اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
دل اُس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا
وہ روپ کہ جس روپ سے کلیاں بھی لجائیں
وہ زلف کہ جس زلف سے شرمائیں گھٹائیں
میخانے نگاہوں کے، اداؤں کے ترانے
دے ڈالے مجھے اُس نے محبت کے خزانے
ہاں ایسی ��ی اک رات تھی، ایسا ہی سماں تھا
یہ چاند بھی پورا تھا، زمانہ بھی جواں تھا
اک پیڑ کے سائے میں جب اقرار ہوا تھا
اک حُسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
کشمیر کی وادی کے وہ پُر کیف نظارے
لمحات محبت کے جہاں ہم نے گزارے
انگڑائیاں لے کر مری بانہوں کے سہارے
گلنار نظر آتے تھے وہ شرم کے مارے
یک طرفہ تو نہ تھے حُسن و محبت کے اشارے
اُس نے بھی کئی بار مرے بال سنوارے
احساس کا، جذبات کا اقرار ہوا تھا
اک حُسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
کچھ روز کٹے یوں بھی برا وقت جب آیا
اُس حُسن کی دیوی نے بھی نظثروں کو پھرایا
غربت نے زمانے کی نگاہوں سے گرایا
آنچل مرے ہاتھوں سے محبت نے چھڑایا
اک رات کو اُس نے مجھے سوتا ہوا چھوڑا
چل دی وہ کہیں، پیار کو روتا ہوا چھوڑا
سویا ہوا میں نیند سے جاگا جو سویرے
وہ جب نہ ملی، چھا گئے آنکھوں میں اندھیرے
تقدیر کسی کو بھی برے دن نہ دکھائے
ہوتے ہیں برے وقت میں اپنے بھی پرائے
کیا پیار کی دولت کا طلبگار ہوا تھا
اک حُسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
دل اُس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا
اک حُسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
شاعر :مشیر کاظمی
نگار لالا کی آواز میں درگیوالا حجرہ میں
مبارک صدیقی صاحب کی بہت ہی خوبصورت غزل ❤️
خز��ں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
ہوا کی زد پہ دیا جلانا جلا کے رکھنا کمال یہ ہے
ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلقں زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچھڑنے کا بھول جائے
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا کمال یہ ہے
خیال اپنا مزاج اپنا پسند اپنی کمال کیا ہے
جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
کسی کی راہ سے خدا کی خاطر اٹھا کے کانٹے ہٹا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا کمال یہ ہے
وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے شکست کھائے
لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا کمال یہ ہے
ہزار طاقت ہو سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے
ادب کی لذت دعا کی خوشبو بسا کہ رکھنا کمال یہ ہے...