@hamzaabashir@MuneebA83070499@iabdullah278 Yes ur. Loans r taken to feed exploding population who bring them into world saying ye apna rizq layen gay. Each and every one of us takes loans from imf
Traditional morals have been framed by people who were unhappy, or who felt that if they allowed themselves to be happy, they would be doing something wrong.
@osmanafridi_02@moeedahmed A pukhtun is raised in a culture where being happy is a big crime. We see that in afghanistan where happiness in all its forms is strictly banned and a death sentence. U only love misery but love a visa to a secular country anyways
@J_K_IN_ITALY@junoondigitalpk Secular italy mein beth ke munafiqat mat karo. Jis tarah tum paisay aur lifestyle ke liye europe ja saktay ho ussay bi apne life ke faislay lene ka ikhtyar hai
میرے والد صاحب کہا کرتے تھے: “ننانوے نیکیاں برباد، ایک گناہ لازم۔”
جب پنجاب میں سی سی ڈی (Crime Control Department) بنی اور اس نے اپنے آپریشنز شروع کیے تو ابتدا میں بھی اس پر تنقید کے نشتر برسائے گئے تھے، اور آج بھی جب کوئی افسوسناک واقعہ پیش آتا ہے تو وہی طبقہ ماورائے عدالت قتل اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ دوسروں کو جج کرتے وقت اکثر ایک بہت بلند اخلاقی چوکھٹے (high moral pedestal) پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہم چیزوں کو آئیڈیلزم کے پیمانے پر پرکھتے ہیں، جبکہ عملی دنیا ہمیشہ ideal نہیں بل��ہ realism اور practicality پر چلتی ہے۔
ذرا دو سال پیچھے جائیں۔ پنجاب میں organized crime gangs، snatching، target killing، contract killers، armed robberies یہ سب روزمرہ حقیقت تھی۔ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کے دوستوں یا عزیزوں میں کسی کے ساتھ snatching نہ ہوئی ہو۔ خود میرے ساتھ فراڈ اور snatching کے واقعات ہوئے، میرے اردگرد لوگوں کے گھروں میں وارداتیں ہوئیں، یہاں تک کہ ہمیں اپنے گھروں میں ہتھیار رکھنے پڑے، security systems install کروانے پڑے، اور ہر وقت یہ خوف رہتا تھا کہ اگلا نمبر شاید ہمارا ہو۔
آج صورتحال یہ ہے کہ لوگ کئی علاقوں میں دروازے کھلے چھوڑ کر سوتے ہیں اور اس تبدیلی کے پیچھے اگر کسی ایک ادارے کا سب سے بڑا کردار ہے تو وہ CCD ہے۔
CCD نے پنجاب کے بدترین criminal gangs، organized crime networks اور hired killers کے پورے ecosystem کو توڑا۔ کئی ایسے عناصر جو بیرون ملک بیٹھ کر یہاں قتل اور جرائم manage کرتے تھے، ان کے نیٹ ورکس dismantle کیے گئے۔ Preventable crimes یعنی وہ جرائم جو planning، gangs اور criminal intent کے ساتھ ہوتے تھے ان میں بے حد کمی آئی۔
کیا اختیارات کے misuse کا خطرہ نہیں تھا؟ بالکل تھا۔
میں نے ابتدا میں بھی یہی کہا تھا کہ جہاں discretion ہوگی وہاں misuse of authority کا امکان ہمیشہ موجود رہے گا۔ لیکن فرق یہ ہے کہ جب CCD کے دو اہلکاروں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، لوگوں سے پیسے لے کر score-settling کی کوشش کی، تو انہیں مثال بنا دیا گیا۔ وہ آج جیل میں ہیں اور اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔
یعنی accountability ہوئی۔
اب حالیہ افسوسناک واقعہ ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی۔ یہ سانحہ انتہائی دردناک ہے۔ وہ بچی میری بھی ہو سکتی تھی، آپ کی بہن یا بیٹی بھی ہو سکتی تھی۔ انسانی جان کا ضائع ہونا ہمیشہ ظلم ہے اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کیا ہم ایک حادثے، ایک غلط judgment call یا ایک فرد کی panic reaction کی بنیاد پر کسی ایسے ادارے کو مکمل رد کر دیں جس نے 99 فیصد مثبت نتائج دیے ہوں؟
یہ بھی تو غیرمنصفانہ رویہ ہے۔
یہ یاد رکھیں کہ CCD میں کوئی فرشتے باہر سے نہیں آئے۔ یہی پنجاب پولیس کا وہی اسٹاف ہے، اسی نظام کے اندر نیم تربیت یافتہ لوگ ہیں۔ اور ہمارے policing standards دنیا کے بہترین standards نہیں ہیں۔ جب live firing ہو رہی ہو، armed confrontation ہو، high pressure situations ہوں، وہاں human error ممکن ہے اور کبھی کبھی tragically lethal بھی۔
میرا تعلق خود law enforcement family سے ہے۔ میرے والد پولیس افسر تھے، دادا پولیس افسر تھے، میرا بھائی law enforcement میں ہے، میرے پاس خود ہائی کورٹ کا لائسنس ہے۔ قانون کا طالب علم ہونے کے ناطے میں کبھی ماورائے عدالت اقدامات کو ideal نہیں کہتا۔
لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہمارے prosecution system، judiciary اور witness protection کا نظام اتنا کمزور ہے کہ dangerous criminals گواہوں کو خرید لیتے ہیں، دھمکا دیتے ہیں، اور نظام انہیں سزا دینے میں ناکام رہتا ہے۔
ایسے میں ریاست کبھی کبھی imperfect tools استعمال کرتی ہے تاکہ معاشرہ مکمل collapse سے بچ سکے۔یہ افسوسناک واقعہ ہوا، ذمہ دار افسر suspend بھی ہوا، arrest بھی ہوا، اور ایڈیشل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے خود جا کر خاندان سے معذرت بھی کی اور یقین دلایا کہ ذمہ دار کو قرار واقعی سزا ملے گی۔
کل مردان میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر گیا۔ دو نوجوان پائلٹ شہید ہو گئے، زمین پر لوگ زخمی ہوئے۔
کیا اب ہم یہ کہیں گے کہ شہروں کے اوپر military flying بند کر دی جائے؟
نہیں۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں ک�� یہ ایک tragic accident تھا، systemic failure نہیں۔
زندگی، ادارے، ریاست، فیصلے یہ سب absolute perfection پر نہیں چلتے۔
کبھی کبھی ایک حادثہ ہزاروں کامیاب کوششوں کے بیچ آ جاتا ہے۔
اور بالغ معاشرے وہ ہوتے ہیں جو ایک المیے پر انصاف مانگتے ہیں، accountability demand کرتے ہیں مگر اس ایک حادثے کی بنیاد پر پورے نظام کی 99 کامیابیوں کو رد نہیں کر دیتے۔
معاشرے جذبات سے نہیں، توازن سے چلتے ہیں۔
میری نہایت ادب کے ساتھ گزارش ھے۔ یہ واقعہ 5سال سے زائد پرانا ھے۔ یہ یاسین نامی شخص ملازم ریٹائر ھو کر گھر جا چکا ھے ۔ پرانے زمانے میں یہ ٹیکس پہلے PIA کولیکٹ کرتی تھی عرصہ دراز سے اب یہ ٹکٹ کے ساتھ وصول کیا جاتا ھے۔ لگتا ھے ھالینڈ اطلاع پہنچتے تاخیر ھو گئی ھے۔