اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑدے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔
﴿سورۃ آل عمران ، ۱۶۰﴾
اور تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، اور نہ انہیں جھڑکو۔ بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کیا کرو۔
﴿سورۃ الاسراء ، ۲۳﴾
سینیگال کا قرآن مجید کو سکولوں کے نصاب کا بنیادی حصہ بنانے کا اعلان حکومت نے قرآنِ کریم کی تعلیم کو باقاعدہ تعلیمی نظام میں مزید مؤثر انداز میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقصد جدید تعلیم اور اسلامی اقدار کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور نئی نسل کو اپنی مذہبی شناخت سے مزید جوڑنا ہے۔
حکومتی اقدام کو ملک میں دینی اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
حسن اور حسین (رضی الله عنہما و عليهما السلام) جنتی جوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان دونوں سے افضل ہیں.
ماجہ 118
(المستدرک للحاكم 4779، 4780)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ( تہجد ) ہے“.
(جامع ترمذی،۴۳۸)
ایک مضبوط قوم صرف اس وقت بنتی ہے جب اس کی روحانی اور نفسیاتی تربیت بہت مضبوط ہو۔۔
روحانی اور دینی تربیت کے بغیر نفسیاتی تربیت ممکن نہیں۔ اس لیے اہل فلسطین کا بہت گہرا تعلق قران اور اللہ کے رسول سے ہے۔ پوری قوم کی تربیت اسی روحانی انداز میں ہوئی ہے۔ اسی لیے ابھی تک قیامتیں گزرنے کے باوجود فلسطینی اور ان کے بچے نفسیاتی مریض نہیں بنے۔ کوئی اور قوم ہوتی تو کب کی ہلاک ہو چکی ہوتی پاگل ہو جاتی نشئی ہو جاتی۔
پاکستانی قوم کی سب سے بڑی مصیبت یہی ہے کہ بے شک ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار ہو لیکن قوم نفسیاتی اور روحانی طور پر اتنی کمزور ہے جیسے کچی دیواریں۔ ذرا سا دباؤ برداشت نہیں کر سکتے نفسیاتی بریک ڈاؤن ہو جاتا ہے چیخنے چلانے لگتے ہیں ماتم شروع ہو جاتا ہے۔ بہت خطرناک بات ہے۔ انے والی ازمائشوں اور مشکلات اور جنگوں میں ہمیں سب سے زیادہ نقصان اسی وجہ سے اٹھانا پڑے گا کہ قوم کی اکثریت کا نروس بریک ڈاؤن ہو جائے گا۔ چاہے ان کے پاس ہتھیار کیوں نہ ہو۔ وہ پریشر نہیں لے سکیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی ��یت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“
(صحیح بخاری، ۶۴۲۴)
یہ ان جاہلوں اور بیوقوفوں کے لیے جو اج قومیت لسانیت اور عصبیت کے تعصب کو لے کر پاک فوج پر حملے کر رہے ہیں۔ پاک فوج کو اپنے علاقوں سے نکالنا چاہتے ہیں۔
وہ صاف صاف نہیں کہہ سکتے کہ ہم بھارتی فوج کو بلانا چاہتے ہیں اس لیے صرف یہ کہتے ہیں کہ پاک فوج ان علاقوں سے نکل جائے۔۔
پاک فوج نکل گئی تو پھر کیا ہوگا؟ کیا بھارتی فوج ا کر ان کو بادشاہ بنائے گی؟
کیا لوگ اتنے اندھے گونگے اور بہرے ہو گئے ہیں کہ ان کو یہ بنیادی بات سمجھ نہیں ارہی؟
تو پھر اللہ ان پر بھارتی فوج مسلط کر کے رہے گا۔ اور اس وقت ان کے لیے توبہ کے دروازے بند ہوں گے۔
وہ معاہدہ جس میں اہل غزہ کو فروخت کر دیا گیا ہو ہم قبول نہیں کرتے ۔۔
وہ معاہدہ جس میں اہل غزہ کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی گئی اللہ کی نظر میں بھی باطل ہے۔
یہ جتنے مرضی معاہدے کر لیں جب تک غزہ میں امن نہیں ہوگا دنیا میں امن نہیں ہوگا ۔۔
غزہ کو دھوکہ دینے والے تمام ممالک غزہ کی اگ میں جلائے جائیں گے۔
غزہ کے مجاہدین کو بہت دکھ ہے کہ ایران نے اس معاہدے میں غزہ کو فراموش کر دیا۔۔
کشمیر کو اب صرف پاکستان کا ایک صوبہ یا فیڈرل ٹیریٹری ہونا ہے۔
الگ صدر الگ وزیراعظم الگ جھنڈا یہ سب حرام کاری کو بند کریں۔
اسی وجہ سے یہ فتنہ پھیل رہا ہے کہ ان میں کیڑے مکوڑے خود مختار کشمیر کی بات کر رہے ہیں۔
سنہ 2022 سے اب تک 4317 جوان شہید ہو چکے ہیں، جن میں ہمارے فوجی اہلکار بھی شامل ہیں اور سویلین بھی۔ یہ بہت بڑی قربانی ہے
یہ کن کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں؟ وہ لوگ جو 45 سال ہمارے مہمان رہے۔ انھوں نے میری، آپ کی اور سب کی مٹی کا نمک کھایا ہے
وزیر دفاع خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں خطاب