تاجران کو اتنا چھوڑ دیں کہ وہ اگلی بار آپ کو ووٹ دے سکیں۔
اسلام آباد انتظامیہ نے بلیو ایریا میں ہر دکاندار کو زبردستی لائٹس لگوانے پر مجبور کیا اور وہ اپنے ساتھ نجی وینڈرز (فراہم کنندگان) لے کر آئے۔ فی لائٹ 1500 روپے یومیہ کا خرچ ہے اور کم از کم 4 لائٹس لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کاروبار پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے اور اب ہر دکان پر 40 سے 50 ہزار روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔کاروبار تباہ ھوئے پڑے ھیں اور کبھی بورڈ لگوانے تو کبھی لائٹس لگوانے کی مد میں تاجران کو تنگ کیا جارھا ھے۔
س��ک کنارے ایک غریب لڑکا غبارے بیچ رہا تھا 4 بہادر غیور پنجاب پولیس کے جوان آئے ان گنت چپیڑیں ماری اس لڑکے کو اور دھکے گھونسے مارتے ہوئے انسانیت کی تذلیل کرتے ہوئے اسکو لے گئے.
پنجاب پولیس کی حراست میں عورتیں مر رہی ہیں عزتیں لوٹی جا رہی ہیں.
گندی پولیس کی سہولتکار حکومت پنجاب.
یہ تصور کہ پنجاب کو اب ترقی دی جا رہی یا شاید نون لیگ نے پنجاب کو بہت ترقی دی انتہائی غلط ہے آپ 1930 کی دہائی کے آس پاس کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 سے متعلق دستاویزات میں چیک کر لیجئے پنجاب برصغیر کا امیر ترین صوبہ تھا
ریکارڈ کے مطابق بنگال کی دولت تقریباً 189 کروڑ جبکہ پنجاب کے پاس تقریباً 185 کروڑ روپے تھے یہ بمبئی ریزڈینسی سے بھی زیادہ تھے انگریز نے دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام پنجاب میں بنایا جس کی وجہ سے پنجاب اتنا خوشحال ہوا کہ برصغیر کا اناج گھر بن گیا یہ سب ریکاراد موجود ہے
جبکہ ابھی تو پچھلے پانچ سال میں موجودہ سرکار کے اپنے دستاویزات لے مطابق پنجاب میں غربت بڑھی ہے لوگوں ��ے اجناس اور خوراک دودھ گوشت کھانا کم کر دیا ہے یہ بدحالی موجودہ حکمرانوں کی دین ہے خوشحال پنجاب کو غریب کر دیا اس سے سارے پاکستان کے خرچے نکال رہے ہیں
ایف آئی اے اتنا احسان کرے کہ ایک سینٹر بنا دے تاکہ لوگ ٹکٹ بک کرنے سے پہلے وہاں جا کر امگریشن پراسس مکمل کروا کر این او سی لے لیں یہ بورڈنگ کے وقت ائیرپورٹ پر لوگوں کے ساتھ کھلواڑ مت کریں لاکھوں کا ٹکٹ روز روز نہی لیا جا سکتا ہے
آپ نے غیر قانونی ام��ریشن روکنی تو کوئی ایسا حل نکالیں جس سے لوگ تنگ نا ہوں
آرمی چیف نے وزیر اعظم کا بازو پکڑ کر کعبہ میں داخل کیا..اس سے اندازہ کریں آپس میں کتنی سیٹنگ ہوگی
اس سیٹنگ سے پٹرول ڈیزل بجلی گیس سستی ہوئی؟
عالمی منڈی میں تیل کم ہونے کے باوجود کوئی واضع کمی آئی؟
گیس 230 والی 450 پہ بک رہی ہے لیکن کوئی بات نہیں حکومت اور بڑا گھر ایک پیج پہ ہیں
نون لیگ کو ووٹ دیجیے تاکہ وہ ججوں کی تنخواہ میں اور اضافہ کر سکے آپ کے بجلی کے بل مزید مہنگے کر سکے سستا پیٹرول مہنگا ترین بیچ سکے وزیروں مشیروں کی تنخواہ نو سو فیصد بڑھا سکے آپ پر پچھواڑا پھاڑ جرمانے ڈال سکے
پھر آپ پر احسان بھی جتلا سکے کہ دیکھا ہم نے کیسے ملک سنبھال لیا ہے ڈیفالٹ سے بچا لیا ہے
کل پھر ایک دوست کا فون آیا اس کے کزن کو کویت میں بہت اچھی جاب ملی ینگ بچہ ہے 22سال کا اسے ایک معمولی سے اشو پر آف لوڈ کر دیا گیا اس کا ٹکٹ ضائع اب 24 اگست تک انٹری نا دی تو ویزا ضائع ہو جائے گا ائیرپورٹ پر ایف آئی اے نے لوگوں کی زندگی عذاب بنا دی ہے جبکہ غلط لوگ آرام سے چلے جاتے ہیں شریف بے چارے پھنس رہے ہیں
