یہ صورتحال پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ جب بنیادی طبی سہولیات، صفائی اور مریضوں کے احترام کا یہ حال ہو تو عوام آخر فریاد کس سے کریں؟
نوٹ: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کا سالانہ مالیاتی بجٹ 10 ارب روپے سے زائد بتایا جاتا ہے۔ اتنے بڑے بجٹ کے باوجود اگر ایمرجنسی وارڈ کی حالت ایسی ہو تو متعلقہ حکام کی توجہ اور فوری اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں۔
بلڈ پریشر چیک کرنے والی مشینوں میں سے زیادہ تر درست حالت میں نہیں، انہیں زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب جونیئر ڈاکٹر عوام پر عملی تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ مریضوں کا تاثر یہ ہے کہ سینئر ڈاکٹر ایمرجنسی میں کم نظر آتے ہیں عوام کا زیادہ تر بوجھ جونیئر عملے پر ہے