They tried to crush Imran Khan & Awaam. The only thing they managed to crush was the reputation of their own institution along with country’s economy.
IK supporters will never give up!
Hope the fascism ends soon! It’s time to let Pakistan heal.
#FreeIK804#StreetMovement
عمران خان کی صحت پر شدید تشویش: غیر قانونی اور بے جا قیدِ تنہائی کے 1075 دن! سیاسی انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے مروجہ فاشسٹ نظام نے انسانی حقوق کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ عمران خان کو بغیر کسی جرم کے گزشتہ 1075 دنوں سے انتہائی اذیت ناک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جس کے باعث ان کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ہنگامی طبی صورتحال کے پیشِ نظر انہیں فوری طور پر مناسب طبی امداد کی فراہمی اور اہل خانہ تک رسائی یقینی بنانا ان کا بنیادی آئینی اور قانونی حق ہے۔ کسی بھی قسم کی غفلت کی صورت میں مروجہ مقتدرہ اور کٹھ پتلی حکومت براہِ راست ذمہ دار ہوگی۔
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
دنیا میں بچے جنم دیتے ہوئے جو خواتین کی اموات ہوتی ہیں، پاکستان میں اس کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ چھوٹے شہروں میں ماں اور بچے کی صحت کے لیے ہسپتال نہ ہونا ہے، اس لیے میانوالی میں "مدر اینڈ چلڈرن" ہسپتال بنایا گیا ہے۔ یہ صرف میانوالی کے لیے نہیں بلکہ قریبی اضلاع بلکہ کے پی کے علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت کی خواتین کے لیے بھی سہولت فراہم کرے گا جنہیں حمل یا زچگی کے دوران پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔
عمران خان صاحب کی میانوالی "مدر اینڈ چلڈرن" ہسپتال کی افتتاحی تقریب کے موقع پر گفتگو۔
یاد رہے آج اس ہسپتال کا سٹیٹس تبدیل کر کے اس میں ڈسٹرکٹ ہسپتال شفٹ کر دیا گیا ہے، عمران خان کے نام کی افتتاحی تختی اتار کر کوڑے میں پھینک دی گئی ہے اور میانوالی سمیت قریبی اضلاع کی خواتین اور بچوں کی زندگیوں کو بچانے والی اس امید کی کرن کا دیا بجھا دیا گیا ہے۔
فارم 47 کے ان چوروں کی گھٹیا حرکتیں عمران خان کا نام تاریخ سے نہیں مٹا سکتیں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
اسلام آباد: میانوالی کے 200 بستروں والے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال سے بانی چیئرمین عمران خان کے نام کی افتتاحی تختی ہٹانا ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران سیاسی مخالفین کا مقابلہ کارکردگی سے نہیں بلکہ تاریخ مٹانے کی کوششوں سے کرنا چاہتے ہیں۔
تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ ہسپتال، جس کا افتتاح دسمبر 2022 میں عمران خان نے کیا، میانوالی اور سرگودھا ڈویژن کے لاکھوں عوام کے لیے اہم طبی سہولت ہے۔ اس منصوبے کی شناخت ختم کرنے کی کوشش عوامی خدمت کے منصوبوں کو سیاسی تعصب کی نظر سے دیکھنے کے مترادف ہے۔
یہ منصوبہ عوام کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا، کسی فرد یا جماعت کی ذاتی ملکیت نہیں۔
• پاکستان کا واحد کرکٹ ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت میں جیتا گیا، یہ حقیقت کسی تصویر یا تختی سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔
• شوکت خانم، نمل یونیورسٹی، صحت کارڈ اور دیگر فلاحی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ میراث کام سے بنتی ہے، سرکاری احکامات سے نہیں مٹتی۔
• تاریخ تختیاں ہٹانے سے نہیں بدلتی، عوامی یادداشت اور خدمات اسے زندہ رکھتی ہیں۔
جو لوگ اپنی کارکردگی سے مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ دوسروں کی شناخت مٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن منہ کی کھاتے ہیں۔
عمران خان کا نام کسی تختی کا محتاج نہیں، ان کی خدمات ، عوامی اثر اور اس چور ٹولے میں عمران خان کا خوف ہی خود ان کی پہچان ہیں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
“ان ظالم لوگوں کو اللّہ عبرت کا نشان بنائے گا، ہمارے دل سے تکلیف کے ساتھ یہ بددعا نکلتی ہے کہ اللّہ ان کو عبرت کا نشان بنائے۔ میرا بیٹا بھی فوجیوں کی قید میں ہے جہاں عدالت بھی کچھ نہیں کرسکتی۔ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونا ہی بہت بڑا جرم ہے۔ یہ خوفزدہ ہیں اس لیے انہوں نے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔ جو انہوں نے کیا ہے ان کا حساب ہو گا انشاءاللّہ۔ اڈیالہ جیل انہی سے بھری ہو گی۔”
- @Noreen_KhanPK
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
#حق_کی_جیت_ہو_گی
Every struggle has a turning point.
