This isn't the first time — candidates deserve exams that test knowledge fairly, not our ability to guess what the examiner "meant." @cpsp_pakistan needs to revisit their MCQ quality control process.
#CPSP#MedTwitter#MedEd#Pakistan 2/2
Just gave my CPSP fscp Part 1 exam today, and honestly, I'm disappointed by the quality of the paper. Several questions were vaguely worded, with overlapping or unclear options that didn't align with standard references. 1/2
This picture is a slap in the face of patient confidentiality, medical ethics, and respect for doctors who spend years studying and training to serve people.
Allegedly, a CSS officer (ACP Burewala) entered a hospital (THQ) with cameras and a mic attached to his clothes while patients were actively being treated, and then publicly insulted a female doctor while recording the entire scene.
Hospitals are not movie sets or political stages. Patients deserve privacy, and doctors deserve dignity and professional respect.
Then people ask why doctors are leaving Pakistan. This kind of humiliation, interference, and public shaming is exactly why.
Absolutely shameful.
صوبائی حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ڈاکٹروں کو روزانہ لاشیں اٹھانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے
گزشتہ بارہ سال سے حکومت صرف پالیسیاں بنانے میں مصروف رہی ہے جبکہ عملی اقدامات نہیں کیے گئے
اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کے مراکز وزیراعلیٰ ہاؤس اور اڈیالہ جیل ہوں گے
صوبائی صدر ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی
سرکاری ترجیحات کا ایک اور تلخ پہلو اطلاعات یہ ہے کہ میں سٹریم میڈیا صحافیوں، ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو خصوصی پروٹوکول، رہائش اور مالی مراعات فراہم کی گئیں، محض پتنگ بازی اور اس سے متعلق ویڈیوز کی تشہیر کے لیے۔ اس مقصد کے لیے سرکاری خزانے سے کھلے دل کے ساتھ رقوم خرچ کی گئیں۔دوسری جانب دارالحکومت کے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں صورتحال اس کے برعکس رہی، جہاں ایمرجنسی کے دوران لاشیں اٹھانے کے لیے اسٹریچر تک دستیاب نہ تھے۔ مریضوں اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بنیادی طبی سہولیات کی کمی نے نظام صحت کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا۔یہ صورتحال ریاستی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے، جہاں تشہیری سرگرمیوں پر وسائل تو موجود ہیں، مگر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامات نظر انداز کر دیے گئے۔ ایسے فیصلے حکمرانی کے دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