کبل، دیر، وزیرستان، ہنگو میں شہادتیں، بلوچستان میں شہادتیں۔ کسی کو علاقہ چھوڑنے کا حکم، تو ک��یں فصل تیاری سے قبل کاٹنے کا حکم!!!
جو ڈرون،لڑاکہ طیاروں، دھماکوں، میڈ اپ دہشت گردی کی پہنچ سے دور ہیں ان کے لیے ریاست ہر پر امن اجتماع کو نشانہ باندھ کر مقتل گاہ بنانے کے لیے تیارہے۔
میرے پاکستانیو!
روزانہ بنیادوں پر آئی ایس آئی پی آر کی پریس ریلیزز آ رہی ہیں کہ فلاں جگہ ”کامیاب“ آپریشن کیا، پریس کانفرنسز میں ڈھائی دہشت گردوں کے مدمقابل ایک شہادت کو کارکردگی بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ روز ہماری پولیس کے جوانوں اور شہریوں کی شہادتوں کی خبریں چلتی ہیں اور یوں سیکورٹی سٹیٹ کے نام پر جرنیلوں کی طاقت کا کھیل جاری رہتا ہے۔ ہم ایشوز اور ایونٹس پر ریکٹ کرنی والی قوم، ہم واقعات کو حادثات اور پھر سانحات کے بدلنے کے انتظار میں بیٹھی قوم بس اسی دن اسی ایشو پر ریکشن مانگتے ہیں پھر ایک اور سانحہ ایک اور جنازہ ایک اور آپریشن ایک اور بم دھماکہ، ایک اور ڈی چوک، ایک اور مرید کے، ایک اور راول�� کوٹ۔ اور اگر کوئی ایک واقعے، ایک پالیسی کی نشاندہی کرے، دہرائے، بارہا بتائے، تاریخ کا سبق یاد دلائے تو جرنیل تو غدار قرار دیتے ہی ہیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جن کو روز نیا مواد چاہیے وہ کہتے ہیں پرانا چھوڑو اب بتاؤ۔
ڈرون پر ٹویٹ کرو، شہید پر بات کرو۔
بیماری کی جڑ پر کیوں بات نہ کروں؟
اصل وجہ پر کیوں بات نہ کروں؟
میں اگر کہوں کہ دو دفعہ تو قوم کے ساتھ مل کر ان کو نکالا یہی جرنیلی اکاونٹس کہیں گے کہ وہ چھوڑو جو آج حالات خراب ہیں اس کا بتاو، اُس کا کیا؟
کیا ہماری اجتماعی یاداشت اتنی کمزور ہے یا تیز تر خبروں کی دوڑ میں ہم کل کی بات بھی بھولتے جا رہے ہیں؟
چند عسکری ٹاوٹس کے ذریعے اتنا کہا جاتا ہے کہ لمبی بات نہیں، پرانی بات نہیں ابھی کا بتاو، ہمارے نادان دوست بھی اسے بیانیے کا نشانہ بن کر ایشوز پر ریکٹ کرنے تک محدود ہوگئے ہیں اور اسی بیانیے کی آڑ لے کر جرنیل اپنی ڈالری جنگ کی خواہش اور میڈ اپ دہشت گردی سے لے کر نہتے لوگوں پر گولی چلانے تک کے سوال سے بچ نکلتے ہیں۔
میرے پیارے پاکستانیو!
