اپریل ۲۰۲۳ میں میری وکالت عروج پر تھی۔ عمران خان صاحب نے چند مقدمات میرے ذمے کیے تھے،عملی سیاست سے دور تھا۔ تاہم اصغر خان کیس جو الیکشن میں ایجنسیوں کی مداخلت سے متعلق تھا، ڈاکٹر مبشر کا NRO کو چیلنج اور بیسیوں سیاسی اہمیت کے مقدمات کر چکا تھا۔ سیاست کو عبادت سمجھ کر اپنایا۔
All the news circulating on social media that a former Army Chief met Imran Khan in Adiala Jail are fake.
We have checked with Barrister Gohar and he has also confirmed that this is totally fake!
It is disinformation especially spread to distract from the fact that Imran Khan is being tortured through total isolation.
A distraction from the fact that:
1) He is not allowed proper treatment for his eye in a proper hospital.
2) He has not been allowed to speak to his sons.
3) He has not been allowed books for the past 6 months.
4) He has no television
5) He has not been allowed contact with anyone from the outside world in the past 6 months, except two visits by his lawyer on the orders of the court.
There is a full bench court order that allows for at least 18 people to visit him every week. 6 family members and 6 lawyers on Tuesdays, and 6 party members on Thursdays.
All above are Imran Khan’s lawful rights, under Pakistan’s laws and the International laws.
الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے حجِ بیت اللہ کی سعادت سے نوازا۔
بہت سے لوگوں نے قیاس و گمان کیا کہ یہ سفر کس نے کروایا اور کیسے ہوا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا خالصانہ ذاتی فیصلہ تھا۔
میں نے اپنے دل میں ایک روحانی منزل پائی تھی جہاں حج فرض ادا کرنا ضروری ہوگیا۔
اس مقدس سفر نے میری روح میں ایک ایسی الٰہی چنگاری روشن کردی ہے جو ہمیشہ جلتی رہے گی۔
دعا ہے کہ میرے جیسے بہت سے بھائی اور بہنیں بھی اس روحانی سفر کا حوصلہ کریں، حج کی سعادت حاصل کریں اور اسی لُطفِ الٰہی سے سرشار ہوں۔
السلام علیکم
سابق وزیراعظم عمران خان صاحب کی جانب سے ان کے قانونی و جیل امور کی ذمہ داری میرے سپرد ہے۔ یہ اعتماد اور ذمہ داری میرے لئے سب سے بڑا اعزاز ہے ۔
اسی فرض کی بجا آوری کے تحت میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات جولائی/اگست 2026 میں حصہ نہیں لوں گا، کیونکہ عمران خان کی عطا کردی ذمہ داری و اعتماد میرے لئے سب سے بڑھ کر ہے۔
میری سیاست، میرا مستقبل اور میری ترجیح صرف عمران خان صاحب کی قانونی جنگ اور ان کی رہائی ہے۔
میں اپنے لئے اسمبلی کی ایک سیٹ و ٹکٹ کے لئے عمران خان کی طرف سے تفویض کردہ ذمہ داریوں سے غفلت نہیں کر سکتا۔
خالد یوسف چوہدری
نماز پر پابندی،
ملاقاتوں پر پابندی،
علاج پر پابندی
مذہبی آزادی سلب کرنا ظلم ہے۔
پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس حق پر پابندی کیوں؟
#ہماری_عید_خان_کی_دید
الحمدللہ 130 دن کی ناحق قید کے بعد رہائی ہو گئی۔
یہ ہتھکڑیاں اور جیلیں ہمیں اپنے نظریے سے دور نہیں کر سکتیں بلکہ عزم اور ہمت بڑھاتی ہیں۔ انشاء اللہ زندگی کی آخری سانس تک عمران خان سے وفا نبھائیں گے۔ پاکستان ذندہ باد
اس وقت سب سے زیادہ دباؤ تحریک انصاف کی قیادت پر ہے ۔ حکومت یا نظام کا کہنا ہے کہ ہمیں تحریک انصاف کی لیڈرشپ سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن عمران خان کی فیملی نے آج کھل کر کیمروں کے سامنے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کا عام کارکن تو پہلے ہی بدظن تھا
