Arshad Sharif brilliantly explained and educated the events happened in #RegimeChangeInPakistan
He has indirectly exposed the reality of #Neutrals or those who are running the state within state.
#باجوہ_استعفی_دو
😥 *87 سال کا نوجوان مجاہد آج کروڑوں* *نوجوان بوڑھوں کو چھوڑ کر اپنا فرض ادا کر کے اپنے مالک کے حضور سرخرو ہوگیا کوئی الفاظ نہیں ہیں اس مجاہد کے لئے صرف دل میں غم اور آنکھ میں آنسو ہیں*😥
*سلام سید علی خامنائی*
#Iran#Khamenei#خامنئي#Tehran
الرٹ ⚠️
یہ ٹویٹ ہر پاکستانی تک پہنچائیں، اس ہیش ٹیگ #خان_کی_زندگی_کیخاطر_سب_بندکرو پر ایک ٹویٹ لازمی کریں، اپنے حصے کی آواز بلند کریں ‼️
اب بھی خاموش رہو گے تو لیڈر کو کھو دو گے ۔۔۔۔
“صاحب قوم کے شعور کی توہین نا کریں۔ آپ چور کو چور کہتے تھے قوم ہم آواز تھی۔ آپ فتوی لگاتے آپ پر ایمان کی حد تک بھروسہ تھا، لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے۔ آپ غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹتے آپ کی حب الوطنی کی قسم کھاتے تھے، کس نے جھٹلانا تھا؟ مگر اب نہیں اب آپ قوم کی توہین کر رہے ہیں۔ آپ صحافی چھوڑ، چینلز خریدیں، جس حب الوطنی کی بنیاد پر آپ کے بیانیے بکتے تھے آپ بھی جانتے ہیں کہ اس کا تمغہ ان سینوں پہ بھی سجا ہے جن کو آپ زبردستی مقابل بنارہے ہیں”؛ ارشد بھائ کی مسکراہٹ بتا رہی تھی وہ دوسری طرف کی جھنجلاہٹ سے بڑے محظوظ ہورہے ہیں۔
ادھر سے گلہ یہ بھی تھا کہ ان کے شاہکار بھی اپنے نام کرلیے۔ “نغمے بھی قوم کے ہیں، قوم کے پیسے سے بنے ہیں۔ احتساب بھی قوم کے پیسے کا تھا جس سے آپ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ جب آپ قوم کو چھوڑ کر ان کے مجرموں کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو قوم بھی آپ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی۔ وہ اپنے نغموں۔ قسموں۔ اپنے بھروسے، سب سے آپ کو عاق کر دے گی۔ سمجھ جائیں آپ کی طاقت قوم ہے، ڈنڈا نہیں۔ آپ کے پاس صرف ڈنڈا رہ جائیگا۔ ڈنڈے سے دل نہیں جیتے جاتے”۔
راس نہیں آتی اتنی جرات ہم جیسی قوموں کے بیٹوں کو۔ راس آئ بھی نہیں بڑی قیمت چکھانی پڑی لیکن بات اس کی یہ بھی سچ ثابت ہوئ، اس کی ہر بات کیطرح۔۔
ڈیڑھ سال سے بیانیے بن رہے ہیں۔ یار بک گئے۔ غم خوار بک گئے۔ وفاداریاں اونے پونے نکل گئیں۔ ایمان کوڑیوں کے بھاؤ آ گئے۔ اصول، اقدار، قانون کونسی چیز ہے کہ جس کی بولی نہیں لگی۔ لیکن قوم نے اپنے بھروسے سے ایسے عاق کیا ہے بیانیہ بن کے ہی نہیں دے رہا۔
ارشد بھائ جان سے گئے، جیتے جی رسوا کرنے کی کوششیں کیں، مرے تو کیا کیا تہمتیں لگیں۔ ظلِ شاہ کے جسم میں کوئ عضو سلامت نہ چھوڑا، جن انگلیوں سے اس کا خون ٹپک رہا تھا، وہی ہاتھ اس کے محبوب گریباں پر ڈالے۔ اب عمار۔۔
عمران خان کی جان پر حملہ، کردار پر حملہ، مکان پر حملہ، حملہ بھی اس پر، پرچہ بھی اس پر۔
ہم بالوں سے پکڑ کر دنیا کے سامنے بھری عدالت سے گھسیٹتے لے گئے، ظلم تم نے کیا تم نے آنکھیں کیوں نا پھیریں؟
پنجاب میں الیکشن جیت گئے؟ زیادتی کردی اب تو آئین پامال ہوگا مجبوری ہے ہم کہہ رہے ہیں، مان لو تمہاری مجبوری ہے۔
کشمیر، گلگت بلتستان میں تمہاری حکومتیں ہیں؟ ہم نہیں چاہتے۔ خاموشی سے حوالے کردو۔ بولوگے تو برے بنوگے۔
سائفر تھا، نہیں تھا۔ مداخلت تھی، سازش تھی۔ ہائے ہائے قوم کو بتا دیا؟ یہ کوئ بتانے والی بات تھی بند کمرے میں گھٹنوں کو ہاتھ لگانے تھے یہ کیا کردیا؟
سرحد پار سے کوئ آیا؟ نہیں آیا۔ پراپگنڈہ کر رہے ہو، شرپسند کہیں کے۔ مگر اب آگیا ہے، دیکھو لوگ مر رہے ہیں بد امنی ہے، الیکشن نہیں مانگنا۔۔ اب جواب مانگ رہے ہو؟ سوال ہوچھ رہے ہو؟ غدار! واجب القتل ہو تم تو۔
میں دہشتگرد، میرے یار غدار، میری قوم باغی، میری نسل گناہگار۔
مسئلہ یہ ہے کہ سننے والوں کو یاد ہے، بولنے والے اپنی ہی گڑی کہانی بھول جاتے ہیں۔ پھر جھنجلا جاتے ہیں کہ قوم مان کیوں نہیں رہی۔
جنجھلاہٹ میں پھر ۹ مئی کی تلوار لے کر پل پڑتے ہیں۔۔ اور ۹ مئی بھی کیا اپنی صفوں میں مڑ کر پوچھ لیں۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ ۹ مئ کی فصل ۹ اپریل کو بوئ گئ تھی اور بونے والے ہاتھ دونوں مرتبہ ایک ہی تھے!
