موبائل اپلیکشن یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں
https://t.co/B6mhQN6cQo
( PDF)مکمل ایک ہی جلد میں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں
https://t.co/bBILELG9qT
شیئر کیجئے اس کار خیر میں اپنا حصہ ملائیں۔ https://t.co/OTCMRsy0NY
The journey that started in 2013 and when it started never in my wildest dream I thought this is something that’s possible but indeed “Allah is the best planner”
The day was made even more special having my son there with me
Thank you Zimbabwe Cricket and my teammates for this beautiful gesture, very grateful and honored
#Alhamdulillah
#VisitZimbabwe #Zimbabwe
گھٹانے پر آتے ہیں تو ایک ساتھ تیس پینتیس گھٹادیتے ہیں۔ بڑھانا ہو تو تین چار سے آگے نہیں جاتے۔ ایک ہی تو ایل ہے۔ مطلب ایک ہی تو دل ہے۔ کتنی بار جیتو گے شہباز چاچو 😘
مولانا کا ایک بیان سننے کو ملا جس میں وہ اپنی جماعت کے سوشل میڈیا کارکنان کو غیر اخلاقی گفتگو سے روک رہے ہیں اور حقیقت یہی ہے کہ جب سے مولانا کے بیان پر اختلاف رائے لکھنا شروع کیا ہے تب سے لاتعداد رپلائی ایسے وصول پائے ہیں جن میں عمرانی فتنہ سے زیادہ غلاظت پڑھنے کو ملی اور جب سالم رکشہ کرواکر اس اکاؤنٹ پر نظر دوڑائی تو موصوف مولانا مدرسہ سے فارغالتحصیل مفتی ہیں اور چہرے پر نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت بھی سجائے ہوئے ہیں اور مفتی کی ڈگری کے ساتھ ساتھ گالیوں میں بھی ڈپلومہ کئے ہوئے ہیں اور اب یہ ذمہ داری مولانا کے بھائی پر عائد ہوتی ہے کہ اپنے بے لگام مفتیان کو لگام دیں کیونکہ مولانا سے اختلاف صرف ایک بیان پر ہے
یہ لاہور ہے۔ دو روز قبل ڈی ایچ اے میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کی گاڑی کو بائیں جانب سے اوورٹیک کرنے والے ایک بااثر نوجوان نے شغل لگاتے ہوئے پانچ ہوائی فائر کر دیے۔ عطا تارڑ اس وقت اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ تھے۔ تھوڑی سی کوشش کی جاتی تو فائرنگ کرنے والے اور اس کی گاڑی کو تلاش کرنا مشکل نہ تھا، مگر اگرچہ وہ پکڑا گیا، کیس دبا دیا گیا۔سوچیے، اگر وفاقی وزیر کی جگہ کوئی عام شہری اپنی فیملی کے ساتھ ہوتا تو یہ کتنا خوفناک تجربہ ثابت ہوتا، اور اس کے اہلِ خانہ پر اس کے کتنے گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے۔یہ سب ایسے ماحول میں ہو رہا ہے جب دھڑا دھڑ پولیس مقابلے جاری ہیں۔ اس سے پہلے ماڈل ٹاؤن میں ملازمہ کی ہلاکت کا ذمہ دار ایک مالدار مبینہ ریپسٹ بھی صاف بچ نکلا، اور آج لاہور پریس کلب ہاؤسنگ سوسائٹی کے باہر شوٹرز دھڑلے سے ایک صحافی کے جوان سال بیٹے کو قتل کرنے نکل گئے۔
دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، جبکہ کھلی لاقانونیت بدستور جاری ہے۔
پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ اب @juipakofficial اور @ANPMarkaz نے بھی یہ وطیرہ اپنا لیا ہے کہ جو بھی صحافی ان کے کرتوتوں پر سوال اٹھائے تو فورا کالے چینل کا فتوی صادر کر دیتے ہیں
تا ہم ان کے حق میں بات کرتے وقت یہ "فتوی" حق گوئی کے خطاب میں بدل جاتا ھے
میاں صاحب 2024 کے الیکشن کے بعد آپ پاکستان کے وزیراعظم بھی نہی بن سکے تھے مگر کیا آپ شہباز شریف سے پوچھتے ہیں کہ وہ جو نون لیگ کا اپنا منشور وہ وعدے جو آپ نے دوران الیکشن کیے وہ بجلی کی قیمت تیس فیصد سستی کریں گے دو سو یونٹ مفت بجلی دیں گے ضروریات زندگی سستی ہو گی جبکہ وہ پیٹرول جو عمران دور میں 160 روپے لیٹر تھا اب 317 روپے لیٹر ہو چکا ہے بجلی کی قیمت دوگنی بڑھ چکی ہے اس بارے آپ شہباز شریف سے کب پوچھیں گے ؟
خاندانی بادشاہتیں کم از کم محکمانہ فوجی آمریتوں سے تو بہتر ھوتی ھیں ۔ حکمران کو خاندانی عزت اور prestige کی فکر تو رہتی ھے .. یہاں تو بعد میں کہتے میں نہیں محکمہ تھا ۔۔میرا ضمیر جاگ گیا ۔ اب میں کتاب لکھوں گا
تلمیذ راجہ
ظفر اس کو آدمی نہ جانیے گا
چاہے ہو کتنا ہی صاحب فہم و ذکا
جیسے عیش میں یاد خدا نہ رہی
جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا۔۔
اسپین کے مسلمان سٹار لامین یامال کے پیچھے ہنگامہ برما ہے مگر وہ اپنے اللہ کے شکر و زکر میں مصروف ہے۔
کراچی کماڑی سکندراباد سے دو سالہ بچی نام زینب گم ہوئی ہے تین مہینے ہو گئے ہیں جس کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں ان کے گھر والے بہت پریشان ہیں وہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کی بچی کو جلد بازیاب کرایا جائے اور انہوں انصاف دیا جائے انہوں نےنشاندہی بھی کرائی ہے مگر پولیس نے ان سے بھاری رقم لے کے ان کو رہا کر دیا خدارا کب تک ایسے معصوم بچے اغوا ہوتے رہیں گے۔
سر جی بہت احترام کے ساتھ تو کیا جنرل مشرف نے ایم ایم اے سے پارلیمنٹ میں وردی کے ساتھ صدر بننے اور indemnity لینے کے اگلے دن اپنی وردی اتار دی تھی؟
وہ وردی جنرل مشرف نے اس ووٹ کے تین سال بعد اتاری تھی۔
کسی دن آپ امریکن وزیردفاع رمز فیلڈ/کنڈلیزا رائس کی خودنوشت پڑھیں تو اندازہ ہوگا امریکن نے /2007 2006 میں جنرل مشرف کو کہنا شروع کر دیا تھا کہ اب کافی ہوگیا تھاژ وردی اتاریں اور وزیراعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ سویلین صدر بن کر رہیں۔
مشرف اپنی وردی ایم ایم اے نہیں بلکہ امریکن کے کہنے پر اتارنے پر تیار ہوئے تھے۔ وہ ایم ایم اے سے کی گئی کمٹمنٹ سے تو مکر سکتے تھے (جیسے ضیاء PNA کے سربراہوں سے نوے دن میں الیکشن کا وعدہ کر کے مکر گیا کس نے کیا بگاڑ لیا تھا کہ ایم ایم اے بگاڑ لیتی)
لیکن جنرل مشرف امریکن صدر جارج بش اور ان کی ٹیم کے حکم سے نہیں مکر سکتے تھے۔
رمز فیلڈ لکھتے ہیں وہ جارج بش کی کابینہ میں واحد وزیر تھے جو مشرف کی وردی اتارنے کے خلاف تھے کہ امریکن نے ابھی افغانستان میں ان سے کام لینا تھا اور رمز فیلڈ کا کہنا تھا بغیر وردی مشرف ان کے کسی کام کا نہیں ہوگا۔
