اور جس بات کا تمہیں یقین نہ ہو، (اُسے سچ سمجھ کر) اُس کے پیچھے مت پڑو ۔ یقین رکھو کہ کان، آنکھ اور دِل سب کے بارے میں (تم سے) سوال ہوگا۔
﴿سورۃ الاسراء، ۳۶﴾
اور رشتہ دار کو اُس کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو (اُن کا حق،) اور اپنے مال کو بے ہودہ کاموں میں نہ اُڑاؤ۔ : یقین جانو کہ جو لوگ بے ہودہ کاموں میں مال اُڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔
سورۃ الاسراء
زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگاؤ، اور اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر اِیمان رکھتے ہو، تو اللہ کے دِین کے معاملے میں اُن پر ترس کھانے کا کوئی جذبہ تم پر غالب نہ آئ��۔ اور یہ بھی چاہئے کہ مؤمنوں کا ایک مجمع اُن کی سزا کو کھلی آنکھوں دیکھے۔
سورۃ النور
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ
اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینھ برسایا۔ سو دیکھ لو کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا
سُورَةُ الأَعۡرَافِ - 84
اِیمان لانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اُس کے رسول کو دِل سے مانا ہے، پھر کسی شک میں نہیں پڑے، اور جنہوں نے اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ وہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔
﴿سورۃ الحجرات، ۱۵﴾
یقینا اللہ ان مؤمنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کررہے تھے، اور ان کے دِلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا، اس لئے اُس نے اُن پر سکینت اُتار دی، اور اُن کو اِنعام میں ایک قریبی فتح عطا فرمادی۔
﴿سورۃ الفتح، ۱۸﴾
وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ
اور (رنج وتکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو اور بے شک نماز گراں ہے، مگر ان لوگوں پر (گراں نہیں) جو عجز کرنے والے ہیں
سُورَةُ البَقَرَةِ - 45
اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم اُنہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
﴿سورۃ العنکبوت، ۶۹﴾
وہ دن یاد رکھو جس دن کسی بھی شخص نے نیکی کا جو کام کیا ہوگااسے اپنے سامنے موجود پائے گا،اور بُرائی کا جو کام کیاہوگا اس کو بھی (اپنے سامنےدیکھ کر) یہ تمنا کرے گاکہ کاش اس کےاور اس کی بدی کے درمیان بہت دُ��ر کا فاصلہ ہوتا! اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب)سےبچاتاہے،
﴿سورۃ آل عمران، ۳۰﴾
إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَىٰ لَهُمْ
جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھر گئے۔ شیطان نے (یہ کام) ان کو مزین کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا
سُورَةُ مُحَمَّدٍ - 25
﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَل�� النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾
جو کچھ تمہارے پاس ہے، ��ہ سب ختم ہوجائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا، ہم اُنہیں اُن کے بہترین کاموں کے مطابق اُن کا اجر ضرور عطا کریں گے۔
﴿سورۃ النحل، ۹۶﴾
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ (خدائے) غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے
سُورَةُ يسٓ - 38
إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي
بےشک میں ہی خدا ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھا کرو
سُورَةُ طه - 14
فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنْطِقُونَ
تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم! یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو
سُورَةُ الذَّارِيَاتِ - 23
وَهُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع ہو کر ��اؤ گے
سُورَةُ المُؤۡمِنُونَ - 79
اِیمان لانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اُس کے رسول کو دِل سے مانا ہے، پھر کسی شک میں نہیں پڑے، اور جنہوں نے اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ وہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔
﴿سورۃ الحجرات، ۱۵﴾
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں ـــــ (یاد رہے کہ) ہم کسی بھی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتے، تو ایسے لوگ جنت کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اُس میں رہیں گے۔
﴿سورۃ الاعراف، ۴۲﴾
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“ روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دو��را جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔
(جامع ترمذی،۲۱۴)