بند کمروں میں مہنگے معدنی سودے اور اربوں ڈالر کے معاہدے ہو رہے ہیں، لیکن اس کی اصل قیمت عام شہری چکاتا ہے۔ جب اشرافیہ اور طاقتور حلقے قیمتی وسائل کی تقسیم میں مصروف ہوں، تو اس کا خمیازہ معصوم خاندان اپنے گھروں کی تباہی کی صورت میں بھگتتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسے سودے ہمیشہ عوام کے خون سے لکھے جاتے ہیں۔ دنیا کو زمینی حقائق کا قریب سے جائزہ لینا ہوگا کہ ترقی کے نام پر وسائل کا استحصال کیسے کیا جا رہا ہے۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا