ہر گزرتا لمحہ میرے بھائیوں کی سلامتی کے حوالے سے مزید خدشات پیدا کررہی ہے 8 سالوں سے بھائیوں کی بازیابی کے لیے مقدمات کاسامنا کیا پولیس لاٹھی چارج تشدد برداشت کیا مگر ریاستی ادارے کسی کو جواب دہ نہیں ہیں یہ ازیت ہمارے بھائیوں کی زندہ سلامت لوٹ آنے کے بدلے کچھ بھی نہیں ہے
ریاستی ظلم، جبر اور استبداد سے ظہیر کے خاندان کو خاموش تو کیا جا سکتا ہے، مگر ظہیر کی بازیابی کا مطالبہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ خاندانوں کو خوفزدہ کرکے آوازیں دبانے کی کوشش محض خام خیالی ہے۔
#ReleaseZaheerBaloch
17 سال گزر گئے، مگر کبیر، مشتاق اور عطاء اللہ تاحال جبری لاپتہ ہیں، بلوچستان کی سرزمین پر ایک نسل جبری گمشدگیوں کے اندھیرے میں کھو گئی، اور دوسری نسل انہی زخموں کی گواہ بن کر جوان ہو رہی ہے۔
#EndEnforcedDisappearances
Hammod Baloch, son of Muhammad Jan, a 17-year-old student and resident of Baloch Abad Mand, Kech, was forcibly disappeared by (Death Squad/MI) on 22 October 2026 at 3:00 AM. He was abducted from home, Baloch Abad Mand, Kech.
#SaveBalochStudents
کئی سال گزر گئے مگر درد، اذیت اور انتظار آج بھی وہی ہے۔ ایک خاندان اب تک کسی خبر کا منتظر ہے، ایک ماں کی آنکھیں آج بھی راہ تکتی ہیں۔ بولان کریم تاحال جبری لاپتہ ہیں۔
#ReleaseBolanKarim
اُٹھیں، مزاحمت کریں یہ وقت آج ہم پر آیا ہے، یہ وقت آپ لوگوں پر بھی آئے گا۔ میں نہیں چاہتی کہ یہ وقت آپ لوگوں پر آئے۔ اُٹھیں، ظلم اور جبری گمشدگیوں کے خلاف۔
آدینہ بھتیجی جبری لاپتہ نصیب اللہ بادینی
#ReleaseNaseebUllahBadini
سیف اللہ رودینی 22 نومبر 2013 سے لاپتہ ہیں، سیف کے والدین اسے دوبارہ دیکھے بغیر اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ سیف اللہ کے والد کا 2016 میں اور والدہ کا 2019 میں انتقال ہو گیا تھا۔
بہت سے خاندان ایسے ہیں جو جبری گمشدگیوں کی اجتماعی سزا کا شکار ہیں۔
#ReleaseSaifUllahRodeni
The Youth Dilemma
A booklet, “The Youth Dilemma” will be published by Sagaar Publications on the Youth Engagement Policy of occupying Pakistani state in Balochistan.
The booklet will cover its historical background, exclusively reports and analysation of various soft policies being applied on Baloch youths; their forms, aims, structures and methods. This literary work will expose the colonial soft policy and the people behind these silent crimes, to the Baloch nation. Additionally, it includes the counter and resistive solution to any colonial policy regarding the youth engagement.
Baloch Students Organisation Azad
#BoycottStateSponseredPrograms
ودار گراں اِنت، سک گراں اِنت، پدا ھما ودار کہ تو سرپد مہ بے کہ کدی سرجم بیت یا ناں، زرینہ ھما بے منزلیں وداریں زندگی ءِ مسافر جوڑ بوتگ،
#SaveShabirBaloch#EndEnforcedDisappearances
سفر علی کی جبری گمشدگی کو کل 13 سال مکمل ہوجائیں گے، سفر کی بیوی اسی درد کو لے کر اس جہان سے کوچ کر گئی۔ ریاست جابر نہیں قاتل بھی ہے، سفر علی کی بیوی کی قاتل!
ریاست کئی ماؤں کی قاتل ہے جن کے بچے ریاستی جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔
#ReleaseSafarAli