یہ لاشوں کی گنتی آپریشن کے اعداد و شمار اور ہر جنازے پر کندھا دینے والوں کے سوال کے بجائے ان کی ہر پریس ریلیز اور ہر ٹی وی ٹِکر پر سوال اٹھائیں کہ کیوں ہماری زندگیوں کا سودا کرنے کی پالیسی بنائ؟
دہشت گردی آئی نہیں لائی گئی۔
دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے اور لا کر بسائے گئے۔
یہ دعوی نہیں گزشتہ چار ساڑھے چار سال کا میرا ہر بیان، ہر ٹویٹ اور بتائی گئی تفصیلات سے واضح ہے۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے یہ آگ جو آج گھر گھر تک آ گئی ہے اسی کی نشاندہی میں کر رہا تھا۔ پاکستان کے ہر چوک، چوراہے میں چیخ چیخ کر بتاتا رہا کہ لگے گی آگ تو آئینگے گھر سبھی زد میں۔ آپ کو بتایا کہ اپنی زندگی داو پر لگا کر مالاکنڈ کا امن اپن�� قوم کے ساتھ بحال تو کر لیا لیکن یہ جرنیل فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ پھر وار کریں گے۔ مئی/جون ۲۰۲۲ میں پی ڈی ایم کی حکومت بنتے ہی اس کا ساماں کرلیا گیا تھا۔ دوبارہ پھر ان کو لایا گیا۔ سوال پوچھا کہ نکالنے کے بعد کیا آپ بارڈر محفوظ نہیں ��ر سکتے تھے؟بارڈر پر لگی باڑ کے باوجود پھر کیسے آئے؟ لیکن خاموشی سے اسی پالیسی کا تسلسل جاری رہا۔ میں ہی غدار۔ میں ریاست کا مجرم۔ میرے پوسٹر لگا کر اس پر غداری کا نعرہ چسپاں کروایا۔ مقدمے ایسے کہ سزا موت۔ سر کی قیمت الگ۔ ایک مرتبہ پھر انہیں اپنے لائے ہوں کو واپس بھیجنے پر مجبور کیا تو وہ ریاست جو دہشت گردوں کی موجودگی سے ہی انکاری تھی ان کو واپس لوٹا کر، ان کے جانے پر پریس ریلیز جاری کرکے کریڈیٹ لینے لگی کہ بس تھوڑے سے تھے، بروقت کاروائی سے نکال دیے حالانکہ حقیقت میں جب قوم اٹھ کھڑی ہوئ اور پولیس نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرلیا تو ان کا فقط اتنا کردار تھا کہ گاڑیاں لا کر ��نہیں سیف ایگزیکٹ مہیا کیا۔
پھر جب نو مئی کا بہانہ کرکے پی ٹی آئی اور ہم سب کو کرش کیا جا رہا تھا اس وقت جنوبی اضلاع میں انہیں دوبارہ داخلہ مہیا کیا گیا اور یوں ہر سمت آگ پھیلائ گئی۔ ڈرون، لڑاکا طیارے، ٹارگٹ کلنگ، دھماکے۔۔ کب تک بند کمروں کے فیصلوں سے عام شہری سے لے کر فوج اور پولیس کے جوان تک شہید ہوتے رہیں گے؟ ہاں وطن پر جان نچھاور کرنے کا عزم کیا ہے مگر تم پہ مرنے کے لیے تو نہیں جنے گئے تھے یہ بیٹے۔
1/2
ڈی جی آئ ایس پی آر صاحب!
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میں نے سوال آپ پر اٹھایا ہو اور جواب مجھے دوسری جانب سے ملا ہو۔ اپریل ��۰۲۳ میں بھی یونہی آپ پر سوال اٹھانے کا جواب مجھے میرے گاؤں میرے لوگوں کو لہولہان کرکے ملا تھا اور آج پھر کبل سوات میں ہونے والے امن پاسون پر حملے اور امن کا سفید جھنڈا لی کر نکلنے والے ہمارے معصوم شہریوں کو لہولہان کیا گیا ہے۔
امن پاسون کا اعلان ہوتے ہی امن تحریک کے پرانے ساتھی اور اولسی پاسون کے خلاف جو کریک ڈاون ہوا اس سے واضح تھا کہ امن کے نام سے کس کو نفرت ہے۔ آج کے امن پاسون کو روکنے کی کوشش ناکام ہوئی تو دھماکہ کروایا گیا۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ جو قوم میڈ اپ دہشت گردی کی کئی کوششوں کو ناکام بنا کر اپنا امن قائم کر چکی ہے اس دفعہ ان کے اجتماعات پر دھماکے اور فائرنگ سے خوف پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جائیں۔
کئی دفعہ مالاکنڈ سے ریاست کی چھتری تلے دہشت گردوں کو بسانے کی کوشش کو ہم نے ناکام بنایا۔ پچھلے سال سے پھر کوشش جاری تھی اور کچھ عرصہ قبل میں نے پوری تفصیل بیان کی کہ بیس دہشت گردوں کی سوات، پندرہ شانگلہ، دس بونیر اور اس طرح دیر تشکیل ہوگئی ہے۔ سات م��ینے پہلے پختونخواہ حکومت کو بھی آگاہ کیا۔ کتاب میں ان کو باجوڑ سے روٹ لگا کر لے جانے اور پھیلانے کی پوری تفصیل لکھ دی۔ سوات میں پرسوں جو خیبر پختونخواہ پولیس کے جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں اس واقعے کی تفصیلات اتنی خطرناک ہیں کہ متعلقہ لوگ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں کہ ”گیم بڑی لگ رہی ہے کچھ کہیں گے تو مارے جائینگے“۔ مارے جانے کا ساماں تو ریاست کر چکی ہے بس فیصلہ یہ کرنا ہے آپ نے کہ پھر سے بے گھر ہونا ہے، ایک ایک کر کے نشانہ بننا ہے یا اسی طرح ان کو نکال باہر کرنا ہے جس طرح ہم پہلے کئی بار کر چکے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں پولیس نے کھل کر اس ڈبل گیم پر اعتراض اٹھایا سوات اور مالاکنڈ پولیس سے گزارش ہے کہ پردہ پوشی چھوڑیں، دیکھ لیجئے آج پھر آپ نشانہ بن گئے۔کھل کر پچھلی دفعہ ڈی ایس پی کو گولی لگنے اور پھر مٹہ کے پہاڑوں میں پولیس کے اغوا کی کہانی قوم کے سامنے رکھیں۔ ۲۰۲۳ میں کبل سی ٹی ڈی پولیس لائن پر ہونے والے حملے کی حقیقت قوم کے سامنے رکھیں جس کو شارت سرکٹ کہہ کر دبایا جارہا تھا۔ پرسوں جو شہادت ہوئی جس کا ذکر آپ نے بند کمرے میں کیا قوم کے سامنے وہ حقیقت رکھیں ورنہ یونہی فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ اداروں کے کہنے پر امن کی آوازوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ روکیں کیونکہ ان کی پالیسی تو بدل جائے گی بے گھر ہم نے ہونا ہے۔ قیمت ہم نے مل کر ادا کرنی ہے۔ سوال پوچھیں کہ آخر یہ چھپن چھپائی یہ لانا، بسانا، جنازے اٹھانا اس سے کونسا ملک کا مقصد حاصل ہو رہا ہے جس کی ہمیں سمجھ نہیں۔ جھوٹ بولنے اور ہمارے جنازوں کے اعداد و شمار دکھانے کی بجائے ایک دفعہ سچ پر مبنی بریفنگ دے کر اپنی پالیسی بدلیں۔ اور کان کھول کر سن لیں کہ آج کا یہ ترقی یافتہ مالاکنڈ ریجن یہ سیاحت ترقی اور امن کا گہواہ مالاکنڈ ہم نے ۲۰۱۳ کے بعد سے ��پنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور کسی کو اس کا امن تباہ نہیں کرنے دیں گے چاہے وہ آنے والے ہوں یا لانے والے!
Recorded this video last winter long before 9th May.
And not surprisingly, everything since then has been going according to this script I mentioned in the video.
Will be exposing the conspiracy at 9:45 PM in my address tonight.
عمران خان آپ کی حقیقی آزادی کے لیے گزشتہ تین سال سے مشکل ترین قید کاٹ رہے ہیں۔ اب آپ اپنی حقیقی آزادی کے لیے، اور عمران خان کے حقوق کی بحالی کے لیے، اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں
اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کرنا بہترین جہاد ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور اپنی آزادی کیلئے کوشش کرنا اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل ہے۔ اسی وجہ سے آزادی کی خاطر لڑنے والوں کو شہید کا اعلیٰ ترین درجہ دیا گیا ہےاور شہید کا مقام انبیاء کے بعد سب سے اونچا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں جنہوں نے غلامی کو قبول کیا وہ کبھی بھی ترقی یافتہ نہیں ہو پائیں۔ اس وقت ہم اپنی آزادی کی تحریک میں ہیں جس کے لئے قربانیوں کی ضرورت ہے۔ میں اس آزادی کی تحریک کیلئے اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہوں۔ میں اپنے لوگ اور اپنا ملک چھوڑ کر کہیں جاؤں گا۔ میں تو یہیں ملک میں ہوں۔ جتنی مرضی سختی کر لیں یا جو چاہے سزا دے دیں میں ہمیشہ اپنی اور اپنی قوم کی آزادی کیلئے کھڑا رہوں گا۔ فلسطینی اپنی آزادی کی خاطر ہر روز جانوں کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ میں بھی ہر سختی کیل��ے تیار ہوں۔ اس لئے میں اپنی قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ بھی اپنی آزادی کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے گھبرائیں نہ اس سے پیچھے ہٹیں۔ آزادی آپ کا حق ہے اور آپ کی اس جدوجہد، ان قربانیوں سے اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہوگا۔ ہمارے ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی بلکل ختم ہو چکی ہے جس کے حصول لئے ہمیں کڑی جدوجہد کرنا ہو گی۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان زندہ باد۔!
2/2
Former Prime Minister Imran Khan’s message to the Nation from Adiala Jail:
This is not the first time in the history of this country that one individual has put the entire country at stake to protect his hold on power. (General) Yahya Khan also betrayed the Awami League and Sheikh Mujibur Rahman to stay in power. The Hamood-ur-Rehman Commission report clearly states that one person’s desire to prolong and strengthen his hold on power broke the country in two.
Because of this one man's erroneous policies, ninety thousand of our soldiers were taken as prisoners. Bhutto himself admitted the loss of 50,000 innocent lives, although the actual count was much higher, and the country's economy lost billions of dollars. We have still not been able to recover from the loss. Even today, the same story is being repeated. Once again, one person has taken over control and is destroying the system to prolong and strengthen his hold on power.
A small powerful elite dominates all the resources, power, and control of the country. Whenever this group wants, it violates the constitution, threatens judges, attacks the sanctity of the parliament that symbolises democracy, abducts public representatives and even women of their families. This mafia, devoid of morals, considers itself above the constitution and the law. This small group, this powerful elite, has enslaved this country. Even today, they are doing everything for their own selfish interests.
The Supreme Court is the only institution somewhat safe from their influence, and now it is also being attacked.
A system of injustice and brutality is in force in our country. The criteria for promotions and for being awarded top positions are, for the judiciary, making decisions against Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), and, in the government, brutality and fascism. Three clear examples of this are Qazi Faez Isa, Mohsin Naqvi, and Humayun Dilawar.
Chief Justice Qazi Faiz Isa protected those who targeted us. He took away our electoral symbol. Did not hear our pleas about human rights violations. The former Commissioner of Rawalpindi said the Chief Justice and the Election Commissioner were responsible for rigging the election, and now the Form 47 government and its handlers are employing every possible dirty trick to impose the same Chief Justice once again.
My Pakistanis, if you do not come out against the extension of Qazi Faiz Isa today, you will forever remain enslaved.
Mohsin Naqvi inflicted tremendous brutality on us. Zille Shah was tortured to death by the police, his body was thrown by the side of the road, and an FIR (police report) was filed accusing me of his death. For leading this oppression, Mohsin Naqvi was made Interior Minister and Chairman of the PCB (Pakistan Cricket Board).
Because of Humayun Dilawar, Bushra Bibi and I are illegally imprisoned today. In return for which, Humayun Dilawar was gifted land worth billions. The anti-corruption department of Khyber Pakhtunkhwa has all evidence of that, and now the FIA (Federal Investigation Agency) has filed a case against Khyber Pakhtunkhwa’s anti-corruption department.
They are forcibly keeping Nawaz Sharif in the country, otherwise he would have run abroad a long time ago. Don't tell me whose wealth and properties are abroad, tell me who among these billionaires, who are the darlings of this system, and who hold all the power in our country, have their wealth and property in Pakistan.
Saadullah Baloch's wife and daughter were abducted! They have no shame. They entered the National Assembly building and arrested parliamentarians. This has never happened before, no one has ever been arrested from inside the Parliament.
I say to the entire nation that they have to come out for a street movement to protect our freedom. Our movement is a jihad (struggle) for democracy. I ask the judiciary to stand up for the rule of law. No investments are coming into the country because of no rule of law.
