مجھے پاکستان سے پیار ہے۔ اس شخص اور ادارے سے پیار ہےجو پاکستان کی سالمیت کیلیے کام کرتا ہو۔ مجھے نفرت ہے ہر اس شخص اور ادارے سے جو ملک کے نقصان کا باعث بنتا ہو
جن کا تعلق نواز شریف ، بھٹو اور مولنا فضل رحمان کے قافلے سے ہے وہ اپنا اکاونٹ کمنٹ کریں۔
وہ جانباز سپاہی جن کے 5000 ہزار سے کم فالورز ہیں
👈اس ٹویٹ کو ریٹویٹ کر کے اپنے فالورز بڑھا لیں مجھے فالو کر کے فالو بیک لیں۔۔۔
I’ve been instructed to call on the public not to attempt to march or protest nearby Adiala jail on 27 March. I’ve heard from sources that this may be used as an excuse for the establishment to launch a “counter” assault on the jail (Which my father is being held in), which could endanger his life. Please do not give them any reasons for “accidents” to happen to my father during the protest.
جنید اکبر کی تقریر پر پرچہ کٹ گیا، وہ بھی دہشتگردی کا۔ اگر آپ کو جنید جیسے جمہوریت پسند، امن پسند، پکے پاکستانی کی باتیں دہشتگردی لگ رہی ہیں، تو اپنی حکمت عملی اور فیصلوں پر نظرثانی کریں۔ پرچے اور گرفتاری ان حالات کا حل نہیں
پیغامِ عمران خان🚨
27 ستمبر کی تاریخ آپ کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ خوف کی زنجیریں توڑ کر حق اور آئین کی بالادستی کے لیے نکلیں۔
⚠️ نوٹ: یہ ویڈیو AI کے ذریعے تیار کی گئی ہے
جناب سپیکر، صرف ایک ادارے کی بات نہیں تمام ادارے مفلوج ہوچکے ہیں اور ان کے خلاف شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ عدالتیں انصاف نہیں کر ��ہیں، پولیس جرائم نہیں روک رہی، فوج امن نہیں لا رہی بلکہ باقی کام کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ جمہوریت کی حفاظت نہیں کر رہی، سارے بکے ہوئے اور بوٹ پالش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ نفرت صرف عمران خان ختم کر سکتے ہیں۔
غلط پالیسیوں سے بلوچ پہاڑوں پر چڑھے رو رہے ہیں، پختون روزانہ شہید ہونے پر، پنجابی چادر چار دیواری کی پامالی پر رو رہے ہیں۔ کل پنجاب میں عمران خان کے خاندان کو تین چار سال کے بچوں سمیت اٹھا لیا گیا۔ پنجاب میں سانس لینے کی آزادی نہیں، سندھی گلگتی کشمیری بھی رو رہے ہیں۔
تاریخ میں پہلی بار کشمیریوں پر گولیاں چلیں، سو سے زائد شہید ہوئے۔ ۲۶ نومبر کو پی ٹی آئی ورکرز، ٹی ایل پی مریدوں اور اہل تشیع کے پرامن مظاہرین پر گولیاں چلا کر شہید کیا گیا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شہادتیں ہو رہی ہیں تو نفرت کیوں نہ ہو؟ کون اکٹھا کرے گا؟ عمران خان واحد لیڈر ہیں جو قومی یکجہتی کی علامت ہیں اور یہ نفرت ختم کر سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
Members of former prime minister Imran Khan's family, including his three sisters, as well as activists from Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) have been arbitrarily detained.
The targeting of his family and PTI party activists is a flagrant violation of their rights to liberty, freedom of expression, association and peaceful assembly. Such actions speak to the severity of the current restrictions in Pakistan.
Amnesty International calls on the Pakistani authorities to immediately release Imran Khan’s relatives and PTI workers, who have been targeted simply for their familial ties, political affiliation and plans to protest.
Imran Khan's son has told Sky's chief presenter @MarkAustinTV that his family members have been arrested ahead of a protest march.
Former Pakistani prime minister Mr Khan has been imprisoned for more than three years.
