کونٹینٹ بنانا کراچی والوں پر ختم ہے۔ کونٹ��نٹ پر جتنا شاندار کام کراچی کے لڑکے کرتے ہیں، اس کا کسی اور شہر سے تقابل ممکن نہیں۔ یہ چھ منٹ کی ویڈیو کراچی کی مکمل کہانی ہے۔ اسے دیکھیں اور داد دیں ان نوجوانوں کو۔ کراچی کے دکھوں کو کس قدر خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
Cricket legend Imran Khan is rotting to death in a tiny jail cell in Pakistan. It's time Britain used its influence to help free him
https://t.co/Yf5eCx2fAi
سابق برطانوی وزیراعظم
بورس جانسن کا آرٹیل پڑھیں:
’’اس وقت مجھے خدشہ ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستانی حکام فعال طور پر یہ امید کر رہے ہیں کہ عمران خان جیل میں ہی مر جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی ساکھ پر ایک سنگین داغ ہوگا۔ اس کوٹھڑی کا تالا کھولیں اور عمران خان کو آزاد کریں‘‘
جیل کی اس کوٹھڑی کا تالا کھولیں اور عمران خان کو رہا کریں
پاکستان کی ایک جیل میں ایک چھوٹی، نم زدہ اور کیڑوں سے بھری کوٹھڑی میں 73 سالہ شخص موت کا انتظار کر رہا ہے۔ اسے کئی کئی دن تک قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ وہ مناسب طریقے سے ورزش بھی نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کا کمرہ، جس میں بیت الخلا بھی شامل ہے، صرف 6 فٹ چوڑا اور 8 فٹ لمبا ہے۔
اس کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں ہے۔ بعض اوقات لائٹس بند کر دی جاتی ہیں، جس کے باعث وہ کئی کئی دن اندھیرے میں بیٹھا رہتا ہے اور دوبارہ دیکھنے کے قابل ہونے کا انتظار کرتا ہے۔ طویل عرصے تک اسے کتابوں یا اخبارات تک رسائی نہیں دی جاتی، ملاقات کی اجازت تو دور کی بات ہے۔ نتیجتاً وہ خود کو بیرونی دنیا سے تیزی سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے اور اپنی ذہنی صحت کے بارے میں خوفزدہ ہے۔
اسے ان حالات میں قید ہوئے اب تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران اس نے گرمیوں کی شدید حدت اور سردیوں کی کڑاکے کی سردی برداشت کی ہے۔ ناقص اور تاخیر سے کیے گئے طبی علاج کے بعد اس کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی ختم ہو چکی ہے۔
اسے جن حالات میں رکھا جا رہا ہے، ان کی گزشتہ دو برس کے دوران اقوام متحدہ کے تشدد کے خلاف خصوصی نمائندے نے تین مرتبہ مذمت کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ قیدی کو مناسب طبی سہولیات تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
وہ قیدی، یقیناً، عمران خان ہیں، جو 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ ان کی تکالیف اب ایک عالمی اسکینڈل کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے انہیں سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات کی بھرمار کا سامنا ہے، جن کا مقصد انہیں مستقل طور پر عوامی زندگی سے باہر کرنا ہے۔
یہ الزامات اس قدر واضح طور پر بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر مقدمات ختم ہو چکے ہیں۔ صرف ایک مقدمہ باقی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے برطانوی حکومت کی کچھ رقم ایک مخصوص پراپرٹی ڈویلپر کو منتقل کرنے میں مدد کی، جس نے بعد ازاں عمران خان اور ان کی اہلیہ سے وابستہ ایک یونیورسٹی کو خطیر رقم عطیہ کی۔