خبر یہ ھے سپریم کورٹ ججز کی ماہانہ تنخواہ و مراعات 10 دسمبر 2025 سے بڑھا دی گئی ہیں ۔ مطلب نو مہینوں کا بقایاجات بھی ملے گا اب فرض کیجیے تنخواہ دس لاکھ بڑھی تو ہر جج کو نوے لاکھ روپے ملیں گے ہمارے وزیروں اور چیئرمین سینٹ اور سپیکر کی تنخواہ بھی آٹھ مہینے پیچھے سے بڑھائی کروڑوں کے بقایاجات بیرون قرضہ حاصل کر کے ادا کئے گئے
نا اس پر آئی ایم ایف کو اعتراض ہوا نا ان سے منظوری لینی پڑی
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنہواہ مراعات پینشن میں اضافے کی منظوری دی
ہر جج کی تنہواہ میں 5 لاکھ کا اضافہ دسمبر 2025 کی تاریخ سے ہوا
عوام کے لئے 1.70 روپے پیٹرول سستا
مورخ آج کی تاریخ لکھتے ہوئے پوچھے گا قائد نے اس دن کے لئے آزادی دلائی تھی ؟
فری بیٹھا تھا سوچا آپکو یاد کروا دوں تاکہ بقول "راجہ کبیر صاحب" کے کہ سند رہے۔
مکہ معاہدہ پہ دُنیا کا واحد نام نہاد اسلامی ملک ایران ہے جسکو تکلیف ہوئی ہے کہ مکہ پاک کی حفاظت کے لئے دفاعی معاہدہ کیوں ہوا ہے۔
اسی سے اندازہ لگا لیں انکی مجوسیت پلیدی اور اسلام دشمنی کا۔
پاکستان سعودیہ ترکیا کا معاہدہ فرقہ وارانہ ہے، امریکی غلامی ہے، غلط ہے. اسکی مذمت ہونی چاہئے اور اسکے خلاف مہم چلنی چاہئے.
اب نظر ڈالیں حلال معاہدوں پر جن پر پاکستان میں ��کمل خاموشی تھی:
2001 میں ایرانی نظام اور پاسداران انقلاب نے افغانستان میں ریجیم چینچ اور قبضہ کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ طاجيكستان میں خفیہ معاہدہ کیا تھا، جسکے مطابق ایران نے افغانستان میں ریجیم چینج اور قبضہ کرنے میں امریکی اور نیٹو افواج کی مکمل عسکری اور انٹیلیجنس مدد کی، ایرانی افسران باقاعدہ افغانستان کے اندر امریکیوں کے ساتھ تھے. پاکستانی مدد صرف ائیر سپیس تک محدود تھی.
2003 میں ایرانی نظام نے خفیہ معاہدے کے تحت امریکی برطانوی افواج کو بغیر لڑے عراق پر قبضہ کروایا. پاسداران کے مجاہد، امریکی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے. اسوقت سعودیہ نے امریکی اڈوں کو خالی کروا دیا تھا کہ سعودی سرزمین سے عراق پر قبضہ نہیں ہونے دے سکتے. امریکی افواج نے قطر میں بیس بنایا اور ایران کی مدد لی.
2003 میں ایرانی نظام نے اپنے نیوکلیئر پروگرام بچانے کیلئے امریکہ اور عالمی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ معاہدہ کیا، جسکے مطابق مراعاتوں کے بدلے پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بے نقاب کردیا اور پاکستانی ایٹمی پروگرام کو داؤ پر لگانے کی کوشش کی.
2004 میں ایرانی نظام نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جو "کسی ملک کے خلاف نہیں تھا!" (سمجھ گئے ہوں گے!)
2011 میں ایرانی نظام نے روس کے ساتھ شام کی عوام کو کچلنے کا معاہدہ کیا ایک ظالم حکمران کو بچانے کیلئے. دس لاکھ سے زیادہ شامی مارے گئے تھے.
2011/2012 کے لگ بھگ ایرانی نظام نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ چابہار میں اڈہ قائم کرنے کا خفیہ معاہدہ کیا. پاسداران انقلاب اسلامی ��ورس کے اڈوں کے درمیان کمانڈر کلبھوشن یادیو کا سیاحتی دفتر کھولا تھا جو "کسی کے خلاف نہیں تھا!"
2015 میں یمن جنگ پر پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی کوششیں کی تاکہ پاکستان یمنی اور سعودی حکومتوں کا ساتھ نہ دے، ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد آ گئے ہمارے حکام کو ریاض جانے سے روکنے اور پیچھے سے بھارتی حکام کو سعودیہ بھیج دیا پاکستان کی پوزیشن خراب کرنے.
