🍀 *موبائل مانیٹرنگ ایپس* 🍀
*بچے کہاں ہیں اور موبائل پر کیا دیکھ رہے ہیں ، والدین یہ سب جان سکتے ہیں....*
نوجوانوں کی نسبت چھوٹے بچوں میں موبائل فون تک رسائی اور ’آن لائن‘ کلاسوں کی وجہ سے ہر وقت موبائل کا استعمال ایک خطرناک صورت حال اختیار کر چکا ہے۔
بعض اوقات آن لائن کلاسوں کا وقت، پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتا، اچانک شروع ہونے والی کلاسوں میں والدین بچوں کے لیے وقت نہیں نکال سکتے، جس کی وجہ سے بچوں کی موبائل کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر باخبر رہنا ان کے لیے ممکن نہیں،
لہٰذا آج کا بچہ بے خوف ہو کر موبائل کا آزادانہ استعمال کر رہا ہے اور اب آپ انھیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کون سا وقت ہے موبائل دیکھنے کا؟
یا کیا ہر وقت موبائل لیے بیٹھے ہو؟
کیوں کہ بچہ آپ کو بہت آسانی سے یہ کہہ کر لاجواب کر دے گا کہ آن لائن کلاسوں کا وقت ہونے والا ہے
یا وٹس ایپ گروپ سے اسکول کا اسائمنٹ بنا رہا ہے، لہٰذا پہلے کی طرح اب موبائل پر پابندی لگانا یا اس کے استعمال سے روکنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔۔۔
*اس صورت حال میں اپنے بچوں کو ویڈیو گیم سے لے کر سائبر کرائم کے چنگل سے بچانے کے لیے والدین کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے*
*چناں چہ اسی خطرے کے پیش نظر سوفٹ وئیر کمپنیاں موبائل کی مانیٹرنگ ایپس تیار کر رہی ہیں، جو بچے کی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں والدین کو فوراً الرٹ جاری کرتی ہیں*
*جن کے بارے میں جاننا آج کے والدین کے لیے بے حد ضروری ہے اس ضمن میں مندرجہ ذیل ایپس بہ آسانی گوگل پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہیں*
*ٹریک اِٹ ایپ (Trackit* *app* )
اس ایپ کے ذریعے بچوں کی ’آن لائن‘ سرگرمیوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، اس کی بدولت والدین براؤزر اور میسج پر بہ آسانی نظر رکھ سکتے ہیں، یہاں تک کہ آن لائن گیم کھیلنے پر بھی آپ جان سکتے ہیں کہ بچہ کون سا گیم کھیل رہا ہے اور کھیلتے ہوئے اسے کتنا وقت ہو چکا ہے۔ اس سے وائی فائی ٹریکنگ جیسی اہم معلومات حاصل ہو جاتی ہیں اور ٹریک کیے گئے فون سے نوٹیفیکیشن بھی موصول ہو جاتا ہے۔
*ایم اسپائے ایپ ( mSpy app)*
اس ایپ کی خاصیت یہ ہے کہ یہ بچوں کے فون کی زبردست طریقے سے مانیٹرنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے آپ بچوں کے موبائل پر آنے والی کال بھی سن سکتے ہیں اور براؤزر کی تاریخ کی مکمل جان کاری، کال لاگنگ اور پیغامات بھی دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔
*دی ٹرتھ اسپائی ایپ (The* *Truth spay app)*
اس ایپ کی ٹریکنگ خصوصیت کی وجہ سے صارفین اپنی گم شدہ ڈیوائس کا کھوج لگا سکتے ہیں، اس ایپ میں براؤزر اور ’جی پی ایس سسٹم‘ کی مانیٹرنگ شامل ہے۔ مفت دست یاب یہ اینڈرائڈ ایپ والدین کے لیے بہترین ہے، جو بروقت درست مقام کو ٹریک کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
