आजकल एक मश्हूर नारा चल रहा है - 'मेरा जिस्म मेरी मर्ज़ी'
हालांकि किसी भी इंसान की मर्ज़ी उसके जिस्म पर नहीं चलती
इंसान मुंह से खाता और बोलता है, नाक से सांस लेता और सूंघता है, कान से सुनता, आँख से देखता है, हाथ से चीज़ों को पकड़ता है, और पाँव से चलता है 1/2
آفتاب مضطر کی خوبصورت غزل
ہر ظلم ترا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں
اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں
اے وقت مٹانا مجھے آسان نہیں ہے
انساں ہوں کوئی نقش کف پا تو نہیں ہوں
چپ چاپ سہی مصلحتاً وقت کے ہاتھوں
مجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں
یہ دن تو مجھے ان کے تغافل نے دکھائے
میں گردش دوراں ترا مارا تو نہیں ہوں
ان کے لیے لڑ جاؤں گا تقدیر میں تجھ سے
حالانکہ کبھی تجھ سے میں الجھا تو نہیں ہوں
ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم چلے جانا
میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں
کیوں شور بپا ہے ذرا دیکھو تو نکل کر
میں اس کی گلی سے ابھی گزرا تو نہیں ہوں
مضطرؔ مجھے کیوں دیکھتا رہتا ہے زمانہ
دیوانہ سہی ان کا تماشا تو نہیں ہوں
آفتاب مضطر
زندگی کی راہوں میں، رنج و غم کے میلے ہیں
بھیڑ ہے قیامت کی، اور ہم اکیلے ہیں
گیسوؤں کے سائے میں ایک شب گزاری تھی
آج تک جدائی کی دھوپ میں اکیلے ہیں
اب تو اپنا سایہ بھی، کھو گیا اندھیروں میں
آپ سے بچھڑ کر ہم، کس قدر اکیلے ہیں
سازشیں زمانے کی، کام کر گئیں آخر
آپ ہیں اُدھر تنہا، ہم اِدھر اکیلے ہیں
کون کس کا ساتھی ہے، ہم تو غم کی منزل ہیں
پہلے بھی اکیلے تھے، آج بھی اکیلے ہیں
کہہ رہی ہے شاہوں سے، قبر کی یہ تنہائی
تاج و تخت کے مالک، آج کیوں اکیلے ہیں؟
آئینے کے سو ٹکڑے، کر کے ہم نے دیکھے ہیں
ایک میں بھی تنہا تھے، سو میں بھی اکیلے ہیں
صَبا اَفغاَنی
Jo humpe guzre the ranj saare jo khud pe guzre to log samjhe
Jab apni apni Mohabbaton ke azaab jhele to log samjhe
Vo Jin darakhton ki chhanv me se musafiron ko utha diya tha
Unhi darakhton pe agle mausam phal na utre to log samjhe #AgnipathScheme