اگر یہ الزامات ہر لحاظ سے درست بھی ہوں، اور عمران خان اپنی سزا کے خلاف اپیل کر رہے ہیں، تو بھی پاکستانی استغاثہ تسلیم کر چکا ہے کہ نہ عمران خان اور نہ ہی ان کی اہلیہ کو یونیورسٹی کو دیے گئے عطیے سے کوئی مالی فائدہ حاصل ہونا تھا۔
اگر یہ بھی درست مان لیا جائے کہ عمران خان کے خلاف نام نہاد القادر کیس میں کسی حد تک جواب طلبی بنتی ہے، اور میرے لیے یہ بات بھی قطعی واضح نہیں ہے، تو بھی انہوں نے اس قسم کے ذہنی اور جسمانی تشدد کا مستحق ہونے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ سب سے بڑھ کر، وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی اپیل پر فوری طور پر اور ایک آزاد عدالت میں سماعت کی جائے۔
اس کے بجائے انہیں جیل میں لفظی طور پر سڑ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقدمہ کبھی کرپشن کے بارے میں تھا ہی نہیں، کیونکہ حقیقت میں عمران خان جدید دور کے سب سے زیادہ کھلے اور شفاف پاکستانی سیاست دانوں میں سے ایک رہے ہیں۔
یہ مقدمہ بھی، عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے خلاف ہونے والی تمام قانونی کارروائیوں کی طرح، پاکستانی فوج کی اس خواہش کے تحت چلایا گیا ہے کہ انہیں سیاسی منظرنامے سے ہٹا دیا جائے۔ ان کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے جمہوریت کو سنجیدگی سے لیا اور پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کی۔
آئین کے تحت انہیں فوج کے سربراہ کا تقرر کرنے کا اختیار حاصل تھا، لیکن جب انہوں نے اپنی صوابدید استعمال کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ امیدوار کو منتخب کرنا چاہا تو معلوم ہوا کہ جرنیلوں کے ارادے کچھ اور تھے۔
عمران خان نے پاکستان کے نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اس کی قیمت چکائی۔ بنیادی طور پر یہی وجہ ہے کہ وہ جیل میں ہیں۔
مجھے یہ وضاحت کر دینی چاہیے کہ میں عمران خان کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور انہیں پسند کرتا ہوں۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے کچھ اچھے کام کیے، یا کم از کم ان کی کوشش ضرور کی۔ جنگلات اور ماحولیات کے حوالے سے ان کے خیالات قابلِ ذکر تھے۔ وہ اس بات کو سمجھتے تھے کہ پاکستان میں خواتین کی خواندگی کتنی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
خود سے پوچھیں کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں کیوں شامل ہے جہاں آبادی میں مسلسل، وسیع اور غیر پائیدار اضافہ ہو رہا ہے؟ اس کا جواب شرح خواندگی کے اعداد و شمار میں واضح ہے۔ افغانستان کے علاوہ پاکستان کا شمار دنیا کے تقریباً ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خواتین کی خواندگی کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ تقریباً 50 فیصد پاکستانی خواتین اب بھی پڑھنے اور لکھنے سے قاصر ہیں۔
عمران خان سمجھتے تھے کہ یہ ان کے ملک کے لیے ایک تباہ کن صورتحال ہے اور انہوں نے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے بچیوں کو اسکول میں برقرار رکھنے کی حوصلہ افزائی کے لیے اضافی مالی مراعات کا منصوبہ بنایا گیا۔ شاید وہ اپنی خواہش کے مطابق زیادہ پیش رفت نہ کر سکے ہوں، لیکن اس کی بڑی وجہ کووڈ تھا، جس کے باعث لڑکوں اور لڑکیوں سمیت سب کے لیے اسکول بند رہے۔
وہ یقیناً ہر معاملے میں درست نہیں تھے۔ مجھے یاد ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے اگلے روز میں نے عمران خان کو فون کیا تھا اور محسوس کیا کہ وہ ماسکو کی مذمت کے معاملے میں مکمل طور پر دوٹوک نہیں تھے۔ لیکن بدقسمتی سے برطانیہ کے بعض دیگر معروف دوستوں اور اتحادیوں کے بارے میں بھی یہی بات کہی جا سکتی ہے۔
طالبان کے معاملے میں بھی ان کا مؤقف مکمل طور پر درست نہیں تھا۔ تاہم، یہ پاکستانی حکومت کی ایک دیرینہ پالیسی رہی ہے کہ کابل میں جو بھی حکومت ہو، خواہ وہ کتنی ہی سخت گیر اور بنیاد پرست کیوں نہ ہو، اگر وہ بھارت کے ساتھ اتحاد نہ رکھتی ہو تو اس کی حمایت کی جائے۔
آپ عمران خان کے بعض رویوں اور ان کے نوعمرانہ نوعیت کے امریکہ مخالف خیالات پر اعتراض کر سکتے ہیں، لیکن ان کے کسی بیان یا اقدام سے ��ہ جواز پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستانی جرنیل سابق وزیر اعظم کے ساتھ اس قدر سفاکانہ سلوک کریں۔ انہیں بدترین حالات میں قید رکھا جا رہا ہے، ان کی صحت بگڑ رہی ہے، نئے مقدمے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں اور رہائی کی بظاہر کوئی امید نظر نہیں آتی۔
وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
جواب سادہ ہے: وہ عمران خان سے خوفزدہ ہیں۔
عمران خان پاکستان، بلکہ دنیا کے عظیم ترین کرکٹ ہیروز میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپن�� ملک کو بھارت اور انگلینڈ کے خلاف پہلی مرتبہ ٹیسٹ فتوحات دلائیں۔ پھر 1992 میں 39 سال کی عمر میں پاکستان کو اس کی پہلی ورلڈ کپ فتح سے ہمکنار کیا۔
پاکستانی جرنیلوں کو خوف ہے کہ اگر عمران خان کو رہا کر دیا گیا تو پاکستان میں ان کے کروڑوں مداح انہیں اپنے کندھوں پر بٹھا کر اگلے دستیاب انتخابات میں ایک زبردست فتح سے ہمکنار کر دیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ اس قدر ظالمانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دونوں بیٹوں، سلیمان اور قاسم، کو بھی جیل میں ان سے ملاقات کے لیے ویزے جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
عمران خان کی مسلسل قید پاکستان کی جانب سے بزدلی پر مبنی ایک افسو�� ناک اور غیر ضروری اقدام ہے، جبکہ برطانوی حکومت نے بھی اس معاملے پر اسی مناسبت سے انتہائی کمزور ردعمل دیا ہے۔
ان دونوں خان بیٹوں کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہیں۔ عمران خان نے خود رائل گرامر اسکول ووسٹر سے تعلیم حاصل کی، کیبل کالج آکسفورڈ میں فلسفہ، سیاست اور معاشیات(PPE) کی تعلیم حاصل کی اور آکسفورڈ بلیوز ٹیم کی کپتانی کی، جس کے بعد ووسٹرشائر اور سرے کی جانب سے کرکٹ کھیلی۔
برطانیہ میں بھی ان کے لاکھوں مداح ہیں، پاکستان کی بات تو الگ ہے، لیکن اس کے باوجود برطانوی دفتر خارجہ نے ان کے حق میں بمشکل ہی کوئی آواز بلند کی ہے۔
برطانیہ کے پاکستان کے ساتھ طویل عرصے سے گہرے اور کئی صورتوں میں خاندانی تعلقات ہیں۔ عمران خان کو تین سال سے اذیت میں دیکھنے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مصلحت پسندی ترک کریں، اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور ان کی رہائی کا مطالبہ کریں۔