*اسپائزی ایپ (Spyzie app)*
یہ بہ آسانی انسٹال ہونے والی ایپ بچے کے اینڈرائڈ فون کے لیے بہترین مانیٹرنگ کا کام سرانجام دیتی ہے، اگر آپ کا بچہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارتا ہے، تو پریشانی کی بات نہیں، آپ اس ایپ کے ذریعے پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے محفوظ کیے گئے ملٹی میڈیا مواد کو ڈاؤن لوڈ کر کے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس ایپ کی key logger ٹول کے ذریعے جان سکتے ہیں کہ بچے نے کیا ٹائپ کیا ہے۔
*چلڈرن ٹریکنگ*
یہ ایپ والدین کے لیے نعمت ہے۔ یہ دیگر اینڈرائیڈ ‘ایپ‘ سے ذرا مختلف ہے۔ اس لحاظ سے یہ نہ صرف بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے باخبر رہنے میں معاون ہے، بلکہ جسمانی طور پر بھی انہیں ٹریک کر سکتی ہے کہ وہ اس وقت کہاں موجود ہیں۔
*فامی سیف ایپ ) (Fami Safe app*
فامی سیف مانیٹرنگ ای�� ونڈر کمپنی نے بنائی ہے، یہ ایپ اپنے سوفٹ ویئر کی وجہ سے سے اتنی منفرد ہے کہ والدین بہ آسانی بچے کے موبائل پر رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور انھیں بچے کی نگرانی کے لیے اس کے پاس ہر وقت موجود رہنے کی بھی ضرورت نہیں، کیوں کہ والدین ’جیو فینسنگ فیچرز‘ کے ذریعے بچوں کے علم میں لائے بغیر، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتے ہیں
یہ کچھ انتہائ مفید ویب سائٹس ہیں جن پر 1 سے 5 سال کے بچے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ان سے بلکے ان میں کچھ ویبسائٹس کے TV Channel بھی ہیں۔ 👇
1. PBS Kids
اس ویبسائٹ پر بچے educational گیمز کھیل سکتے ہیں اور ان کو سائنس، میتھز، اور language سکھانے کی تعلیم ملتی ہے۔
2. Nick Jr
یہ ویبسائٹ ڈورا، paw petrol، اور دیگر پسندیدہ کارٹون کریکٹرز کے ساتھ تعلیمی گیمز فراہم کرتی ہے۔
3. Starfall
یہ ویبسائٹ بچوں کو پڑھائی میں مدد فراہم کرتی ہے اور تعلیمی مواد مہیا کرتی ہے۔
4. ABCmouse
اس ویبسائٹ پر بچے تعلیمی کھیل کھیل کر تصاویر، تعلیمی گیمز، اور کتابوں کے ساتھ معلومات حاصل کرتے ہیں۔
5. Sesame Street
سیسمی سٹریٹ ویبسائٹ پر بچوں کو انگریزی میں تعلیم دی جاتی ہے اور یہ کارٹون کریکٹرز کے ساتھ تعلیمی مواد فراہم کرتی ہے۔
اپنی صحت کی جانچ کے لیے سالانہ کون کون سے ٹیسٹ کروانے چاہئیں؟
1۔ CBC. (کمپلیٹ بلڈ کاونٹ)۔ یہ خون میں موجود مختلف خلیات یعنی ریڈ بلڈ سیلز، وائٹ بلڈ سیلز آور وائٹ بلڈ سیلز کی تمام اقسام اور پلیٹ لیٹس کی تعداد اور خون میں موجود ہیموگلوبن کی مقدار بتاتا ہے۔ اگر آپ خون میں ہیموگلوبن کی کمی مطلب اینمیا کا شکار ہیں (جسے عرف عام میں خون کی کمی کہا جاتا ہے) یا جسم میں کوئی انفیکشن یا الرجک پروسیس چل رہا ہے تو اس ٹیسٹ سے پتہ چل جاتا ہے۔