2015 میں ایرانی نظام نے امریکہ اور بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کئے جن سے بے تحاشا مالی فوائد کے ساتھ ساتھ یہ معاہدہ بھی کہیں ہوا کہ مغرب اور ایران ملکر کام کریں گے مشرق وسطی میں اور "عرب بہار" مظاہروں کے ذریعے عرب بادشاہتوں کو گرائیں گے.
2016 میں ایرانی نظام نے مودی جی اور افغان صدر کو چابہار معاہدے کیلئے مدعو کیا، گوادر کی توڑ میں، لیکن یہ اقدام بھی "کسی کے خلاف نہیں تھا!"
یہ سب حلال معاہدے تھے. اصل غلط معاہدہ وہ ہے جو پاکستان نے مکہ میں سعودیہ اور ترکیا کے ساتھ کیا ہے.
13 سال کی عمر میں بچھڑنے والا محب اللہ…
23 سال بعد بھی گھر والے منتظر ہیں!
یہ تصویر محب اللہ کی ہے۔
سال 2003 میں جب محب اللہ کی عمر صرف 13 سال تھی، وہ اسلام آباد سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ اُس وقت وہ اسلام آباد کے ایک مدرسے میں حفظِ قرآن کر رہا تھا۔
محب اللہ کے والد قاری عبداللہ مدنی مسجد، F-8 اسلام آباد کے امام تھے۔ چند سال قبل وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن اپنے بیٹے کی واپسی کی حسرت اپنے ساتھ لے گئے۔
محب اللہ کی والدہ حنیفہ بی بی آج بھی اپنے بیٹے کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
اس کے بھائی وصی اللہ، منیب اللہ، امداد اللہ اور عباد اللہ اور بہنیں سلمیٰ، تسلیم، ام ہانی اور حبیبہ آج بھی اس امید کے ساتھ زندہ ہیں کہ ان کا بچھڑا ہوا بھائی ایک دن اچانک دروازے پر آ کھڑا ہوگا۔
آبائی تعلق: گاؤں بیڑ، ضلع بٹگرام۔۔۔ رہائش: F-8/2، اسلام آباد
گھر میں محب اللہ کی یہی ایک تصویر موجود ہے۔ تصویر وقت کے ساتھ سیاہ پڑ چکی ہے، مگر اس تصویر میں آج بھی اس کے گھر والوں کو امید کی ایک کرن نظر آتی ہے۔
ماں کی آنکھیں آج بھی دروازے پر لگی ہیں… شاید کبھی اس کا بیٹا واپس آ جائے۔
محب اللہ! اگر آپ یہ پوسٹ دیکھ رہے ہیں اور آپ دن��ا میں کہیں بھی موجود ہیں، تو اپنی ماں کی بے قراری اور اپنے بہن بھائیوں کی برسوں کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے ہم سے رابطہ کریں۔
آپ کے گھر والے آج بھی آپ کے منتظر ہیں۔
اگر محب اللہ تک یہ پوسٹ نہ بھی پہنچ سکے، تو ممکن ہے آپ کا ایک شیئر کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو اسے جانتا ہو، اور یوں 23 سال سے بچھڑا ہوا بیٹا اپنی ماں سے مل جائے۔
کسی بھی معلومات کی صورت میں رابطہ کریں:
+92 316 2529829
10 اگست 2026
#WaliullahMaroof #محب_اللہ #MissingPerson #FindMahibullah #گمشدہ_افراد #FamilyReunion
میرا نام حافظ محمد حمزہ ہے، ہم تین بھائی تھے، سب کے گردے فیل ہو گئی، بڑا بھائی بھی اسی وجہ سے فوت ہوا، دوسرے کو امی نے مکان بیچ کر اور اپنا گردہ دیکر بچا لیا، اب میں ہوں، پیسے نہ ہونے کی وجہ سے دس دس دن گزر جاتے ہیں، ہماری مدد کریں
دس ہزار مدد کر کے کیس اپلوڈ کیا ہے
ریپوسٹ کریں
بابا اگر جائیداد میں سے حصہ نہ دے رہا ہو تو بچے مجتبی خامنائی والا طریقہ اپنانے پر اتر آتے ہیں۔ اس لئے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوائیں اور ان کی اعلی کردار سازی پر توجہ دیں۔
پبلک سروس میسیج
حالیہ جنگ میں
ایران کی بہت حمایت کی
مگر اب ان کا کنفیوز،متکبر،حسد سے بھرا رویہ ان کے لیے حمایت ختم کر رہا ہے۔
اور چند فیصد پاکستانی اہل تشیع اس میں جلتی پر تیل والا کام کر رہے ہیں
اکثر ایرانی"میثاق مکہ"سے جل رہے ہیں جبکہ
عباس عراقچی کہتا ہے
ہمیں بھی"اصل بھائی چارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے"
قومی سطح پر متفقہ اور مثبت رائے عامہ قائم کرنے کی کوشش کریں
ورنہ
ان کا تکبر۔۔ان کو ذلیل کروائے گا۔
(اسد آر چوہدری)