A one-year-old child tortured to break his father. Let that sink in.
According to eyewitnesses and medical reports, Israeli forces detained a father near Al-Maghazi, forced him to strip, and then abducted his infant son, only to torture the child in front of him. Cigarettes extinguished on a baby’s leg. A metal nail driven into his flesh. All to extract a confession.
This is not security. This is cruelty stripped of all pretense, systematic, deliberate, and inhuman.
The child was released after 10 hours of unimaginable abuse. The father remains detained. A family shattered. A child scarred for life.
Where is the world? Where are the institutions that claim to defend human dignity?
Silence in the face of such horror is not neutrality, it is complicity.
⛔️Is Netanyahu Dead?
⛔️Social Media is blowing up with claims that Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu is dead, killed in a missile strike. What is true?#iranwar#trending#trump#netanyahu#war
Those who have been giving lectures for years expressing concern about women's rights in Iran have so far managed to kill Ali khamenei's wife, daughter, daughter in law, grand daughter and more than 150 students of a girls school in minab. #IranWar#Iran
Who abducted and tortured Imran Khan's lawyer and why?... I'm really sad to hear this kind of news from Pakistan. 😔 Human dignity must be kept above everything!...
رجیم چینج آپریشن کی رات کچھ معتبر چہروں پر خوف کے گھمبیر سائے تھے۔ کچھ دیر قبل کی میٹنگ میں ہوئے فیصلے پر آنے والی کال کا حکم حاوی ہوچکا تھا۔ وزیر اعظم کو سرینڈر پر آمادہ کیا جارہا تھا۔ آئین، قانون کی پاسداری کے گذشتہ دعوی اتنے ہی حقیقت تھے جتنا کے ۷۷ سال سے اعلی جاہ کا غیر سیاسی ہونے کا بیان۔ اگلی شام عوام سڑکوں پر آگئی، عقابی روح پھر بیدار ہوگئی۔ ۲۵ مئی تک چہروں کے رنگ کھلتے بکھرتے ہی رہے۔ عمران خان کا حکم آتا شہر کے شہر سڑکوں پر ہوتے۔ پھر یوں ہوا کے ۲۵ مئی کا مارچ ۲۶ مئی کی صبح ختم ہوگیا، سیاہ سائے پھر منڈلانے لگے۔ آگے سر پر ضمنی انتخابات بھی تھے۔ آقاؤں نے پورا زور لگایا، ان کی کوششوں پر یقین محکم رکھنے والوں کے تجزیے بھی ان کی فتح کا اعلان کر رہے تھے۔ عوامی طاقت اور بہتر حکمتِ عملی سے ہم نے اپنا مینڈیٹ محفوظ کرلیا تو بجھے چہروں پر پھر چراغ روشن ہوگئے مگر اگست میں ڈاکٹر شہباز گل کی گرفتاری ��ے حالات اور ان پر ہونے والے بہیمانہ تشدد کی خبروں نے پھر یہ شمعیں معدوم کردیں۔ پارٹی کے کچھ خیرخواہوں نے ہمیں بھی گِل سے دور رہنے کی تنبیہہ کی تو دوسری جانب اپنے اور غیروں نے مل کر اُس کے ڈبل ایجنٹ ہونے کا بیانیہ بنانا شروع کردیا۔ باوجود ان سب بیانیوں کے ناصرف خان صاحب شہباز گِل کی تیمارداری کے لیے ہسپتال آئے بلکہ ان کے لیے ریلی بھی منعقد کی۔ خیر کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں، یہ اتار چڑھاؤ چلتا رہا۔ کبھی ہمارا پلڑا بھاری تو کبھی مدمقابل کا داؤ چل جاتا، ایسے ہی بنی گالہ کیمپ سے نکلتے ہوئے کچھ ”سرگرم“ رہنماؤں نے گھیر لیا، پوچھا کیا لگ رہا ہے؟ موسم کچھ بدلا بدلا سا نہیں ہے؟ میں نے کہا اپنی میٹنگز کا احوال بتانا چاہ رہے ہیں یا مستقبل کا حال جاننا مقصود ہے؟ کہا تمہارا اندازہ کیا ہے؟ میں نے کہا ٹرک کی بتی کے پیچھے مت لگو۔ نا ان کی گیدڑ بھبکیوں سے ناامید ہو، نا ان کی چکنی چپڑی باتوں سے کوئی امید باندھو۔ ان کی کیلکولیشن کے مطابق مستقبل کے منظرنامے میں عمران خان نہیں ہے۔ چہرے پھر لٹک گئے۔ کہا مگر عمران خان ان کی کیلکولیشنز کا محتاج نہیں ہے۔
پوچھنا تو بہت کچھ چاہتے تھے کہ ان کی خدائی پر ایمان کچھ اپنوں کو بھی کم نہ تھا مگر پوچھا فقط اتنا کہ کیسے؟
(اور اس کیسے کا جواب وہ جواب ہے جو میں آج بھی خود کو دیتا ہوں جب مجھے اپنا آپ بے بس محسوس ہونے لگتا ہے۔)
”جس شخص نے دنیاوی طاقتوں کو للکار کر اللہ کے پیغمبر (ص) سے محبت کا اقرار کیا۔ جس نے نبیوں کی سرزمین بیت المقدس کا مقدمہ لڑا۔ جو کشمیر سے لے ک�� افغانستان تک ہر مظلوم مسلمان کی آواز بنا۔ جس نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کے بیانیے کو نیست و نابود کیا۔ جو اپنی قوم کی اس ��قت ڈھال بنا جب بیرونی ہر طاقت ان کے خون کی پیاسی اور اندرونی ہر طاقت ان کی قیمت لگانے کو تیار تھی۔ جس نے اللہ کے بندوں کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ان کی فلاح کو مقدم رکھا۔ ان کے وقار کی حفاظت کی۔اللہ ہی اس کی مدد کرے گا۔ اللہ اس کی مدد اس لیے کرے گا کہ اس نے ہر قدم پر صرف اللہ سے مدد مانگی ہے۔ اللہ اس کی مدد اس لیے کرے گا کہ اس نے یہ لڑائی صرف اور صرف اس کی خدائی کے بھروسے مول لی ہے اور اللہ اپنی کبریائی میں کوئی شراکت نہیں قبول کرتا۔ ہاں یہ لڑائی آسان نہیں ہونی، گِل آخری نہیں جس نے یہ سب سہا اوروں کو بھی سہنا ہوگا۔ جسم پہ جبر بھی اور روح پر زخم بھی!
میں آخری نہیں جس کے سر کی قیم�� لگی اوروں کی بھی لگے گی۔ سب کا سب داؤ پہ لگے گا۔مگر سب سے کھٹن یہ سفر عمران خان کے لیے ہوگا کیونکہ ہم، ہم سفر سہی مگر اصل میں تو صراط مستقیم کا متلاشی وہ ہے اور صراط مستقیم پہ چلنا سہل کب رہا ہے؟
اب اس کو تو اپنی خواہش کی قیمت معلوم ہے، جس جس کو ساتھ چلنے کی خواہش ہے جگرا بڑا رکھے“۔
��پ سمجھ رہے ہوں گے یہ کہہ کر میں خود کو اور آپ کو ذمہ داری سے مبرا کررہا ہوں۔ میں ایسا نہیں کررہا۔ میں اپنے جواب میں سوال چھوڑ رہا ہوں اور جان کر چھوڑ رہا ہوں کیونکہ کچھ دن سے اندازہ ہورہا ہے کہ کم لکھے کو زیادہ پڑھنے کا ہنر سیکھنا آپ کے لیے بھی اب ضروری ہے۔
میں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ تحریک انصاف کے ظہیر عباس کھوکر تقریبا 40 ہزار کی لیڈ سے جیتے۔
احسان اللہ وقاص
تحریک انصاف کے مخالف جماعتوں کے امیدواروں نے بھی اعتراف کر لیا
لیاقت علی چٹھہ کے بارے میں اعلیٰ حکام کو بھجوائی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انکے خاندا�� کے کئی افراد کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے وہ حمزہ شہباز سمیت مسلم لیگ ن کی اہم شخصیات کے بہت قریب رہے ہیں اور ذہنی و جسمانی طور پر بالکل ٹھیک ہیں