قائداعظم جب لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ایک انگریز پروفیسر ’’پیٹرز‘‘ ان سے شدید نفرت کرتے تھے‘ ایک دن پروفیسر ڈائننگ روم میں لنچ کر رہے تھے تو جناح بھی اپنی ٹرے لے کر اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے‘ پروفیسر کو اچھا نہ لگا اور اس نے جناح کو
بعض اوقات۔۔!!
کچھ تعلق اس قدر خرابیاں پیدا کر دیتے ہیں
کہ
انکو توڑنے کے علاوہ
اور کوئی حل نہیں بچتا۔
یہ قطع تعلقی آپکا دل توڑ سکتی ہے۔
آپکو پچھتاوے
اور
تکلیف میں مبتلا کر سکتی ہے
آپکے صبر کو ختماور
زندگی کو افسردہ کر سکتی ہے۔
مگر
یاد رکھو
یہ اختتام ہی آپکی بہتری کا آغاز ہو گا۔
ہیلو۔۔!!
کون؟؟
میں بول رہی ہوں۔
مجھے تم سے ملنا ہے۔
کیوں؟
تاکہ میں ٹھیک ہو سکوں۔
میں جانتی ہوں
جب میں تمہاری آنکھوں میں دیکھوں گی
تو
میرے اندر
سب مرمت ہو جائے گا۔
تمہارا ہاتھ پکڑتے ہی
میرے لیے بہار کِھل جائے گی
اور
مجھے زندگی دے دے گا تم سے ملنا۔یعنی
کال بھی کی تو اپنی غرض سے؟