ملک میں چھتیس سال میں بائیس دفعہ گندم درآمد کی گئی اور تب گندم سرکاری طور پر خریدی جاتی رہی بارشوں میں کیا بڑے شہر پنجاب کے چند گھنٹوں میں کلئیر نہیں ہوئے
As part of flood monitoring and preparedness efforts, aerial inspections of rivers and barrages through drones are being conducted to support proactive flood readiness and identify potential risks. These inspections enable timely assessment, allowing for early warnings and prompt action to help mitigate the impact of potential flooding.
پنجاب بھر میں شدید بارشوں کے بعد واسا اور ضلع انتظامیہ کا بہترین فیلڈ رسپانس، ایک ہزار سے زائد جدید مشینری کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے ریکارڈ مدت میں پانی کی نکاسی مکمل کی گئی جبکہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے، اور ان تمام تر انتظامی اقدامات کی خود وزیراعلیٰ مریم نواز شریف براہِ راست مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔
#پنجاب_ہر_لمحہ_تیار
Protective and preemptive works along Nullah Dek in Tehsil Kamoke are progressing steadily to strengthen vulnerable sections, enhance flood resilience, and ensure effective protection for surrounding communities and infrastructure against any potential flooding.
فوڈ ڈائریکٹوریٹ گورنمنٹ آف پنجاب کی شفاف اور اوپن بولی کے تحت سیلیکٹ کی گئ 11 کمپنیاں اب تک 4 لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن گندم خرید چکی ہیں ۔ فوڈ کے پاس 19 لاکھ میٹرک ٹن کا باردانہ موجود تھا۔ جس میں سے باقی کا باردانہ مکمل طور پر موجود ہے۔ جس کا باقاعدہ آڈٹ بھی ہوتا ہے اور اکاونٹیبلٹی بھی ہوتی ہے۔ آج کل مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 4200 من سے زائد ہے۔ جبکہ forward contracting کے ذریعے خریدی گئ اس گندم کی فی من قیمت حکومت پنجاب کو مارچ 2027 میں بھی 4400 کی پڑے گی۔ اس وقت تقریبا 43 ارب روپے کی گندم پرائویٹ کمپنیاں پنجاب کے strategic reserve کے لئے خرید چکی ہیں جس پر پنجاب حکومت کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا اور نہ ہی گندم کا گردشی قرضہ ہو گا۔ جبکہ یہ گندم پنجاب کے strategic reserve کیلئے مارچ 2027 تک موجود ہو گی۔
بدل رہا ہے لاہور ۔۔
شہریوں کی سہولت کے لیے 16 ہزار کچی اور ٹوٹی پھوٹی گلیوں کی تعمیر ریکارڈ مدت میں مکمل کر لی گئی ہے۔ سیوریج اور ڈرینیج کا نیا جال بچھایا جا رہا ہے۔ نکاسی کا جدید سسٹم لایا جا رہا ہے۔ پانی کی سٹوریج کے لیے زیرِ زمین سٹوریج ٹینکس بنائے گئے ہیں۔
جو لوگ کہتے ہیں صرف ایک بس ہی تو ہےایک دن رش میں کھڑے ہو کر سفر کر کے دیکھیں۔
خواتین کے لیے الگ میٹرو بس کوئی لگژری نہیں، بلکہ ضرورت ہے۔ کیونکہ محفوظ سفر ہر عورت کا حق ہے، احسان نہیں۔ وہ نوکری سے نہیں راستے سے تھک کر گھر لوٹتی تھی۔خواتین کے لیے الگ میٹرو بس، ہزاروں ماؤں کی دعا اور لاکھوں بیٹیوں کے سکون کا نام ہے
تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں رہی اب بچے مستقبل تخلیق کرنا سیکھ رہے ہیں۔ عارف والا میں نواز شریف سکول آف ایمننس کا افتتاح اس بات کی علامت ہے کہ سرکاری سکول بھی جدید تعلیم، روبوٹکس لیبز، کمپیوٹر لیبز اور عالمی معیار کی سہولیات کے ساتھ نئی پہچان بنا رہے ہیں۔ جب بچے صرف پڑھنے کے بجائے ایجاد کرنا سیکھیں، تبھی حقیقی تعلیمی انقلاب آتا ہے۔سرکاری سکول کا مطلب اب صرف کلاس روم نہیں مستقبل کی تعمیر ہے۔