جیو اور جنگ کے صحافی کہتے ہیں کہ ملک کے مخصوص حالات اور پس منظر میں یہ ممکن ہی نہیں کہ فوج کی باقاعدہ مداخلت کے بغیر نظام آگے بڑھ سکے۔ اگر کوئی شخص فوج کی انتظامی امور، سیاست اور کاروبار میں مداخلت مکمل طور پر ختم کرنے کو ہی ملک بچانے کا واحد راستہ بتائے تو یہ صحافی اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہیں۔
لیکن دوسری طرف یہی صحافی یہ ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں کہ ملک کے کسی بھی حصے میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے لازماً بیرونی ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ دہشت گردی ہماری اپنی پالیسیوں، فیصلوں اور غلطیوں کا شاخسانہ بھی ہو سکتی ہے۔
تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جیو اور جنگ کے یہ صحافی ہمیشہ اس مؤقف پر بضد رہتے ہیں کہ ملک میں جتنی مرضی دہشت گردی ہو جائے، اس کی ذمہ داری کسی بھی صورت، کسی بھی حوالے سے فوج پر عائد نہیں ہو سکتی۔ ذمہ داری صرف متعلقہ صوبائی حکومت کی ہوگی، کیونکہ ان افلاطونوں کے مطابق دہشت گردی محض امن و امان کا مسئلہ ہے اور امن و امان صوبائی معاملہ ہے۔ 🤦♂️
یعنی ملک چلانے کے لیے فوج کی مداخلت ناگزیر ہے، لیکن دہشت گردی کی ذمہ داری طے کرتے وقت فوج کا کوئی کردار ہی نہیں!
بلوچستان میں پانچ دنوں میں بتیس مسخ شدہ لاشیں، یہ “کِل اینڈ ڈمپ” پالیسی کیا ہے۔
کِیا بلوچ کے ساتھ ہفتہ وار پوڈ کاسٹ۔ دیکھیے۔۔۔
@aitzaz_mayo Interestingly, the Brits have abandoned their colonial bureaucratic structure in the UK, but we still haven't. Many of our CSS/PMS civil servants are corrupt, incompetent, and irresponsible. And those officers who are genuinely capable, the system won't let them deliver.
@awais_hameed دہشتگردی کے خلاف جنگ زور و شور سے جاری ہے 🥲۔ پہلا ملک ہے جہاں محافظ ملک کو اندر سے کھا رہے ہیں اور چوکی دار گھر کے اندر ہی گھس آئے ہیں۔ ملک کی حفاظت کرنے والوں نے ملک تباہ کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے
1948ء میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر خان قیوم کے حکم پر پولیس نے بابڑہ میں مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلائیں اور ڈبل بیرل خان کا خطاب پایا 1948ءاور 2026ء کے حالات میں کافی فرق ہے لیکن آج بھی خیبر پختونخوا میں سیاسی جلسے جلوسوں کو روکنے کیلئے دفعہ 144 استعمال ہوتی ہے۔گورنر فیصل کریم کنڈی للکار رہے ہیں کہ آؤ گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرو میں تمہاری خاطر تواضع کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہوں۔ 1948ءمیں جو کچھ بابڑہ میں ہوا ویسے کچھ مناظر ہم نے پچھلے دنوں خیبر کے علاقے باڑہ میں دیکھے جہاں پولیس نے مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلائیں۔ سیدھی گولیاں چلانے کا حکم دینے والے اربابِ اختیار صرف اتنا یاد رکھیں کہ تاریخ میں انہیں ڈبل بیرل خان ثانی کے نام سے یاد کیا جائے گا۔
https://t.co/2bOy87v0Cl
From KP to Balochistan and beyond, instead of addressing the underlying causes of unrest, the country’s rulers are hell-bent on targeting the opposition. https://t.co/tzxbw4Xa9d
تحریکِ انصاف کے 2013 میں ایک مؤثر سیاسی جماعت کے طور پر ابھرنے کے بعد سے فیصل کریم کنڈی صاحب سات انتخابات ہار چکے ہیں۔ واحد انتخاب انہوں نے 2008 میں جیتا تھا، جب تحریکِ انصاف نے الیکشن نہی لڑا تھا۔ اب انہیں صوبے کا چیف ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا ہے، جبکہ دو تہائی اکثریت رکھنے والی منتخب حکومت کو ختم کیا جا رہا ہے۔
یہ ایگزیکٹو تقرری نمائندہ حکومت کے تصور کی نفی کرتی ہے۔ وفاق اور وفاقی اکائیاں ہمیشہ نمائندہ حکومتوں کے ذریعے ہی آگے بڑھ سکتی ہیں۔
دشمن کے ڈر سے اپنے محافظ کو خود پہ نہ ذیادہ اختیار دیں کہ وہ آپکو
یہ بتانا شروع کر دے کے یہ کریں وہ نہ کریں اور نہ ہی خود سے
ذیادہ مظبوط کریں۔
اور سب سے اہم اس کی چوکی یا بیٹھنے کی جگہ ہمیشہ دروازے سے باہر رکھیں۔
اور اگر وہ گیٹ کے اوپر سے بار بار اندر جھانکے تواسے بدل دیں
امرا اور جرنیل ہمیں ایک بار ہی بتا دیں کہ اب یہ، ملک ان کی جاگیر ہے۔ تاکہ ہم اس کی فلاح و بہبود کے لیے، نہ اپنا خون جلائیں، اور نہ ہی بہائیں۔
آخر میں صرف یہی کہنا چاہوں گی، ملک لوگوں سے ہوتے ہیں اور جن کے ساتھ لوگ نہیں ہوتے وہ چاہے جتنے مرضی بڑے عہدے پر ہوں، ہوتے وہ غاصب ہی ہیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے چند سال پہلے جب فلم "ایک ہے نگار" ریلیز ہوئی تو میں نے بڑے شوق سے فوراً ہی دیکھ لی۔ فلم دیکھی تو انہیں اپنا ہیرو سمجھا، ان کی کامیابیوں پر فخر کیا۔ مگر افسوس آج وہ جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کی صف میں کھڑی ہو گئی ہیں۔
پاکستانی وفاقی ریاست کا بنیادی تضاد وفاق پاکستان میں واحدانی بیوروکریسی ہے، جو کہ برٹش انڈیا سے لیکر موجودہ دور تک کلونیل سکیم " ریزرویشن آف پوسٹس" پر قائم ہے۔
یہ سکیم پاکستانی آئین کے متضاد کھڑی ہے۔
پاکستان میں صوبوں کو وفاقی حکومت اپنے تعنیات کیے ہوئے افسران سے کنٹرول کرتی ہے۔
جب چیف سیکرٹری و آئی جی ہی صوبائی حکومت کے ماتحت نہ ہوں تو صوبے گورننس کیسے کر سکتے ہیں۔
Worst things in Pakistan:
1. CSS exam
2. Aitchison College creating a super-elite mentality.
3. Divisions, Districts & Tehsils instead of Municipal Govts and directly elected Mayors.
4. 1861 Police structure.
5. FIR
6. Section 144.
7. Appointed Governors
8. Commissioners, DC &ACs
Darte hain bandookon wale aik nihati larki se!
Asim Munir, your reign of terror and injustice is nearly over. But what you have inflicted upon this couple has set a new example of lawlessness.
Release Imaan and Hadi