"Half of life is lost in charming others. The other half is lost in going through anxieties caused by others. Leave this play, you have played enough."
— RUMI.
کس چیز کا جشن منایا جارہا ہے؟ کیا اِس مُلک کا کوئی بھی شہری آزاد ہے؟ اسلام آباد کے آرام دہ گھروں میں رہتے شہریوں کو اِس تکلیف کا اندازہ نہیں کہ جو اُن کے لیے جشن کئ آتش بازی ہے وہی دھماکے باجوڑ کے شہریوں کے لیے خوف کی علامت ہیں اور یہ آتش بازی حُکمرانوں کے ہاتھوں پر “گُڈ اینڈ بیڈ طالبان” پالیسی کی وجہ سے لگا پختونوں کا خون نہیں دھوسکتے۔ آپریشن شیر دل سے لے کر آپریشن ضربِ عضب تک ہر آپریشن کی کامیابی کا جشن منانے والے سابقہ آرمی چیفس کی مراعات واپس لے کر اُنہیں کوئی کٹہرے میں کھڑا کرے گا کہ اگر آپکے آپریشن کامیاب تھے تو دہشتگرد واپس کیسے آگئے؟ کیا صُبح جشن کی تقریبات میں موجود کسی شخص میں یہ جرات ہوگی کہ سوال کرے کہ ہم جنگ کا جشن منا رہے یا جنگی معیشت کا یا گورا صاحب سے آزادی لے کر براؤن صاحب سے غُلامی اختیار کرنے کا؟ مُجھے خدشہ ہے کہ بدقسمتی سے پچھلے چند سالوں میں ہماری ریاست نے پاکستان کے وجود پر جو زخم لگائے ہیں یہ جشن اُن پر مرہم نہ رکھ سکے گا کیونکہ جب ہم آزادی کا جشن منارہے ہوں گے تو ہمارے ضمیر کی علامت علی وزیر اور ماہرنگ بلوچ قید ہوں گے۔ غداری کے فتوے لگاکر ہم اپنے جرائم نہیں چُھپا سکتے اور آج جو دوسروں کو اِس آگ میں جلتا دیکھ کر سہمے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں یہ آگ کل اُن کے گھروں تک بھی پہنچے گی اور اُس وقت اُن کے ساتھ آگ بُجھانے کے لیے کوئی بچا نہیں ہوگا۔ خود غرض اور موقع پرست پالیسی سازوں نے آج ہمیں اُس جگہ لا کھڑا کیا ہے کہ ہمیں جشن منانے سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔
ایک ہائی کورٹ کے جج کو یہ دہشتگرد دھمکا رہا ہے۔ ریاست کہاں ہے؟ یہاں کوئی پرچہ نہیں، کوئی گرفتاری نہیں، کوئی ٹرائل نہیں۔ کیوں؟ جس پر مرضی یہ دین فروش جھوٹے الزام لگاتے جائے، لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالے۔۔۔ کوئی ان سے پوچھنے والا ہے؟
@ICT_Police@FIA_Agency@NCCIAOFFICIAL
Baloch women & children have endured hardships to travel to the capital & try to make their voices heard on the forced disappearance of their husbands, fathers, brothers, sons. Again they are met with hostility by fed govt & no pol party or civil society has reached out to them.
زندہ بھٹو کے کارناموں پر بیشمار کتابیں لکھی جاسکتی ہیں اور ایک تازہ ترین چیپڑ یہ ہے کہ عبدالصمد لالہ ایڈووکیٹ 2024 سے گرفتار ہیں اور زندہ بھٹو گینگ نے ان پر جامشورو میں جولائی 2025 میں دھشتگردی کا جعلی مقدمہ بنایا ہے کہ شہر میں مسلح فائرنگ کرکے خوف ہراس پھیلایا ہے
سبحان اللہ
ملک نصیر کوکی خیل کو نومبر میں پختونخواہ میں گرفتار کیا گیا اور جب تمام جعلی مقدمات میں ضمانت ھوگئی تو پنجاب میں مقدمات بنا دئیے گئے اور جون 28 کو پنجاب کے مقدمات میں ضمانت ھوئی تو رہائی کی بجائے اٹک جیل سے اغواء کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور اب تک اتہ پتہ نہیں ہے