Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves
اور کچھ نہیں تو آپ مذاکرات کی ایک تصویر جاری کردیتے جس پر گھنٹوں تبصرے ہوتے۔ اتنے تاریخی مذاکرات گلاب جامن اور کافی میں ڈال دیا گیا۔ غیر ملکی صحافی کہہ رہے ہیں کہ ہم یہاں بور ہو رہے ہیں ہم یہاں گلاب جامن کھانے نہیں خبر کے لیے آئے ہیں۔ جبکہ پاکستانی صحافیوں نے چھچھور پن شروع کر دیا کہ یہ دیکھو میں کافی پیتے چل رہا ہوں۔ یہ سب کو پٹواری سمجھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں نان پکڑا دو، اسد طور
سنا تھا اس نے اسرائیل کیخلاف کبھی بیان نہیں دیا ، جب سے اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا سوشل میڈیا کی جو بھی ایپلیکشن کھولیں آگے اسی کے انٹرویوز، تقریریں ، بیانات دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ اے آئی تو نہیں ہیں؟
میں نے کلثوم نواز کو پھول بھجوائے ہیں۔ میں ان کے لیے دعا گو ہوں، اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے ان کی بیماری کو نواز شریف سیاسی وینٹیلیٹر کے طور پر استعمال کررہے ہیں تو میں اس کی مذمت کرتا ہوں، عمران خان کا کلثوم نواز کی بیماری کے وقت دیا گیا بیان
Wasim Akram and Waqar Younis have led calls for Imran Khan to be allowed appropriate medical access in prison after reports have emerged that he has lost most of the vision in his right eye
Full story: https://t.co/ZBLF5z6ao5
آج ستائیسویں ترمیم نے پاکستان کو جبر کی تاریک تر تاریکیوں میں دھکیل دیا ہے۔ ہمارا سفر اب پہلے سے بھی زیادہ اہم ہے۔ حیرت ہے ان نادان دانشوروں پر جنھیں پچھلے تین سال قانون و آئین پر ہر حملہ پی ٹی آئی کا معاملہ لگا۔ انکی گنگ زبانیں خاموش رہیں۔ آج وہ آنسو ٹپکاتے دکھتے ہیں۔ اب اٹھو۔
”ارشد شریف سے اختلاف یہ ہے کہ وہ عوام کی آواز بنا ہوا ہے۔ عمران خان نے جو حقیقی آزادی کی بات کی ہے اس سے عوام کو احساس ہوا ہے کہ پاکستان میں کب تک رجیم چینج ہوں گے، پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہونے چاہیئیں۔“ ارشد شریف شہید
“خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے مرحلے کے دوران سلمان اکرام راجہ نے میڈیا اور ہائی کورٹ میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے جس احسن طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھائی، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (16 اکتوبر، 2025)
2/2
تاریخ گواہ رہے گی کہ جب پکے مسلمانوں پر تشدد ہوا تو بقول انکے لیڈر " نچن آلیاں دے منڈے" ہی باقی رہ گئے تھے جنہوں نے نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ اپنے ایوانوں میں بھی اس ظلم پر سب سے زیادہ آواز اٹھائی.