Read more: https://t.co/lYzKrXa292
Very powerful and much needed intervention from former Prime Minister @BorisJohnson calling on Pakistan to free @ImranKhanPTI
“What the Pakistani generals fear is that if they let him out, his millions of fans in Pakistan will simply bear him aloft to a tumultuous victory in the next available election. That is why they are treating him with such cruelty – refusing even to allow his two sons, Sulaiman and Kasim, to have visas to visit him in jail.”
https://t.co/MQrw0NGsA0
سابق برطانوی وزیراعظم
بورس جانسن کا آرٹیل پڑھیں:
’’اس وقت مجھے خدشہ ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستانی حکام فعال طور پر یہ امید کر رہے ہیں کہ عمران خان جیل میں ہی مر جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی ساکھ پر ایک سنگین داغ ہوگا۔ اس کوٹھڑی کا تالا کھولیں اور عمران خان کو آزاد کریں‘‘
جیل کی اس کوٹھڑی کا تالا کھولیں اور عمران خان کو رہا کریں
پاکستان کی ایک جیل میں ایک چھوٹی، نم زدہ اور کی��وں سے بھری کوٹھڑی میں 73 سالہ شخص موت کا انتظار کر رہا ہے۔ اسے کئی کئی دن تک قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ وہ مناسب طریقے سے ورزش بھی نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کا کمرہ، جس میں بیت الخلا بھی شامل ہے، صرف 6 فٹ چوڑا اور 8 فٹ لمبا ہے۔
اس کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں ہے۔ بعض اوقات لائٹس بند کر دی جاتی ہیں، جس کے باعث وہ کئی کئی دن اندھیرے میں بیٹھا رہتا ہے اور دوبارہ دیکھنے کے قابل ہونے کا انتظار کرتا ہے۔ طویل عرصے تک اسے کتابوں یا اخبارات تک رسائی نہیں دی جاتی، ملاقات کی اجازت تو دور کی بات ہے۔ نتیجتاً وہ خود کو بیرونی دنیا سے تیزی سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے اور اپنی ذہنی صحت کے بارے میں خوفزدہ ہے۔
اسے ان حالات میں قید ہوئے اب تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران اس نے گرمیوں کی شدید حدت اور سردیوں کی کڑاکے کی سردی برداشت کی ہے۔ ناقص اور تاخیر سے کیے گئے طبی علاج کے بعد اس کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی ختم ہو چکی ہے۔
اسے جن حالات میں رکھا جا رہا ہے، ان کی گزشتہ دو برس کے دوران اقوام متحدہ کے تشدد کے خلاف خصوصی نمائندے نے تین مرتبہ مذمت کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ��ھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ قیدی کو مناسب طبی سہولیات تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
وہ قیدی، یقیناً، عمران خان ہیں، جو 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ ان کی تکالیف اب ایک عالمی اسکینڈل کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے انہیں سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات کی بھرمار کا سامنا ہے، جن کا مقصد انہیں مستقل طور پر عوامی زندگی سے باہر کرنا ہے۔
یہ الزامات اس قدر واضح طور پر بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر مقدمات ختم ہو چکے ہیں۔ صرف ایک مقدمہ باقی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے برطانوی حکومت کی کچھ رقم ایک مخصوص پراپرٹی ڈویلپر کو منتقل کرنے میں مدد کی، جس نے بعد ازاں عمران خان اور ان کی اہلیہ سے وابستہ ایک یونیورسٹی کو خطیر رقم عطیہ کی۔
اگر یہ الزامات ہر لحاظ سے درست بھی ہوں، اور عمران خان اپنی سزا کے خلاف اپیل کر رہے ہیں، تو بھی پاکستانی استغاثہ تسلیم کر چکا ہے کہ نہ عمران خان اور نہ ہی ان کی اہلیہ کو یونیورسٹی کو دیے گئے عطیے سے کوئی مالی فائدہ حاصل ہونا تھا۔
اگر یہ بھی درست مان لیا جائے کہ عمران خان کے خلاف نام نہاد القادر کیس میں کسی حد تک جواب طلبی بنتی ہے، اور میرے لیے یہ بات بھی قطعی واضح نہیں ہے، تو بھی انہوں نے اس قسم کے ذہنی اور جسمانی تشدد کا مستحق ہونے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ سب سے بڑھ کر، وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی اپیل پر فوری طور پر اور ایک آزاد عدالت میں سماعت کی جائے۔
اس کے بجائے انہیں جیل میں لفظی طور پر سڑ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقدمہ کبھی کرپشن کے بارے میں تھا ہی نہیں، کیونکہ حقیقت میں عمران خان جدید دور کے سب سے زیادہ کھلے اور شفاف پاکستانی سیاست ��انوں میں سے ایک رہے ہیں۔
یہ مقدمہ بھی، عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے خلاف ہونے والی تمام قانونی کارروائیوں کی طرح، پاکستانی فوج کی اس خواہش کے تحت چلایا گیا ہے کہ انہیں سیاسی منظرنامے سے ہٹا دیا جائے۔ ان کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے جمہوریت کو سنجیدگی سے لیا اور پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کی۔
آئین کے تحت انہیں فوج کے سربراہ کا تقرر کرنے کا اختیار حاصل تھا، لیکن جب انہوں نے اپنی صوابدید استعمال کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ امیدوار کو منتخب کرنا چاہا تو معلوم ہوا کہ جرنیلوں کے ارادے کچھ اور تھے۔
عمران خان نے پاکستان کے نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اس کی قیمت چکائی۔ بنیادی طور پر یہی وجہ ہے کہ وہ جیل میں ہیں۔
مجھے یہ وضاحت کر دینی چاہیے کہ میں عمران خان کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور انہیں پسند کرتا ہوں۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے کچھ اچھے کام کیے، یا کم از کم ان کی کوشش ضرور کی۔ جنگلات اور ماحولیات کے حوالے سے ان کے خیالات قابلِ ذکر تھے۔ وہ اس بات کو سمجھتے تھے کہ پاکستان میں خواتین کی خواندگی کتنی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
خود سے پوچھیں کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں کیوں شامل ہے جہاں آبادی میں مسلسل، وسیع اور غیر پائیدار اضافہ ہو رہا ہے؟ اس کا جواب شرح خواندگی کے اعداد و شمار میں واضح ہے۔ افغانستان کے علاوہ پاکستان کا شمار دنیا کے تقریباً ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خواتین کی خواندگی کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ تقریباً 50 فیصد پاکستانی خواتین اب بھی پڑھنے اور لکھنے سے قاصر ہیں۔
عمران خان سمجھتے تھے کہ یہ ان کے ملک کے لیے ایک تباہ کن صورتحال ہے اور انہوں نے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے بچیوں کو اسکول میں برقرار رکھنے کی حوصلہ افزائی کے لیے اضافی مالی مراعات کا منصوبہ بنایا گیا۔ شاید وہ اپنی خواہش کے مطابق زیادہ پیش رفت نہ کر سکے ہوں، لیکن اس کی بڑی وجہ کووڈ تھا، جس کے باعث لڑکوں اور لڑکیوں سمیت سب کے لیے اسکول بند رہے۔
وہ یقیناً ہر معاملے میں درست نہیں تھے۔ مجھے یاد ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے اگلے روز میں نے عمران خان کو فون کیا تھا اور محسوس کیا کہ وہ ماسکو کی مذمت کے معاملے میں مکمل طور پر دوٹوک نہیں تھے۔ لیکن بدقسمتی سے برطانیہ کے بعض دیگر معروف دوستوں اور اتحادیوں کے بارے میں بھی یہی بات کہی جا سکتی ہے۔
طالبان کے معاملے میں بھی ان کا مؤقف مکمل طور پر درست نہیں تھا۔ تاہم، یہ پاکستانی حکومت کی ایک دیرینہ پالیسی رہی ہے کہ کابل میں جو بھی حکومت ہو، خواہ وہ ک��نی ہی سخت گیر اور بنیاد پرست کیوں نہ ہو، اگر وہ بھارت کے ساتھ اتحاد نہ رکھتی ہو تو اس کی حمایت کی جائے۔
آپ عمران خان کے بعض رویوں اور ان کے نوعمرانہ نوعیت کے امریکہ مخالف خیالات پر اعتراض کر سکتے ہیں، لیکن ان کے کسی بیان یا اقدام سے یہ جواز پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستانی جرنیل سابق وزیر اعظم کے ساتھ اس قدر سفاکانہ سلوک کریں۔ انہیں بدترین حالات میں قید رکھا جا رہا ہے، ان کی صحت بگڑ رہی ہے، نئے مقدمے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں اور رہائی کی بظاہر کوئی امید نظر نہیں آتی۔
وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
جواب سادہ ہے: وہ عمران خان سے خوفزدہ ہیں۔
عمران خان پاکستان، بلکہ دنیا کے عظیم ترین کرکٹ ہیروز میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کو بھارت اور انگلینڈ کے خلاف پہلی مرتبہ ٹیسٹ فتوحات دلائیں۔ پھر 1992 میں 39 سال کی عمر میں پاکستان کو اس کی پہلی ورلڈ کپ فتح سے ہمکنار کیا۔
