یہ صاحب کیا کہنا چاہتے ہیں۔ کیا کوئی باخبر اخبار نویس سلیس اردو میں واضح کر سکتا ہے۔ ایک اور سوال یہ کہ کہیں یہ جعلی ٹویٹ تو نہیں۔ اگر اسی تجربہ کار صحافی کی جسارت ہے تو شیخ رشید کو بھی انہوں نے پیچھے چھوڑ دیا۔ اس قدر توہین ؟ اس قدر تذلیل؟
جب اپنوں میں غدار اور چال چلنے والے پیدا ہو جائیں تو میدان میں کھڑا شیر بھی کتوں سے بازی ہار جاتا ہے، جو انسان اپنوں کو گرانے میں اپنی جیت سمجھتا ہے تو سمجھ لینا کہ وہ انسان سچ میں بہت گرا ہوا ہے۔
یہ رجیم اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لیے یہ دلیل دیتی ہے کہ وہ پاکستان میں نہیں رہتے، کبھی کبھار آتے ہیں، اس لیے انہیں ملک کے فیصلوں میں حصہ نہیں لینا چاہیے
مگر ان کی منافقت، دوغلے پن اور سیاسی حرامزدگی کی انتہا دیکھیے کہ آزاد کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کرنے والی 28 فیصد یعنی 12 مہاجر نشستیں ایسے لوگوں کے پاس ہیں جو نہ کشمیر میں رہتے ہیں، نہ وہاں کے حالات بھگتتے ہیں، اور نہ ہی کشمیری عوام کے براہِ راست نمائندے ہوتے ہیں مگر ان نشستوں کو ختم کرنے یا اصلاح کی بات آئی تو اس عاصم منیر ٹولے نے کشمیر کو خون سے نہلا دیا
اوورسیز پاکستانی ووٹ دیں تو مسئلہ، لیکن کشمیر کے عوام پر باہر بیٹھے لوگوں کے ذریعے سیاسی انجینئرنگ ہو تو سب جائز، یہ صرف تضاد نہیں، کھلی سیاسی منافقت ،مفاد پرستی اور کشمیری عوام کی حقوق سلبی ہے
شہزاد اکبر کی خبر
گزشتہ رات عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی کی خبر اس سے چلائی گئی تھی کیونکہ راولاکوٹ میں اس رات صبح بہت بڑا مریدکے اود ڈی چوک ٹائپ آپریشن کیا جانا تھا اور جس کی اطلاع دھرنے والوں کو دے دی گئی تھی اور دھرنے والے strategically منتشر بھی ہوئے تھے ، انہوں نے عمران خان کی منتقلی کی خبر کو دھرنے پر آپریشن کو کور کرنے کے لیے استعمال کرنا تھا ۔
بیرسٹر شہزاد اکبر
یہ کوئی وڈیرہ، سرمایہ دار نہیں بلکہ اپنی ہی قوم کا ایک عام سا دوکاندار ہے، شوکت نواز میر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ جب اُس کے لوگوں پر گولی چلی تو وہ کشمیر کے پہاڑ چڑھ کر واپس نہیں بھاگا گنڈا پور کی طرح، بلکہ اپنی عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے۔
آزاد جموں کشمیر کا وزیر اعظم کہہ رہاہے کہ رینجرز میں نے نہیں بلایا ہے(میڈیا رپورٹ) تو سوال یہ ہے کہ پھر کس نے رینجرز کو بلایا؟ اور وہ بھی آزاد جموں کشمیر کے وزیراعظم کی اجازت کے بغیر؟ اپنا پوزیشن واضح کرے اور قوم کو اصل حقیقت بتادیں۔۔
جب رینجرز کا طلب کرنا آپکی مرضی کے بغیر ہے
+
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔”
- عمران خان، 2025
#FreeImranKhan
@Aleema_KhanPK
راولاکوٹ میں رینجرز کی فائرنگ سے شہید ہونے والا نوجوان شعبان کشمیری۔
نہتے پرامن شہریوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑتی ڈائن نما ریاست نے اس ملک کا ایک اور دلیر ہیرا نگل لیا۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
🚨ہم نے تحریک انصاف سے عمران خان کے لیے دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ آج تک عمران خان کی میڈیکل رپورٹس نہیں بتائی گئیں اور علاج کے باوجود ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی ہے۔
— علیمہ خان
#خان_ڈٹا_ہوا_قیادت_چھپی_ہوئی