1/2
آج 7 جولائی: یکجہتی اور عزم کا دن! 🔥
ان شاء اللہ، آج عمران خان کی ہمشیرہ گان اپنے بھائی سے ملاقات کریں گی۔ اس تاریخی موقع پر اپنے قائد اور ان کے اہلخانہ سے والہانہ محبت کے اظہار کے لیے، ملک بھر سے عمران خان کے جری سپاہیوں کو آج ہی اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ دنیا کو کپتان کے ساتھ کھڑے ہونے کا مضبوط پیغام دیا جا سکے۔
پاکستان کی تاریخ کی مقبول ترین سیاسی، سماجی اور کھیلوں کی سب سے بڑی عالمی شخصیت، عمران خان کو اس وقت اڈیالہ جیل کی ایک تنگ اور تاریک 'چکی نما' کال کوٹھڑی میں شدید ترین نامساعد حالات کا سامنا ہے
۔
جیل حکام کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر ہیں:
بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی: سخت گرمی میں نہ تو اے سی (AC) کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی ٹھنڈے پانی کا کوئی انتظام۔
طبی غفلت: آنکھوں کی بینائی شدید متاثر ہونے کے باوجود مناسب طبی معائنے اور علاج کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مذہبی آزادی پر قدغن: وضو کے لیے صاف پانی کی عدم دستیابی سمیت جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر بھی پابندی عائد ہے۔
جس شخص نے اپنی زندگی ملک کی خدمت، شوکت خانم جیسے اداروں اور عالمی اعزازات کے نام کر دی، وہ اس نوعیت کے انتقامی سلوک کا حقدار ہرگز نہیں تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے کسی سیاسی قیدی کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک نہیں کیا گیا۔
عمران خان اور بشری بی بی کی قید تنہائی بارے کیس کا ابتدائی فیصلہ آ گیا،
عمران خان اور بشری بی کو اگر قیدی تنہائی میں رکھا گیا تو کیوں رکھا گیا ؟ کس قانون کے تحت ؟ کتنی دیر کے لیے؟ اور کیا یہ سزا ہے؟ کیا سہولیات دی جا رہی ہیں ؟ قید تنہائی الزامات میں کتنی صداقت ہے؟ سپری��نڈنٹ جیل تفصیلی رپورٹ 6 اگست کو دے، جیل ریکارڈ رجسٹر اور دیگر دستاویزات بھی ساتھ عدالت لیکر آئے �� اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو کا حکم..
عمران خان، وہ نام جو 1992 میں پاکستان کے ہر دل کی دھڑکن بن گیا تھا۔ وہ ہیرو جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور ہمیں وہ ورلڈ کپ جیت کر دیا جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان کی قیادت، ان کا جذبہ، اور ان کی محنت آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے۔
لیکن آج... وہی چہرہ، وہی ہیرو، حکومت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے چھپایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا لیڈر جس نے ملک کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا، اسے آج ایک قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے۔
کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ہم اپنے ہیروز کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں؟
Never have women been humiliated for using their constitutional right to protest peacefully in any democracy let alone in a one that is muslim.
This is a planned campaign to depoliticise women in the country.
The clampdown and terror campaign against women is being done so that their men would discourage their political participation.
And now there are increasingly reports coming that some of the women are being molested and harassed in jail.
🚨 علیمہ خان نے تمام صورتحال دوٹوک الفاظ میں سامنے رکھ دی
19 مئی کو محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا اور کہا گیا کہ 26 نمبر چونگی دھرنا ختم کریں تو صبح ملاقات ہو جائے گی لیکن یہ جھوٹے ہیں دھوکا دیتے ہیں،
اس کے بعد کہا گیا کہ اگر نورین نیازی جیل سپریڈنٹ کو درخواست دیں تو ان کی ملاقات ہو جائے گی جبکہ ہم تو پہلے ہی ہائیکورٹ میں موجود ہیں، " ہم تک اطلاع پہنچی ہے کہ یہ ایسی ایک ملاقات کروائیں گے اور اس کے بعد اس کو بہانہ بنا کر 6 مہینوں کیلئے عمران خان کو مکمل قید تنہائی میں دوبارہ ڈال دیں گے یہ ان کا آج کا منصوبہ ہے