#خوشامد
سفیان ثوری رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ کمینہ اور رذیل کون یے؟
تو فرمایا جو لوگ بادشاہوں اور افسروں کی خوشامد میں لگے رہیں۔
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع رحمتہ اللہ علیہ
#IslamicQuotes
اے الله! ایسی خوشی دے جو آنکھوں کو رُلا دے، جو پریشانیوں کو دور کر دے اور ماضی کے غموں کو مٹا دے۔
اے الله! مجھے تھکاوٹ کے بعد تسلی دے، غم کے بعد خوشی عطاء فرما اور صبر کے بعد اجر سے نواز۔
اللھم آمین، اللھم آمین، اللھم آمین۔
🤲😭❤️
فضیل بن عیاض نے فرمایا:
شقاوت کی پانچ علامتیں ہیں:
دل کی سختی،
آنکھ کی خشکی،
حیا کی کمی،
دنیا کی رغبت،
اور لمبی امیدیں۔
ابن قیم | مدارج السالکین (2/614)
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:
بے شک مومن جہالت نہیں کرتا، اور اگر اس پر جہالت کی جائے تو وہ بردباری کرتا ہے، اگر اس پر ظلم کیا جائے تو وہ معاف کر دیتا ہے، اور اگر اسے محروم کیا جائے تو وہ صبر کرتا ہے۔
مصنف عبد الرزاق (۲۰۲۵۴)
جو شخص خواہشات نفسانیہ کے قید وبند سے آزاد ہوجاتا ہے وہ اپنے معاشرے اور سوسائٹی میں بھی آزاد ہوتا ہے ۔ کسی کی غلامی کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔
تفسیر فی ظلال القرآن
مفسر: سید قطب شہید رحمہ اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مومن اپنے بھائی کا آئینہ ہے اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اسے نقصان سے بچاتا ہے اور اس کی پشت سے بھی اس کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘ (الادب المفرد)
جو شخص خواہشات نفسانیہ کے قید وبند سے آزاد ہوجاتا ہے وہ اپنے معاشرے اور سوسائٹی میں بھی آزاد ہوتا ہے ۔ کسی کی غلامی کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔
تفسیر فی ظلال القرآن
مفسر: سید قطب شہید رحمہ اللہ
امام ابن الجوزي رحمه الله خود کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اے نفس! یہاں (دنیا میں) تھوڑا سا تھک لو؛ جنت الفردوس میں بہت سا آرام ملے گا!"
(المواعظ : 79/1)
امام مالک بن انس رحمہ اللّٰہ کا قول ہے کہ علم چار اشخاص سے نہ لیا جائے:
ایک وہ جس کی سفاہت اور بے وقوفی سب پر ظاہر ہو چکی ہو۔
دوسرا وہ جو خواہش پرست ہو، یعنی بدعتی۔
تیسرا وہ جو لوگوں کی باتوں میں جھوٹ بولنے کا خوگر ہو، اگرچہ حدیث کے باب میں اس پر جھوٹ کا الزام نہ ہی لگا ہو۔
⤵️
نفسیں اس سےنفرت کرتی ہیں، اور خلع والےاسے نفرت کرتےہیں، اور یہ سنن کوزندہ کرنا بدعات کو مٹانا ہے. یہاں تک کہ انہوں نےکہا: اگر حق والے خاموش رہیں اورباطل والےبولیں تونوجوان اس چیز کےعادی ہوجائیں گےجو انہوں نےدیکھی اور اسےانکار کریں گےجوانہوں نےنہیں دیکھا۔"
الفروع: ابن مفلح (۳/۱۸۱)
ابن عقیل رحمہ اللہ نے فرمایا:
"اسلام کی سب سے بڑی فوائد اور ادیان کی سب سے اہم بنیادیں: معروف کا حکم دینا، منکر سے روکنا اور نصیحت کرنا ہیں؛ یہ وہ سب سے مشکل چیز ہے جو مکلف برداشت کرتا ہے کیونکہ یہ رسولوں کا مقام ہے جہاں یہ اپنے صاحب کو طبائع پر بوجھل کرتا ہے، لذتوں والوں کی⤵️
علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کیونکہ بندہ جب اپنے اندر دعا کی طرف نشاط اور اس کی جانب اقبال پائے تو اسے اس میں کثرت کرنی چاہیے، کیونکہ وہ قبول کی جاتی ہے اور اللہ کے فضل اور رحمت سے اس کی حاجت پوری ہو جاتی ہے۔
📜【تحفۃ الذاکرین بعدۃ الحصن الحصین (١ / ٣٤)】
بعض سلف نے کہا:
"جو شخص ہمارے پاس اعلیٰ مقام پر پہنچا، وہ کثرت نماز یا روزے کی وجہ سے نہیں، بلکہ نفس کی سخاوت، سینوں کی سلامتی، امت کے لیے خلوص نصیحت، اور اپنے نفسوں کی حقارت کی وجہ سے۔"
📚 لطائف المعارف از ابن رجب / ٢٥٤
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا:
جو شخص لوگوں کو پہچان لے وہ آرام پا لیتا ہے۔
اس کا مطلب ہے - اور اللہ بہتر جانتا ہے - کہ وہ نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
[مجموع الفتاویٰ (جلد ۱، صفحہ ۹۳)]