لیکن وزیرخارجہ کنڈولزا رائس اور خودصدر بش اس حق میں نہیں تھے لہذا کچھ عرصہ مشرف کو دیا گیا کہ وہ وائنڈ اپ کریں اور ہاں یہ الزام امریکن پر نہ لگے کہ وہ ہر دفعہ فوجی ڈکٹیٹر کو دس سال استمعال کرنے کے بعد ڈمپ /بھول جاتے ہیں لہذا انہیں کہا گیا وہ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ سویلین صدر رہیں گے تاکہ امریکن جنرل ایوب اور جنرل ضیاء کے بعد تیسرے آرمی جنرل کے طعنہ سے بچ جائیں۔
اگر ایم ایم اے وردی اترواتی تو وہ تین سال مشرف کو وردی کے ساتھ نہ دیتی نہ ہی LFO منظور کرتی جس نے آئین کا حلیہ ہی بگاڑ دیا تھا اور سب سے بڑھ کر بارہ اکتوبر اور کارگل سمیت تمام فیصلوں کو قانونی کور نہ دیتی۔ اور تو اور ایم ایم اے نے جنرل مشرف کے امریکن کو افغانستان کے حملوں کے لیے فوجی اڈے دینے کے فیصلہ کو بھی endorse کر کے پارلیمنٹ میں ووٹ ڈالا تھا تاکہ کبھی کوئی کیس ان کے خلاف کبھی نہ بنایا جا سکے۔
اب آپ پوچھیں گے پھر جنرل مشرف پر نواز شریف نے 2013/204 میں ارٹیکل 6 کا مقدمہ کیسے قائم کیا تھا؟
اس لیے وزیراعظم نواز شریف نے 2013/14 میں مشرف کے خلاف ارٹیکل چھ کا مقدمہ اکتوبر 2007 کی ایمرجنسی لگانے پر دائر کیا تھا، بارہ اکتوبر کی بغاوت پر نہیں کیونکہ اسے ایم ایم اے اور ق لیگ آئینی کور دے چکے تھے۔
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں عصر کے بعد غروب آفتاب کے قریب تک خطبہ ارشاد فرمایا، اور جب سورج غروب ہونے کے قریب پہنچا تو فرمایا:
گزری ہوئی مدتِ دنیا اور باقی مدت دنیا کی مثال ایسے ہی ہے جیسے گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں دن کاباقی حصہ۔
(مسند احمد، ۱۱۰۸۶)
فی الحال مولانا کے استدلال میں جذباتیت غالب اور دلائل غائب ہیں۔ وہ بڑے صرف کے آدمی ہیں امید ہے مستقبل قریب میں جذباتی کیفیت کے خاتمے پر مولانا اپنے بعض موجودہ خیالات سے رجوع کر لیں گے۔ عسکری ذرائع
انڈیا میں نوجوانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔۔
بی بی سی کی اس رپورٹ کے مطابق جین زی سے تعلق رکھنے والے کاکروچ پارٹی کے ورکرز وزیر تعلیم کا استعفی مانگ رہے ہیں۔
کاکروچ پارٹی مئی میں بھارت کے چیف جسٹس، سوریہ کانت کے بیانات کے ردعمل میں ابھری
بتایا جا رہا ایران نے پاکستان سے کہا کہ اس کے وزیر داخلہ کے دورے کے لیے امریکہ سے اجازت لی جائے پاکستان نے اجازت لی تب دورہ ممکن ہوا اب ایران چاہتا پاکستان سیز فائر کروا دے جیسے پہلے کروائی تھی جبکہ امریکہ اس دفعہ کسی شرط کو ماننے کو تیار نہی وہ کہہ رہا پہلے غیر مشروط آبنائے ہرمز کو کھولے تب سیز فائر ہو گا
جبکہ ایران پہلے کی طرح صرف وقت حاصل کرنا چاہتا کہ پہلے یہ دو وہ دو پھر سیز فائر ہو گا اس دفعہ وہ کشن جو پہلے حاصل تھا وہ نہی مل رہا ہے پاکستان بھی ناراض ہے