2۔ LFTs (لیور فنکشن ٹیسٹ)۔ یہ جگر کا ٹیسٹ ہے۔ جس میں جگر کے نارمل کام کرنے کی صلاحیت کو چیک کرنے کے لیے خون میں بلی ریوبن اور کچھ اینزائمز کو جانچا جاتا ہے۔ بلی ریوبن ایک مادہ ہے جو کہ ہمارے خون کے سرخ خلیات کی توڑ پھوڑ سے بنتا ہے اور جگر اس کو جسم سے صاف کرنے کے لیے دیگر کچھ مادوں کے ساتھ جوڑتا ہے اور پھر یہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر جگر کے نارمل فنکشن میں کوئی خرابی ہو تو بلی ریوبن کی مقدار خون میں ایک مخصوص ویلیو سے بڑھ جاتی ہے۔
3۔ RFTs (رینل فنکشن ٹیسٹ)۔ یہ گردوں کی جانچ کا ٹیسٹ ہے۔ اس میں خون میں موجود یوریا اور کریٹینن کو جانچا جاتا ہے اور اگر ان کی مقدار ایک مخصوص حد سے زیادہ ہو تو یہ گردوں کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے
4۔ Lipid Profile Test. یہ جسم میں موجود مختلف طرح کے لپڈز کی جانچ ک��تا ہے یعنی کولیسٹرول ، ہائی ڈینسٹی لائیپو پروٹینز اور لو ڈینسٹی لائیپو پروٹینز۔ جن افراد کی فیملی ہسٹری میں دل کے امراض ہوں ان کو (خاص طور پر مرد حضرات کو) یہ ٹیسٹ سال میں ایک بار ضرور کروانا چاہیے۔ لپڈز لیول میں اگر تھوڑی بہت گڑ بڑ ہو تو آپ ابتدائی لیول پر اس کی جانچ کر کے اپنی خوراک میں تبدیلی اور ورزش کو روٹین کا حصہ بنا کر دل کے خطرناک امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مردوں میں دل کے امراض کا تناسب زیادہ ہے۔ لہذا سب مرد حضرات کو بیس سال کی عمر کے بعد یہ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے اور جن کے ماں باپ میں سے کسی کو دل کا مرض ہے تو وہ سالانہ یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔
5۔ BSL. ( بلڈ شوگر ��یول )۔ یہ ٹیسٹ خون میں موجود گلوکوز کی مقدار بتاتا ہے۔ اگر آپ کی فیملی ہسٹری میں ڈایا بٹیز (شوگر) کی بیماری ہے تو سالانہ اپنا یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں
6۔ Stool Test . ترقی یافتہ ممالک میں ہر چھ ماہ بعد سکریننگ ٹیسٹ میں یہ بھی کیا جاتا ہے۔ کولون اور ریکٹم کے مختلف امراض خصوصا کینسر کو جلدی پکڑنے کے لیے یہ ٹیسٹ بنیادی اہمیت کا ح��مل ہے۔ اس ٹیسٹ میں سٹول سیمپل کی مائیکروسکوپک جانچ کی جاتی ہے کہ اس میں خون ، پس یا کوئی اور ایبنارمل مادہ تو موجود نہیں ہے۔
7۔ Urine Complete Examination۔ اس ٹیسٹ میں یورین کی مکمل مائیکروسکوپک جانچ کی جاتی ہے کہ اس میں بیکٹریا ، خون ، پس یا کرسٹلز وغیرہ تو موجود نہیں۔۔یہ ٹیسٹ یورینری ٹریکٹ کی بیماریوں کی جانچ کے لیے ضروری ہے
*آج کل آنکھوں کی بیماری کی وبا پھیلی ہوئی ہے جس کیلئے لوگ آنکھوں کے اسپیشلسٹ کے پاس بھاگ رہے ہیں*
*کسی آئی اسپیشلسٹ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے مندرجہ ذیل میں یہ 5 دوائیں ہیں جن سب کا ایک ہی فارمولا ہے ان میں سے کوئی بھی آئی ڈراپس خرید لیں سب يكساں اثر رکھتی ہیں لیکن*
*ہماری عوام The day dam broke کے ناول کی طرح ایک دوسرے کو دیکھا دیکھی صرف Deximox کیلئے بھاگ رہے ہیں جبکہ*
*میڈیکل سٹور والوں نے ڈیمانڈ میں اضافہ ہونے کی وجہ سے Deximox کو غائب کر دیا ہے ایک دو روز میں اس کی منہ مانگی قیمت پر دینا شروع کر دیں گے*
*آپ ان 5 آئی ڈراپس میں جو سب سے سستی مل رہی ہو وه خرید لیں*
*یاد رکھیں آنکھوں کی سوزش اور پانی بہنے کی صورت میں آنکھوں کو رگڑنا نہیں ہے ، گھر سے باہر کالے چشمے پہن کر نكلنا ضروری ہے تاکہ دھول اور الٹرا وائلٹ شعاوں سے بچا جا سکے ، آنکھوں پر صاف پانی کے چھینٹے اور آئی ڈراپس باقاعدگی سے استعمال کریں*
قصہ چار سال کا ۔۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کا اہم مقدمہ قاضی کی عدالت میں
مختار احمد نامی ایک شہری نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو اپریل 2019 میں درخواست دی کہ سپریم کورٹ میں مختلف عہدوں پر بھرتی کے حوالے سے معلومات فراہم کی جائیں درخواست گزار نے کہا اسے بتایا جائے سپریم کورٹ ملازمین کی منظور شدہ تعداد ، خالی اسامیوں کی تعداد ، ریگولر اور کنٹریکٹ اسٹاف کی بھرتی ، جنوری 2017 سے لیکر اب تک تخلیق کی گئی اسامیوں ، خواتین اسٹاف ، معذور ملازمین اور خواجہ سرا ملازمین کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں رجسٹرار سپریم کورٹ کے معلومات فراہم نا کرنے پر شہری نے پاکستان انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا کمیشن نے جولائی 2021 میں شہری کے حق میں فیصلہ دیا کہ معلومات تک رسائی قانون کے تحت رجسٹرار سپریم کورٹ 20 روز میں شہری کو معلومات فراہم کرے رجسٹرار سپریم کورٹ نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا پہلے سنگل بنچ پھر ڈویژن بنچ سے شہری کو ریلیف نا مل سکا تو شہری سپریم کورٹ پہنچ گیا اب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ کے بنچ میں 27 ستمبر کو کیس سماعت کے لیے مقرر ہو چکا ہے
اب اہم معاملہ یہ ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز " معلومات تک رسائی قانون " کے تحت کیا ��ہری کو چار سال بعد سپریم کورٹ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا حکم دیں گے ؟
پاکستان کا کونسا شہرکھیلوں کے سامان کی وجہ سے مشہور ہے؟
ا۔ سیالکوٹ
ب۔ لاہور
ج۔ پشاور
د۔ کراچی
صحیح جواب دینے والوں کو ہمارے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر فیچر کیا جائے گا۔
#GreenTV#XQuiz
معروف قانون دان اظہر صدیق کہتے ھیں کہ
فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس 28 ستمبر کو سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ھے
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ سماعت کریں گا
فیض آباد دھرنا کیس میں عدالت نے حکومت کو ایسے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا جنھوں نے اپنے حلف کی خلا�� وزری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا!!
اس فیصلے کے خلاف وزارت دفاع نے نظر ثانی درخواست دی کہ فوج اور اسکے خفیہ اداروں کے حوالے سے لکھی گئی سطروں کو واپس لیا جائے کیونکہ اس سے ادارے کا موروال ڈاون ہوا۔
تحریک انصاف نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی اپیل دائر کی تھی جبکہ شیخ رشید اور ایم کیو ایم کی جانب سے بھی نظر ثانی اپیل کی گئی تھی۔