اور اگر تم اس ( قرآن ) کے بارے میں ذرا بھی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے محمد ( صلی الله علیہ وآلہ وسلم ) پر اتارا ہے ، تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ ، اور اگر سچے ہو تو اللہ کے سوا اپنے تمام مدد گاروں کو بلالو
(سورۃ البقرہ : 23)
History will always remember these two great sons of this soil 🇵🇰
From Quaid-e-Azam’s fight for freedom to Imran Khan’s fight for dignity. Two leaders, decades apart, united by one dream, A sovereign, self-respecting Pakistan.
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with his Family and Lawyers at Adiala Jail - 15 July 2025:
"There is absolutely no question of bowing down, even if I have to spend my entire life in prison. I convey this same message to the people of Pakistan: under no circumstances should you submit to this tyrannical system.
The time for negotiations has passed. What remains now is the time for the nation to rise in protest.
Hardships inflicted upon me in jail have intensified in recent days. The same is true for my wife, Bushra Bibi, who is also facing increasing restrictions. The television in her cell has been shut down. All fundamental human rights and basic prisoner entitlements, both mine and hers, have been suspended. This must be accounted for.
I am fully aware that a certain Colonel and Jail Superintendent Anjum are carrying out these actions at the behest of Asim Munir.
I issue a clear directive to my party: if any harm comes to me while I remain imprisoned, Asim Munir must be held accountable.
Bushra Bibi is being subjected to this cruelty because, during my tenure, after Asim Munir was removed from his position, he sent her a message through Zulfi Bukhari requesting a meeting, which she categorically declined. Since then, he has targeted her with continuous retribution. From day one, it has been his deliberate strategy to break my will by tormenting her.
In the very jail where I am being held under inhumane conditions, terrorists and known murderers of hundreds of Pakistanis enjoy better treatment. A military officer named Rizwan is being held in the lap of luxury, while every form of cruelty is inflicted upon me. No matter what they do, I did not bow before this oppression before, nor will I do so now.
Under the oppressive watch of Maryam Nawaz and Mohsin Naqvi in Punjab, fascism has taken root for the past two years, extinguishing democracy and crushing all political activity.The arrival of elected representatives in Punjab in the form of a political caravan, in such an environment is a welcome development.
At this time, many, including myself, are enduring some of the harshest imprisonments. Therefore, I direct every member of the party to put aside all personal grievances. Publicly airing internal matters or individual concerns before the media is entirely unacceptable. My instruction is firm: whether a senior officeholder or a junior member, no one is to express internal differences on social media, electronic media, print media, or any other platform. Focus exclusively on the protest movement so that fundamental human rights are restored in Pakistan. If any party official fails to participate in this movement, I will make the final decision about them myself, even from within jail.
I instruct all party members and office-bearers to personally retweet my messages on Twitter (now X), and ensure they are shared as extensively as possible.
The party should decide on nominations for the Senate tickets through mutual consultation."
یقینا جن لوگوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، تو اُن پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
وہ جنت والے لوگ ہیں جو ہمیشہ اُس میں رہیں گے۔ یہ اُن اعمال کا بدلہ ہوگا جو وہ کیا کرتے تھے۔
﴿سورۃ الاحقاف، ۱۳-۱۴﴾
“دوسری جنگ عظیم کے دوران جب جرمن طیارے لندن پر بمباری کر رہے تھے تو وزیرِاعظم ونسٹن چرچل نے کہا تھا: "اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں، تو ہمیں شکست نہیں ہو سکتی۔"
بدقسمتی سے، آج ہمارا عدالتی نظام اس معیار کے بالکل برعکس کھڑا ہے۔ انصاف نہ صرف تاخیر کا شکار ہے، بلکہ دانستہ طور پر دبایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر قید میں رکھا گیا ہے۔ میرے وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات نہ ہونے دینا ان جعلی مقدمات کی قلعی کھول دیتا ہے۔
خواتین کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج تباہ کر رہا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کو مسلسل جیل میں رکھنا، عالیہ حمزہ کی بلاجواز گرفتاری، اور بشریٰ بی بی کو ایسے مقدمے میں سزا دینا جس سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں، اس انتقامی طرز سیاست کا واضح ثبوت ہے۔
عدالتوں کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ مجھے اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ کورٹ پیکنگ کے ذریعے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ:
1. میرے کیسز کی سنوائی ہی نہ ہو تاکہ جھوٹے مقدمات میں مجھے قید رکھا جا سکے۔
2. الیکشن کے بعد بننے والے جعلی حکومتی سیٹ اپ کو قانونی تحفظ دیا جا سکے۔
افغان مہاجرین سے متعلق موجودہ پالیسی ہرگز درست نہیں۔ ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک اور زبردستی ملک بدری کے اقدامات ملک میں مزید بدامنی اور نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ بلوچستان طرز کے اغوا کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جو کہ انتہائی قابل تفشیش ہیں- “فیصلہ سازوں” کی غلط پالیسیوں کے نتائج کا ملبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت پر آئے گا اس لیے علی امین کو ان معاملات پر ایکشن لینا چاہیے- دھاندلی کے کیسز ایک سال سے لٹکے ہوئے ہیں ، اس حوالے سے جنید اکبر سیاسی اور احتجاجی حکمت عملی بنائیں-
بار کونسلز الیکشن میں انتظار پنجوتھہ انصاف لائیرز فورم کے اپنے امیدوار سامنے لائیں اور ساری پارٹی صرف اپنے امیدواران کو سپورٹ کرے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی وکلاء سے گفتگو (29-04-2025)
اے ایمان والو ! جب جمعہ کےدن نماز کےلیے پکارا جائے تو اللہ کےذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑدو۔ یہ تمہارےلیےبہتر ہے،اگر تم سمجھو۔
پھر جب نماز پوری ہوجائےتو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کافضل تلاش کرو،اور اللہ کو کثرت سےیادکرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو
(الجمعہ : 9,10)
اور وہی ذات ہے جس نے یہ زمین پھیلائی، اُس میں پہاڑ اور دریا بنائے، اور اُس میں ہر قسم کے پھلوں کے دو دو جوڑے پیدا کئے۔ وہ دن کو رات کی چادر اُڑھادیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان ساری باتوں میں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کریں۔
﴿سورۃ الرعد، ۳﴾
امیر المومنین علیؑ نے وقتِ آخر
امام حسنؑ و امام حسینؑ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا :
دیکھو ! یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ان پر فاقے کی نوبت نہ آئے اور تمہارے ہوتے ہوئے وہ برباد نہ ہوں
#شہادتِ_امیرالمومنین_امام_علیؑ
اور (اے پیغمبر !) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (آپ ان سے کہہ دیجیے کہ)میں اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔لہذا وہ بھی میری بات دل سے قبول کریں، اور مجھ پر ایمان لائیں،تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔
(سورۃ البقرہ :186)
بیشک ہم نے اس ( قرآن ) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔
اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا چیز ہے؟
شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔
اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں،
وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔
(سورۃ القدر)
مسلمانو !
تمھیں اپنے مال و دولت اور جانوں کے معاملے میں (اور) آزمایا جائے گا
تم اہل کتاب اور مشرکین دونوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے
اگر تم نے صبر اور تقوی سے کام لیا تو یقینا یہی کام بڑی ہمت کے ہیں (جو تمھیں اختیار کرنے ہیں)
(سورۃ آل عمران : 186)
ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے
تم سب کو (اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے
پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا
اور یہ دنیوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں
(آل عمران
قالَ النبی ﷺ:
جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا (یعنی فریب، دھوکہ دینا)، اور جہالت کو (بیہودہ اعمال، باتیں) نہ چھوڑے تو الله کو کوئی حاجت نہیں کہ وہ شخص اپنا کھانا اور پینا چھوڑے.
بخاری 6057
(بخاری 1903؛ ترمذی 707؛ ابوداؤد 2362؛ ماجہ 1689؛ مشکوٰۃ 1999)
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے (ہر حالت میں) ہمیں پکارتاہے۔ پھر جب ہم اُس کی تکلیف دُور کردیتے ہیں، تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔
﴿سورۃ یونس، ۱۲﴾