“بیانیہ سچ پر بنتا ہے” ایک اپنے نام کیطرح راست باز دیوانہ ہوتا تھا ارشد شریف، جس نے تمہیں یہ حقیقت سمجھانا چاہی تھی۔
آج بھی حقیقت یہی ہے کہ جب قوم اپنے بچوں کے جنازے پڑھتے نڈھال ہورہی ہو تو دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا عزم کانوں میں پگلتے سیسے کیطرح اترتا ہے۔ خدا کے لیے مان جاؤ۔ قوم کے شعور کی توہین نا کرو۔لاشوں پہ نوحے لکھے جاتے ہیں بیانیے نہیں بنائے جاتے۔
سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی ہو، وہ قصوروار ہے۔
لیکن قومی خزانہ لوٹنے والے کب سے معتبر ہو گئے؟
سرکاری املاک کے نقصان پر وہ لوگ مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں جنہوں نے ساری زندگی کی ہی کرپشن ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بنے۔
رانا ثناءاللّه نے اعتراف کیا کہ کور کمانڈر ہاؤس سے سیکیورٹی انہوں نے خود جان بوجھ کر ہٹائی۔ اس بات کا کیا جواز تھا؟
کیا پتا شفاف تحقیقات ہونے پر پتا چلے کہ سرکاری املاک کے نقصان پر سب سے زیادہ شور کرنے والے ہی اصل ذمہ دار نکل آئیں؟
فوج اور عمران خان کو آپس میں لڑوانے کی خواہش رکھنے والوں کی پوری کوشش ہے کہ فوج اور عوام کو آپس میں لڑوا دیں۔ لیکن ان کی ہر مذموم کوشش ناکام ہو گی انشاءاللّه۔
اس وقت میڈیا پر پورا زور لگایا جا رہا ہے کہ کسی طرح الیکشن سے توجہ ہٹا کر عمران خان کو مائنس کرنے پر تیزی سے کام کیا جاۓ،
کیونکہ الیکشن تو عمران خان نے کلین سویپ کر جانا ہے۔ بہت سے لوگ عمران خان کی محبت سے زیادہ PDM کی مخالفت میں PTI کو ووٹ دیں گے۔
اور اس کی وجہ PDM جماعتوں کی سالہا سال کی انتھک کرپشن اور پچھلے ایک سال کی فسطائیت سے بھرپور جابرانہ دور حکومت ہے۔
کیا لوگ ارشد شریف کے جنازے والے دن لندن میں کیک کاٹ کر خوشیاں منانے والوں کو اپنا مسیحا سمجھ لیں؟
یہ آئے دن جتنے لوگ بھی PTI چھوڑنے کا اعلان کر رہے ہیں، اس سے عمران خان کا ووٹر اور پر عزم ہو رہا ہے۔
پوری دنیا کو پتا ہے کہ عمران خان ہی وہ واحد لیڈر ہے جو ہمیشہ پاک فوج کے دفاع کیلئے ڈٹ کر کھڑا ہوا۔
اس کے دامن پر نواز شریف کی طرح Dawn Leaks, اجمل قصاب اور بھارت جا کر کارگل جنگ میں پاک فوج کی شکایتیں کرنے کے داغ نہیں۔
اور لوگوں کی یاداشت اتنی کمزور نہیں جو یہ سب بھول کر صرف وہ سبق یاد کر لیں جو آج کل %98 میڈیا پر زبردستی عوام کو پڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
People have brains and they know how to put their intelligence to good use!