Hope strengthens with each obstacle, and resilience propels us forward through every chapter.
Regardless of the future, justice, peace, and the rule of law will ultimately prevail.
#خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے#SpeakUpForKhan
نہ کوئی وکیل، نہ کوئی اپیل، نہ کوئی دلیل
عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کے جرم میں ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے بے گناہ پاکستانی۔
7 مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ملٹری ٹرائل کو جائز قرار دیا لیکن حکومت کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ افراد کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دینے کے لیے 45 دن کے اندر قانون سازی کی جائے، آج ایک سال ہونے کو ہے لیکن تاحال قانون سازی ہوئی نہ ہی اپیلوں کا حق ملا اس توہین عدالت کے خلاف عدالت عظمیٰ کی زبان کو بھی تالا لگا ہوا اور اختیارات کو بھی۔
#UndeclaredMartialLaw
بے جُرم قید کے 1057 دن، عمران خان کے خلاف انتقام کی یہ وہ سیاہ ترین تاریخ ہے جو لکھتے ہوئے قلم بھی شرمندہ ہے۔ جس نے قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھایا، آج اس کی صحت اور زندگی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ ظلم کی آخری حد ہے، مگر خان کا عزم آج بھی اس تاریک نظام کے سامنے روشنی بن کر کھڑا ہے۔
#حسینی_خان_بمقابلہ_یزیدی_نظام
عاشورہ کے حوالے سے عمران خان صاحب کا پیغام
"کربلاء میں دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی قربانی دی گئی اس میں تمام مسلمانوں کیلیے ایک اہم پیغام تھا کہ راہ حق میں ظالم کے سامنے سر کٹا تو سکتے ہیں لیکن جھک نہیں سکتے،جب کوئی معاشرہ ظلم کے سامنے جھک جائے وہ تباہ ہوجاتا ہے"۔
”جو سیکیورٹی فورسز عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں لیتی ہیں، مگر پھر کسی کے ذاتی ملازم بن کر اپنے ہی معصوم شہریوں اور پُرامن مظاہرین پر گولیاں چلاتی ہیں، ان سے بڑھ کر بےغیرت کوئی نہیں.“۔ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا @SohailAfridiISF
نو مئی کے بارے میں یہ مقدمات نہیں ہیں بلکہ تماشا ہے۔
تھانہ شادمان حملہ کیس، شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس، جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے کا کیس، سرور روڈ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمات، کلب چوک اور جی او آر ون گیٹ پر حملہ کیس، ریس کورس تھانہ کیس، اور کلمہ چوک کے قریب کنٹینر جلانے کا کیس۔
ایک آدمی اگر جن بھی ہو، تو وہ ان سب جرائم میں بیک وقت شریک نہیں ہو سکتا۔ آپ نے تو ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بریو! بریو! سبحان تیری قدرت، سبحان تیری کھیل! پانچ آدمیوں کو آپ نے فی کس 286 سال جیل کی سزا دی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی دیکھ لیں، کسی بھی جمہوریت یا بنانا ڈیموکریسی میں آپ کو اس قسم کی عدالتی کارروائیاں نہیں ملیں گی۔
پاکستان کا آئین ہائی ٹریزن (سنگین غداری) اس بات کو کہتا ہے کہ جو آئین کو توڑے گا، جو آئین کو روندے گا، اور جو آئین کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھے گا، وہ ہائی ٹریزن کا مجرم ہے۔ اور ساتھ ہی وہ سارے لوگ جو اس عمل میں شریک ہوں گے، وہ بھی ہائی ٹریزن کے مجرم ہیں۔
بات یہ ہے کہ ہم تو مجبور ہیں، پاکستان ہمارا ملک ہے۔ کل کسی وزیر نے کہا تھا کہ ہم اسلام آباد میں جیل بنائیں گے۔ بابا! پاکستان میں اب مزید جیلوں کی ضرورت نہیں ہے۔
آپ نے اس پارلیمنٹ کو ایک ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے معیار سے بھی نیچے گرا دیا ہے، ڈیبیٹنگ سوسائٹی سے بھی نیچے کر دیا ہے آپ نے۔ آپ رحم نہیں کرتے، بار بار ہم آپ سے کہتے ہیں۔
میں نے اس دن بات کی تھی تو میرے بھائی شہباز نے اس کا جواب دیا تھا، لیکن جس انداز میں وہ بولے، مجھے مزہ نہیں آیا۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی