پشین میں بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیم بی ایل اے کی کاروائی اپنی نوعیت کا ایک الگ واقعہ ہے۔ آزادی پسندوں نے سرانان شہر پر گھنٹوں تک کنٹرول قائم کیا، زیر حراست دس پولیس اہلکاروں کو بعدازاں رہا کردیا گیا جبکہ آزادی پسند لوگوں سے بھی ملیں جس کے باعث پشتونوں کی جانب سے آزادی پسندوں کی حمایت پر بحث ہورہی ہے۔
مزید جانئیے اس ویڈیو رپورٹ میں:
U.S. troops uncover a massive Taliban weapons cache deep in an Afghan valley, with RPGs, mortars, fuses, and crates of ammunition.
Seconds later, the search turns into a firefight as the troops come under attack.
1979: The invasion shattered the détente of the Cold War. When the Soviet tanks started rolling across the Amu Darya river represented aggressive imperial expansion that had to be checked by Afghans, Americans and Gen. Zia of Pakistan.
تھامس موچیوں کا بیٹا تھا ۔ وہ بچپن سے ذراسا مختلف بچہ تھا وہ دیکھ رہا تھا اس کا خاندان چار سو سال سے جوتے بنارہا ہے اور جفت سازی کے اس پیشے میں اس کی در جنوں نسلیں ختم ہو گئیں،
تھامس نے فیصلہ کیا کہ وہ محض موچی بن کر زندگی نہیں گزارے گا چنانچہ اس نے اپنی بہن آنا اور بھائی انتھونی کے ساتھ مل کر 1894 ء میں ایک چھوٹی سی کمپنی بنائی لیکن اس دور میں اس کا گاؤں ایک انتہائی پسماندہ گاؤں تھا ،تمام گلیاں کچی تھیں اور اس گاؤں تک ٹرین کی پٹری بھی نہیں بچھی تھی لیکن اس کے باوجو د تھامس ڈٹ گیا اور اس نے ایک شوز فیکٹری کی بنیاد رکھ دی اس کی فیکٹری میں شروع میں محض دس لوگ کام کرتے تھے لیکن پھر ان دس لوگوں کو سو ہوتے دیر نہ لگی،
تھامس ر وایتی جفت سازی کی بجائے مشینوں پر شفٹ ہوتا چلا گیا اور یوں اس کی کمپنی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی چلی گئی۔
تھامس ایک وژنری شخص تھا اس نے محسوس کیا چمڑے سے جوتے بنانا مشکل بھی ہے اور یہ جوتے سخت اور بھاری بھی ہوتے ہیں چنانچہ اس نے 1896 ء میں پہلا کینوس شوز بنایا ، یہ جفت سازی میں انقلاب تھا کینوس شوز ہلکا بھی تھا، دیرپا بھی اور سستا بھی تھا ،1899 ء میں گاؤں میں ریل کی پٹڑی بچھ گئی اور یہ گاؤں بڑے شہروں کے ساتھ منسلک ہو گیا ، تھامس نے اپنی فیکٹری ریلوے لائن کے قریب شفٹ کر لی اور دھڑ ادھڑ جوتے بنانے لگا،
اس نے سفر بھی شروع کر دیئے یہ امریکا سے واپس آیا تو یہ سمجھ چکا تھا اگر میں نے اپنی کمپنی کو بین الاقوامی برانڈ بنانا ہے تو پھر مجھے اپنے علاقے کو بدلنا ہوگا۔ تھامس نے واپس آکر پورے گاؤں کو اپنی ذمہ داری بنا لیا، اس نے گاؤں میں سڑکیں بنائیں، سکول کھولا ،گاؤں میں چھوٹے قرضے دینے والا بینک بنایا، فارم ہاؤسز بنائے ،گاوں میں ٹیلی فون لگوایا، 1914 ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی اور یہ جنگ تھامس کی کمپنی کیلئے تر قی کا پیغام لے کر طلوع ہوئی،
آسٹریا کی حکومت نے تھامس کو فوج کیلئے 50 ہزار بوٹ بنانے کا آرڈر دے دیا اس نے یہ آرڈر پورا کر نے کیلئے اپنی ٹینریز بنائیں فیکٹریوں کی تعداد میں اضافہ کیا اور اس کے ملازمین چار ہزار تک پہنچ گئے یہ روزانہ چھ ہزار جوتے بنانے لگا اس کےبنائے جوتےخصوصی ٹرینیوں پر مختلف فوجی یونٹوں میں پہنچنے لگے اور یوں یہ دیکھتے ہی دیکھتے یورپ کا سب سے بڑا شو میکر بن گیا ۔
جنگ کے بعد اس نے اپنے جوتوں کی قیمت میں چالیس فیصد کمی کر دی اور یورپ بھر میں دھڑ ا دھڑا دکا نیں کھولنا شروع کر دیں۔ یہ دنیا کی پہلی سیل تھی اور سیل کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
1894ء سے لے کر آج تک اس کمپنی نے مختلف جوتوں کے پانچ ہزار ڈیزائن بنائے ہیں دنیاکا پہلا فوجی بوٹ، پہلا سپورٹس شوز، پہلا کینوس شوز، پہلا سکول شوز اور خواتین کے پہلے کمرشل سینڈ لز بھی اس کمپنی نے بنائے تھے۔
تھامس کا پورا نام تھامس باٹا تھا جی ہاں وہی باٹاجس کی شوزکمپنی آج بھی باٹا کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہے، تھامس باٹا اس دنیا سے چلا گیا لیکن باٹا کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا کیونکہ یہ صرف تاجر یا صنعت کار نہیں تھا یہ انسانیت کا محسن بھی تھا اور انسانیت کے محسن کبھی نہیں مرتے“
تھامس بتا گیا کہ اگر آپ موچی، درزی، ترکھان کی اولاد ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ بھی وہی پیشہ اختیار کریں اگر آپ میں بزنس کا ٹیلنٹ ہے تو آپ اپنا بزنس سٹارٹ کر سکتے ہیں آپ اے آئی ایکسپرٹ بننا چاہتے ہیں تو اس فیلڈ میں جائیں اور آج کی جدید دنیا میں تو پروفیشنلز کی تعداد بڑھ گئی ہے اور نت نئے کیرئیر وجود میں آچکے ہیں آپ اپنا ٹیلنٹ سکور کریں اور اس کے مطابق جدید کیرئیر اختیار کریں۔
⚠️ Pakistan’s prime minister mourns the eliminated Terrorist-in-Chief Khamenei.
⚠️ Reminder: Pakistan provided safe haven for the Islamist terrorists who attacked America on 9/11.
15 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ، تین ہزار سے زائد بیلسٹک میزائل اور آبنائے ہرمز مسدود کرنے کی صلاحیت۔ جانیے ایران کی اصل فوجی طاقت اس تفصیلی رپورٹ میں۔
مزید معلومات: https://t.co/9V6RYXm56J
#IndependentUrdu#Iran#UnitedStates#Israel
نوي خوندوره ترانه!
کسر
مونږ سوله غوښتله تا جګړه غوښته جلاده
اوس به میدان نه پرېږدې ظالم اسلام برباده
ترانه ویونکی:
الحاج ملافقیرمحمد دروېش
شاعر: حفیظ الدین پیرزاده