Job of @PTAofficialpk is to ensure connectivity, not shutdown mobile network. Peaceful protest is every citizen’s right & shutting down communications is counterproductive. It should be illegal to shut down mobile & internet services. Condemn this in Peshawar during PTI’s rally.
This is Dr. Nabi Jan, President of PTI’s Insaf Doctors Forum. He was abducted today by armed gunmen as he was leaving a hospital in Peshawar after his shift to join the Long March and provide medical assistance to anyone who might need it during the protest.
The same “unknown forces” that are abducting PTI’s elected members of parliament are behind the disappearance of a physician.
#PakistanUnderFascism #AsimLaw
اپنی بیٹی آمنہ ہاشمی کے ہمراہ گھر سے روانہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ
سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا۔
Sunan Abi Dawud 4344
وزیر اعظم شہباز شریف صرف ایک سال میں 28 غیر ملکی دورے کر چکے ہیں، یعنی اوسطاً ہر ماہ دو سے زیادہ دورے۔ یہ وہ وزیر اعظم ہیں جن کی حکومت چار سال میں بھی کچھ ڈیلیور نہیں کر پائی۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب، جن کے صوبے میں غربت سب سے زیادہ یعنی 41 فیصد بڑھی ہے، انہوں نے کتنے دورے کیے اور وہ کتنے اہم تھے؟
مکمل پوڈکاسٹ دیکھیں علی خضر کے ساتھ رفتار یوٹیوب چینل پر۔ لنک کمنٹس میں موجود
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جو ویڈیو پوسٹ کی، جس میں ایک نوجوان کو بندوق اٹھائے دہشت گرد کے روپ میں دکھایا گیا ہے، اس نوجوان کا نام زاریان ولد برہان، سکنہ لکی مروت، اور معاون خصوصی طارق سعید کے حلقے سے تعلق رکھنے والا ہے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان پر ایک ایسا وزیر دفاع مسلط کیا گیا ہے جس نے اپنی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے چودہ پندرہ سال کے ایک بچے کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا ہے۔
جو لوگ خود دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہیں اور دہشت گردوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں، آج انہی کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
بالقسط لانگ مارچ — پانچواں دن!
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی قیادت میں ڈیٹور روڈ سے پشاور کی جانب روانہ ہونے والے عظیم الشان لانگ مارچ کے قافلے کے پُرجوش اور پُرعزم مناظر!
حیات آباد ٹول پلازہ پہنچنے پر پشاور کی عوام نے قافلے کے شرکاء کا لاکھوں کی تعداد میں پُرتپاک استقبال کیا۔ کارکنان اور عوام نے پاکستانی پرچم، پارٹی پرچم اور عمران خان کی تصاویر تھام رکھی تھیں۔ فضا عوام کے جوش و جذبے اور نعروں سے گونج رہی تھی۔
قافلہ اپنے اگلے پڑاؤ کی جانب رواں دواں ہے، جبکہ عوام اور کارکنان کی تعداد کیساتھ ساتھ انکا جوش و جذبہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔
جنید اکبر کا سخت پیغام!
بلوچستان کے لوگوں کو تو آپ نے پہاڑوں تک پہنچایا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی پہاڑوں پر چڑھیں؟ عقل کے ناخن لیں!
عمران خان کی دشمنی میں آپ نے کے پی میں جو نفرت بوئی ہے، اسے ختم ہونے میں دہائیاں لگیں گی۔
آپ سب تیاری پکڑیں، ہو سکتا ہے بہت جلد ہم آپ کو صوابی اور پھر آگے جانے کی کال دیں۔
یہ ہمیں ڈرا رہے ہیں اور ڈر خود رہے ہیں۔ ہمیں چیلنج نہ کریں!
ہم اس ملک کا سوچتے ہیں، اداروں کا سوچتے ہیں، آنے والی نسلوں کا سوچتے ہیں، ورنہ آپ بھی ہمیں جانتے ہیں اور ہم بھی آپ کو جانتے ہیں۔
video @mukhtarhassan56
مجھے یاد ہے، میں چار پانچ سال بعد پاکستان آ رہا تھا۔ دوستوں نے کہا کوئی اور اچھی سی فلائٹ لے لو، مگر میں نے کہا نہیں یار، پی آئی اے پی لینی ہے۔ انہوں نے کہا سستی ہے اس لیے؟ میں نے کہا سستی کی بات نہیں، بات یہ ہے کہ مجھے اپنے ملک کا کھانا، اس کی خوشبو اور وہاں کے لوگ یاد آئے ہیں۔
جو شخص مسافر ہوتا ہے، اسے اپنی مٹی اور اپنا وطن ہمیشہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس نوجوان کو دیکھیں، کئی سال بعد ایئرپورٹ پر اترا اور کس مسکراتے چہرے سے یونیفارم میں ملبوس شخص کو دیکھ رہا ہے۔ لیکن جس فرعونیت اور تکبر سے اس نے اس کے سامان کو لات ماری، اندازہ لگائیں کہ اپنے اس رویے سے وہ لوگوں کے دلوں کو کتنی تکلیف پہنچا رہے ہیں۔
آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی پہاڑوں پر چڑھیں؟عقل کے ناخن لیں!عمران خان کی دشمنی میں آپ نے کے پی میں جونفرت بوئی ہےاسے ختم ہونے میں دہائیاں لگیں گی۔آپ سب تیاری پکڑیں،ہو سکتا ہے بہت جلدہم آپ کو صوابی اورپھر آگےجانے کی کال دیں🔥🔥
جنید اکبر
رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی خیبر ٹیچنگ ہسپتال (KTH) کے ہاسٹل سے صوبائی صدر ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا ڈاکٹر بنی جان آفریدی اور صوبائی سیکرٹری جنرل انصاف ڈاکٹرز فورم ڈاکٹر سردار محمد سعد کے اغواء اور فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈاکٹر زرین سمیت تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دونوں ڈاکٹرز لانگ مارچ میں طبی خدمات کی فراہمی کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اس طرح نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
صوبے کو آخر کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ اگر عوام نے مزاحمت کی اور اپنے تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھا لیے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
پہلی خبر
5 کروڑ 77 لاکھ پاکستانی روزانہ 3 ڈالر بھی نہیں کما پاتے
دوسری خبر
اسلام آباد میں افسروں کا سوئمنگ پول گرم رکھنے کے لیے الیکٹرک واٹر بوائلر کا ٹینڈر جاری
Currently, my Aunties are still abducted. Family and lawyers have received no update on how they are, nor why they are incarcerated. Concerning my father, there is complete silence.
My brother and I have had no contact with him for more than six months. We do not even know the true state of his health.
Meanwhile, thousands of Pakistanis are peacefully taking to the streets to protest against his illegal and politically motivated imprisonment.
However, the people of Pakistan have not given up. No barricade, intimidation or repression can muzzle the people’s demand for justice and their democratic right to be heard.
There can be no lasting peace or stability while their democratic will is suppressed and their chosen leader remains behind bars.