پاکستانی جرنیلوں کو خوف ہے کہ اگر عمران خان کو رہا کر دیا گیا تو پاکستان میں ان کے کروڑوں مداح انہیں اپنے کندھوں پر بٹھا کر اگلے دستیاب انتخابات میں ایک زبردست فتح سے ہمکنار کر دیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ اس قدر ظالمانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دونوں بیٹوں، سلیمان اور قاسم، کو بھی جیل میں ان سے ملاقات کے لیے ویزے جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
عمران خان کی مسلسل قید پاکستان کی جانب سے بزدلی پر مبنی ایک افسوس ناک اور غیر ضروری اقدام ہے، جبکہ برطانوی حکومت نے بھی اس معاملے پر اسی مناسبت سے انتہائی کمزور ردعمل دیا ہے۔
ان دونوں خان بیٹوں کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہیں۔ عمران خان نے خود رائل گرامر اسکول ووسٹر سے تعلیم حاصل کی، کیبل کالج آکسفورڈ میں فلسفہ، سیاست اور معاشیات(PPE) کی تعلیم حاصل کی اور آکسفورڈ بلیوز ٹیم کی کپتانی کی، جس کے بعد ووسٹرشائر اور سرے کی جانب سے کرکٹ کھیلی۔
برطانیہ میں بھی ان کے لاکھوں مداح ہیں، پاکستان کی بات تو الگ ہے، لیکن اس کے باوجود برطانوی دفتر خارجہ نے ان کے حق میں بمشکل ہی کوئی آواز بلند کی ہے۔
برطانیہ کے پاکستان کے ساتھ طویل عرصے سے گہرے اور کئی صورتوں میں خاندانی تعلقات ہیں۔ عمران خان کو تین سال سے اذیت میں دیکھنے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مصلحت پسندی ترک کریں، اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور ان کی رہائی کا مطالبہ کریں۔
پاکستانی جرنیل، جن کی قیادت عاصم منیر کر رہے ہیں، اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ فیلڈ مارشل منیر ایران کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے شخص بن چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں بھی ان کی پذیرائی کی جاتی ہے۔
فیلڈ مارشل کو خراب صحت کے شکار 73 سالہ شخص سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ عمران خان کو رہا کرنا، اور اگر ضروری ہو تو اپیل کی سماعت تک انہیں گھر میں نظر بند رکھنا، ایک واضح اور انسانی اقدام ہوگا۔
سب سے بڑھ کر، یہ پاکستان کی اپنی سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطابقت رکھتا ہوگا۔
اس وقت مجھے خدشہ ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستانی حکام فعال طور پر یہ امید کر رہے ہیں کہ عمران خان جیل میں ہی مر جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی ساکھ پر ایک سنگین داغ ہوگا۔
اس کوٹھڑی کا تالا کھولیں اور عمران خان کو آزاد کریں۔
The Defence Minister is right. It’s why I have never been considered Jewish by the Jewish community. My mother was a Church of England Protestant. And by this logic, my father was not Jewish either. His mother was a French Catholic. As ever, in attempting to undermine my sons, Pakistan’s Defence Minister has scored an embarrassing own goal.
🚨مردان سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے متحرک رکن اور سینئر وکیل اعجاز رستم سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اعجاز رستم نے اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے ایک ویڈیو بھی اپلوڈ کی تھی۔
🚨🚨🚨 میجر طاہر صادق کی بیٹی ایمان طاہر سہیل افریدی کا ساتھ دینے کے لیے اٹک سے لاہور پہنچ گئی
مگر نعیم پنچوتھا, ڈار خاندان اور پنجاب کے 115 ایم پی اے ابھی تک قافلے میں شامل نہیں ہوئے
نگران حکومت تھی یہی لاہور تھا نواز شریف کو لینے ائیر پورٹ جانا تھا اور شہباز شریف، حمزہ سمیت کوئی لیگی بھاٹی، لوہاری سے آگے نہیں نکل سکا تھا اب وہی لیگی کہہ رہے ہیں کہ سہیل آفریدی کے ساتھ لوگ نہیں نکلے ہیں۔ سروسز ہسپتال کے باہر کتنے لیگی ہوتے تھے ��ہ خواجہ آصف خود بتاچکے ہیں۔
🚨🚨🚨🚨عمر ایوب نے عمران خان کی مرضی سے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالا ۔عمران خان کا فیصلہ سر آنکھوں پر ۔عمران خان کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کرسکتا ۔۔شیخ وقاص نے معاملہ کلئیر کردیا ۔۔۔
آج یوکرین کے صدر کے ساتھ جو ہوا دیکھ کر انداز لگانا مشکل نہیں ہے کے امریکہ نے کیسے نوازشریف کو دھمکایا ہو گا کے بھارت کے ایٹمی دھمکاوں کا جواب نہیں دینا لیکن نوازشریف نے امریکی کی دھمکیوں کے باجود پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا ۔
آج ہ��یں فخر ہے ہمارا قائد نوازشریف ہے ❤️