۔
صابر نام کے اس پاکستانی کی کہانی بہت ہی inspirational ہے۔ اس کہانی کو سُن کر پتہ لگتا ہے کے کتنے مضبوط اعصاب کا مالک ہے صابر۔ اور کتنا دلیر ہے کہ کسی کا کوئی جملہ زندگی میں اسکو ت��ڑ نہیں سکا۔
عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
پاکستان کے حقیقی وزیراعظ�� عمران خان
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
”میرے کزنز اور خالاؤں کو رات کے اندھیرے میں، نقاب پوش مسلح افراد نے ان کے گھروں سے اُٹھا کر نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا، حالانکہ ان پر کوئی الزام یا مقدمہ نہیں۔“
”یہ لوگ میرے والد کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔ کسی بھی قسم کا احتجاج ان کے اقتدار کیلئے خطرہ بن جاتا ہے۔“
”ان میں ذرا بھی ان��انیت نہیں، نہ ہی ان میں کوئی شرافت یا عزتِ نفس باقی ہے۔ یہ مردوں، عورتوں، حتیٰ کہ بچوں کو، چاہے کوئی بھی ہو، اٹھا لے جاتے ہیں۔“
”میرے والد کو روزانہ 23 گھنٹے سے بھی زیادہ قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا انسانی سلوک نہیں کیا جا رہا۔“
”یہ میرے والد کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی انہیں قتل کرنے کی کوشش کی اور اب ایک کوٹھڑی میں انہیں آہستہ آہستہ گھٹنے پر مجبور کرنے اور ذہنی اذیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک انتقامی مہم ہے، جس کا مقصد انکی جان لینا اور ان کے اردگرد موجود ہر آواز کو خاموش کرنا ہے۔“
”ہم نے جنوری میں اپنے ویزوں کیلئے درخواست دی تھی، لیکن حکومت اس کا جواب دینے سے انکاری ہے۔ وہ واضح طور پر چاہتے ہیں کہ ہم NICOP کیلئے درخواست دیں تاکہ ہم پاکستانی شہری کی حیثیت سے وہاں جائیں اور پھر وہ ہمیں گرفتار کر سکیں۔“
”حکومت کو لگتا ہے کہ ان کے پاس مکمل اختیار ہے۔ اگر ہم NICOP پر پاکستان جائیں تو وہ بہت آسانی سے ہمیں قتل کر سکتے ہیں یا جیل میں ڈال سکتے ہیں۔“
”میں اپنے والد سے ملنا چاہتا ہوں، یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ وہ خیریت سے ہیں۔ اس وقت میں انہیں دیکھنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔“
قاسم خان
#PakistanUnderFascism
My mother, Aleema Khan @Aleema_KhanPK and my aunts, Dr Uzma Khan @DrUzma_KhanPK and Noreen Niazi @Noreen_KhanPK , remain behind bars.
Their only crime is refusing to abandon their brother, Imran Khan @ImranKhanPTI throughout his imprisonment — a detention the UN Working Group on Arbitrary Detention found to be arbitrary and in violation of international law, and called for his immediate release.
For three years, they have stood outside prisons and courtrooms, enduring everything from scorching heat exceeding 45°C to near-freezing conditions, demanding justice and the rule of law.
They have endured tear gas, chemical-laced water cannons, repeated arrests and relentless intimidation. Yet no amount of pressure could silence them or force them to step aside. They stood their ground. They refused to abandon their brother.
Since their latest imprisonment, they have been denied access to their family and legal counsel. They spent three years demanding justice for their brother. Now, like him, they find themselves denied the very rights they are fighting for.
Standing by their brother is not a crime.
Raising their voice for him is not a crime.
Demanding justice and the rule of law is not a crime.
Their detention must end.