ایک طرف اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے تمام تر مراعات، اور دوسری طرف پاکستا�� اور کشمیر کے عوام کے لیے کچھ نہیں۔
اس ناانصافی اور دوہرے نظام کے خلاف کشمیر بغاوت کرتا ہے۔
پاکستان کے عوام کو بھی اب اس دوہرے نظام کے خلاف بغاوت کرنی چاہیے، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
کشمیر میں پاکستانی سیکورٹی فورسز پرامن لوگوں پر شیلنگ اور فائرنگ کر رہی ہیں، لیکن لوگ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
اسے کہتے ہیں مزاحمت، اور حق کے لیے ایسے ہی لڑا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر کے شہر بھمبر میں عوام پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے سامنے آزادی کے نعرے لگا رہی ہے۔
یہ نعرے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں وہاں کی عوام لگاتی تھی، لیکن ذہنی مریض نے آزاد کشمیر کے لوگوں کو بھی آزادی کا نعرہ لگانے پر مجبور کر دیا۔
ویسے بھی آزادی ان کا پورا حق ہے۔
آپ کی تین نسلیں ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے پلی ہیں۔ اگر آپ عوام کی مرضی کے بغیر انتخاب میں جائیں گے تو راولا کوٹ میں ہم آپ کے لیے پڑھتے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
جو خان صاحب چاہتے تھے کہ 5 اگست تک تحریک عروج پر ہو، کشمیریوں نے 5 اگست سے پہلے ہی وہ کر دکھایا۔
اس وقت کشمیریوں کی تحریک اپنے عروج پر ہے اور پورا کشمیر سڑکوں پر ہے، جبکہ تحریکِ انصاف کی قیادت اس وقت بھی ذہنی مریض عاصم خنزیر کی سہولت کاری میں لگی ہوئی ہے اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے صرف وقت برباد کر رہی ہے۔
لوگ سفید رنگ کے امن کے پرچم لے کر نکلے ہیں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں جن کو ذہنی مریض عاصم خنزیر نے کالعدم تنظیم قرار دیا ہے۔
عاصم خنزیر خود ایک یہودی ایجنٹ ہے۔
محسن نقوی کہتا ہے سسٹم ناکام ہو چکا ہے جبکہ مرد مجاہد نے تین سال پہلے کہا تھا۔ جیل میں تو میں چلا جاؤں گا لیکن کیا یہ پاکستان کی معیشت کے حالات کو برداشت کر لیں گے۔؟
ہم کامیابی کے بہت قریب ہیں۔ یہ گولیاں ہمارا کچھ ن��یں بگاڑ سکیں — کور ممبر عوامی ایکشن کمیٹی خواجہ مہران
گولیوں اور خوف کے سامنے یوں ڈٹے رہنا اور نہ ڈرنا واقعی بہت بڑے حوصلے کی بات ہے۔ اپنے حق کے لیے یوں کھڑے ہونا اور ہمت نہ ہارنا بہت زبردست اور قابلِ تعریف جذبہ ہے۔