اب جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو کور کمانڈر لاہور کی رہائشگاہ میں جلاؤ گھیراؤ کے معاملے میں بالکل معصوم (بےگناہ) قرار دے دیا گیا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہےکہ مرکزی پنجاب کی صدر کے طور پر (ڈاکٹر یاسمین راشد) اور پاکستان تحریک انصاف کا بطور جماعت اس جلاؤ گھیراؤ میں قطعاً کوئی کردار نہیں۔
تحریک انصاف کیخلاف سارا کریک ڈاؤن اسی جواز کی آڑ میں کیا گیا کہ تحریک نے پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی۔
اس بیانیے کی تو اب واقعتاً دھجیاں اُڑ چکی ہیں۔
@OfficialDGISPR Mr xyz in army or mr Dirty Harry plz protect our Pakistan borders from the movement of terrorists which move freely in army supervision
قوم مطالبہ کرتی ہے اسے صحافیوں سمیع ابراہیم اور عمران ریاض کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ دونوں کہاں ہیں۔
صحافی برادری کیوں اس قدر خوفزدہ اور سہمی ہوئی ہے کہ ان دونوں کے 48 گھنٹوں میں عدالت میں پیش کئے جانے کا مطالبہ نہیں کرتی حالانکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ وگرنہ تو اسے اغواء کہا جانا چاہئیے۔
یہ فسطائی ہتھکنڈے دراصل میڈیا کا گلا گھونٹنے کی ایک کوشش ہیں تاکہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کیخلاف جاری سفاکانہ کریک ڈاؤن کو (میڈیا بلیک آؤٹ کے ذریعے) قوم کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جاسکے۔
طویل لانگ مارچ کے دوران ماؤ زے تنگ نے اپنے کامریڈوں سے پوچھا؛ ہم کم زور ہوئے ہیں یا طاقت ور؟ ـ ایک کامریڈ نے مایوسی سے کہا پہلے ہم لاکھوں میں تھے اب ہزاروں میں ہیں اس کا مطلب یہی ہوا کہ کم زور ہوگئے ہیں ـ ماؤ نے مسکرا کر کہا؛ نہیں ہم پہلے سے زیادہ طاقت ور ہوگئے ہیں کیوں کہ جتنے بھی کم زور عناصر تھے وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے اب صرف مضبوط افراد رہ گئے ہیں
منقول ـ
@SaboohSyed جہالت کی انتہا یہ پنجابی کتے ایک روزہ بھی نہیں رکھتے اور مردوں کے درباروں کی پوجا کرتے رہتے ہیں گجرات کے نانگے شاہ انکے پیر اور یہ ہیرا منڈی کے مرید