پاکستانی جرنیل، جن کی قیادت عاصم منیر کر رہے ہیں، اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ فیلڈ مارشل منیر ایران کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے شخص بن چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں بھی ��ن کی پذیرائی کی جاتی ہے۔
فیلڈ مارشل کو خراب صحت کے شکار 73 سالہ شخص سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ عمران خان کو رہا کرنا، اور اگر ضروری ہو تو اپیل کی سماعت تک انہیں گھر میں نظر بند رکھنا، ایک واضح اور انسانی اقدام ہوگا۔
سب سے بڑھ کر، یہ پاکستان کی اپنی سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطابقت رکھتا ہوگا۔
اس وقت مجھے خدشہ ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستانی حکام فعال طور پر یہ امید کر رہے ہیں کہ عمران خان جیل میں ہی مر جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی ساکھ پر ایک سنگین داغ ہوگا۔
اس کوٹھڑی کا تالا کھولیں اور عمران خان کو آزاد کریں۔
لاہور کے حفیظ سنٹر موبائل مارکیٹ میں اک نوجوان کو 142000 ہزار کا چونا لگا دیا ۔ خریدتے وقت یہ لوگ کہتے ہیں کوی خرابی ہو پیسے واپس مل جائیں گے عام بندہ اعتبار کر کے لے اتا ہے ۔۔
جب خرابی نکلتی ہے واپسی پیسے مانگیں تو شاپ والے الٹا برا بھلا کہ کر بے عزت کر کے بھگا دیتے ہیں سنیے اس نوجوان کی کہانی تاکہ باقی لوگ بچ سکیں ۔۔
میں نے جمعہ کی شام حفیظ سینٹر لاہور کی ایک دکان سے 142,000 روپے میں آئی فون 16 پلس خریدا۔ چونکہ مجھے موبائل فونز کے بارے میں زیادہ تکنیکی معلومات نہیں تھیں، اس لیے دکان دار اور اس کے بیٹے نے مجھے 100 فیصد اوریجنل فون ہونے کی مکمل تسلی اور گارنٹی دی، جس پر بھروسہ کر کے میں نے فون لے لیا۔
اگلے دن ہفتے کی شام جب میں اس پر پروٹیکٹر گلاس لگوانے گیا تو وہ اسکرین پر بیٹھ ہی نہیں رہا تھا۔ چیک کرنے پر متعلقہ دکاندار نے بتایا کہ اسکرین کے اسکریچز چھپانے کے لیے اسے گہرا "بف" (Buff) کیا گیا ہے جس کی وجہ سے گلاس نہیں لگ سکتا، اور مارکیٹ کے دیگر دکانداروں نے بھی اسی بات کی تصدیق کی۔ جب میں یہ شکایت لے کر اصل دکاندار کے پاس گیا تو اس نے اپنی غلطی ماننے سے صاف انکار کر دیا اور الٹا بدتمیزی اور غیر اخلاقی رویے پر اتر آیا۔
یہ شخص سیدھے سادھے خریداروں کو جھوٹ بول کر دھوکہ دے رہا ہے اور کھلم کھلا فراڈ کر رہا ہے، لہٰذا سب سے گزارش ہے کہ حفیظ سینٹر میں ایسے نوسربازوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی قسم کے لین دین سے مکمل گریز کریں۔
کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی تو میں عمران خان کو جیل سے نکال کر انڈیا کے لے آتا اگر اس جیسا انسان انڈیا میں ہوتا تو اسکو تاج پہنا کر رکھا جاتا ۔یوگراج سنگھ
��ج کے دن کے یہ آپکے بہترین چھ منٹ ہوسکتے ہیں۔ کیا ہی کمال منظر کشی کی ہے کراچی کے حالات کی۔
ہم ایک بد دعا میں جی رہے ہیں۔
میری طرف سے سلمان نورانی اور عاطف کیلئے بہت ساری دعائیں۔ سلامت رہیں 🙏🏻
ہمایوں سعید, انور مقصود اور ریمشاں نے دل جیت لیئے ❤️
شوکت خانم ہسپتال کے لیے پورا ایک Add جاری کردیا, یہ لوگ اصل سٹارز 🌟
انسانیت کے لیے اپنا حصہ ڈالے چاہے جس بھی شکل میں ہو, آپ سب بھی شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کراچی کے لیے اپنا حصہ ڈالے!!🙏
One of India’s greatest and most admired captain Ganguly speaks out in favour of Imran Khan.