اب آگے گڑھا اور پیچھے کھائی والی صورتحال ہے
آج ہم بڑے دکھی دل کے ساتھ میڈیا کے ذریعے عوام کی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں ہماری ایک محبِ وطن جماعت ہیں اور ہمارا لیڈر بھی محبِ وطن ہے کراچی میں ہم بانیانِ پاکستان کی اولاد ہیں، مگر ہمارے ساتھ مسلسل ظلم و زیادتیاں کی جا رہی
@PTIofficial
یہ کسی مجرم یا دہشتگرد کی تصاویر نہیں ہیں۔
یہ تشدد کے نشانات ہیں راجہ اظہر (سابق ایم پی اے)، صدر پی ٹی آئی کراچی اور فہیم خان (سابق ایم این اے)، سینئر نائب صدر پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے جسم پر 8 فروری 2026 کی رات، پرامن ہڑتال کی کال کے بعد، انہیں اغوا کر کے ڈسٹرکٹ کورنگی پولیس کی حراست میں لیا گیا۔
پولیس اسٹیشن کے اندر کورنگی پولیس کی کسٹڈی میں ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر بدترین تشدد کیا گیا۔
یہ مکمل طور پر پُرامن ہڑتال تھی نہ توڑ پھوڑ، نہ قانون شکنی یہ عوامی حمایت کا انتقام تھا۔
ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے، آئین کی بحالی اور رول آف لا کی بات کر رہے تھے۔
یہ سب صوبہ سندھ میں بلاول بھٹو کی پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں ہو رہا ہے۔
پاکستانی قوم سوال کر رہی ہے: یہ حکم کس نے دیا؟
سورس۔ حلیم عادل شیخ کی وال سے
اتنے گھٹیا اور نیچ ہیں کہ پہلے ایک سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مبینہ جعلی پلیٹ لیٹس ڈرامہ اور رپورٹیں پھر ہسپتال منتقل کرنے کی پل پل کی خبریں میڈیا کے ذریعے چلوائی گئیں اب ایک اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھ کا اڈیالہ جیل سے نکال کر رات و رات آپریشن بھی کردیا لیکن خاندان والوں کو بھی بتانا گوارا نہیں سمجھا۔
عمران خان تک رسائی اس لئے روکی گئی ہے تاکہ جو کالک حکومت پاکستان نے اپنے چہرے پہ ملی ہے اس پہ عمران خان کا موقف نہ آجائے- ہم نہ پچھلے یزید کو مانتے ہیں نہ ہی آج کے کسی یزید و فرعون سے خوفزدہ ہیں- آج عمران خان کی صحت پہ پوری قوم کو تشویش ہے لیکن کیا کریں ملک میں عاصم لاء نافذ ہے
اڈیالا جیل کی موجودہ صورتحال اور چیئرمین عمران خان کی صحت کے پیشِ نظر خیبر پختونخوا کے تمام پارٹی ونگز، عہدیداران اور کارکنان کو فوری طور پر ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ ہم اڈیالہ کے باہر موجود ہے جیسے ہی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور وزیر اعلیٰ سُہیل آفریدی کی جانب سے لائحہ عمل دیا جائے گا، اُس پر بلا تاخیر اور بھرپور عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
کچھ ٹاوٹس کے مطابق ہمیں کے پی حکومت سے ایک لاکھ ماہانہ مل رہا ہے تو کچھ کے مطابق میں نے F6 میں گھر لے لیا ہے، ان تنخواہ دار ملازموں کی انہیں فیک خبروں کی وجہ سے یہ لوگوں کی نظروں میں اس حد تک گر چکے ہوں کہ جن سے تنخواہ لیتے ہیں ،ان کا دفاع یا ان کے حق میں بیانیہ بنانے کے بجائے ان کے لیے شرمندگی اور رسوائی کا سبب بن چکے ہیں، اللہ کریم کا کروڑ ہا احسان ہے کہ آج تک کسی حکومت،کسی ایجنسی یا کسی سیاسی جماعت سے ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ نہ تو کبھی پیسے لیے ہیں اور نہ ہی کوئی پراجیکٹ پکڑا ہے، باقی اچھا لگتا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہم irrelevant نہیں ہوئے،ٹاوٹس کی ٹائم لائنز پر ہمارے نام کے چرچے ہیں 😎 الحمدللہ شکر الحمدللہ