Government’s campaign to block IK’s name has backfired spectacularly
🚨 International Figures Who Have Supported Imran Khan Since His Imprisonment.
🇺🇸 United States
1. Richard Grenell
2. Zalmay Khalilzad
3. Matt Gaetz
4. Greg Casar
5. Susan Wild
6. Jim McGovern
7. Summer Lee
8. Ro Khanna
9. Ilhan Omar
10. Rashida Tlaib
11. Barbara Lee
12. Jamie Raskin
13. Pramila Jayapal
14. Cori Bush
15. Jack Bergman
16. Donald Beyer
17. Jamaal Bowman
18. André Carson
19. Judy Chu
20. Yvette Clarke
21. Madeleine Dean
22. Lloyd Doggett
23. Veronica Escobar
24. Jesús “Chuy” García
25. Eleanor Holmes Norton
26. Steven Horsford
27. Hank Johnson
28. Raja Krishnamoorthi
29. Greg Landsman
30. Frank Pallone
31. Jan Schakowsky
32. David Trone
33. Marc Veasey
34. Nydia Velázquez
35. Bonnie Watson Coleman
🇬🇧 United Kingdom
36. George Galloway
37. Jeremy Corbyn
38. Humza Yousaf
39. Zarah Sultana
40. Peter Oborne
41. Piers Morgan
42. Lord Daniel Hannan
43. Lord Zac Goldsmith
44. Lord Sikka
45. Baroness Alexander of Cleveden
46. Lord Mohammed of Tinsley
47. Baroness Warsi
48. Lord Ahmad of Wimbledon
49. Sir Iain Duncan Smith
50. Priti Patel
51. Naz Shah
52. Jemima Goldsmith
🇮🇪 Ireland
53. Matt O'Branain
🇹🇷 Turkey
54. Turgay Evren
🌍 International Academics, Writers & Public Figures:
55. Khaled Beydoun
56. Azeem Ibrahim
57. Tony Ashai
58. Steve Hanke
59. Ashok Swain
🏏 International Cricket Captains:
60. Michael Atherton
61. Alex Blackwell
62. Allan Border
63. Michael Brearley
64. Greg Chappell
65. Ian Chappell
66. Belinda Clark
67. Alastair Cook
68. Sunil Gavaskar
69. Lee Germon
70. Adam Gilchrist
71. David Gower
72. Kim Hughes
73. Nasser Hussain
74. Clive Lloyd
75. Kapil Dev
76. Arjuna Ranatunga
77. Andrew Strauss
78. Dilip Vengsarkar
79. Steve Waugh
80. John Wright
🌐 International Human-Rights Figures & Organizations
81. UN Working Group on Arbitrary Detention
82. Alice Jill Edwards — UN Special Rapporteur on Torture
83. Amnesty International
84. Emmanouil Fragkos — Member of the European Parliament
Pakistan cricket legend Javed Miandad breaks down in tears over Imran Khan’s jail ordeal.
Miandad said they played county cricket together for years and he knows Imran was never involved in theft or financial corruption.
#ImranKhan#JavedMiandad#PakistanCricket
After Javed Miandad, it is now Moin Khan!
Another former Pakistani captain raises his voice for the legend of the cricketing world, Imran Khan!
The former PM and World Cup winning captain, Imran Khan remains arbitrarily detained for 1120 days; incommunicado; vision loss in right eye, deteriorating health concerns, life at risk.
#StopRiskingImranKhansLife
#FreeImranKhan
ان جاہلوں کو میڈیا اور پبلک ریلیشن کا کچھ پتہ نہیں ، یہ خبر دبا کر ،تصویر چھپا کر سمجھتے ہیں کسی کو پتہ نہیں چلے گا ۔ ایسے میں بات جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے ۔ اگر پاکستان کا کر کٹ بورڈ سکائی نیوز کو دھمکی نہ دیتا تو انٹریوو چپ چاپ چل جاتا لیکن اب تو چاروں طرف دھوم مچی ہوئی ہے