کیا خوبصورت ویڈیو ہے اور کیا شاندار جذبہ ہے، ماشاءﷲ۔
ہر پاکستانی نے بھارت کا ج��نڈا جلانے سے انکار کر دیا۔ زبردست۔ 👏👏👏
عزت سب کی کریں۔ ظلم نہ کسی پر کریں، نہ کسی کا ظلم ناحق برداشت کریں۔ یہی اسلام سکھاتا ہے۔ 👍
تصویر میں نظر آنے والا بچہ اپنا نام علی بتاتا ہے۔
علی کی والدہ بول اور سن نہیں سکتی تھی۔ سال 1999 میں علی اور اسکی والدہ ایک شیلٹر میں پہنچے تھے۔ پھر ملتان کے شیلٹر سے کراچی کے شیلٹر منتقل کئے گئے تھے۔ شاید انکا تعلق ملتان سے ہو پنجاب کے کسی آس پاس شہر سے ہو۔
علی کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ علی روز والدہ کی قبر پر جاتا ہے اور اپنی رو کر ماں کو آوازیں دیتا ہے۔
علی نے جب ہم سے رابطہ کیا تو اسکا کہنا تھا" اگر میرا گھر نہیں ملا تو میں اپنی جان دےدونگا" ۔ ذہنی طور پر ذرا سادہ ہے اور بہت معصوم ہے۔ علی کی نشانی یہ ہے کہ اسکی زبان توتلی ہے۔ وہ جب اپنے ساتھ کے دوستوں کو اپنے گھر والوں سے ملتا دیکھتا ہے تو دل میں بہت حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش اسکے گھر والے بھی مل جائیں۔
پنجاب بھر کے تمام دوست اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ آپکا ایک شئیر ایک دکھی انسان کو اسکے خاندان سے ملانے کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے ��ئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
11 Aug 2026
#waliullahmaroof
13 سال کی عمر میں بچھڑنے والا محب اللہ…
23 سال بعد بھی گھر والے منتظر ہیں!
یہ تصویر محب اللہ کی ہے۔
سال 2003 میں جب محب اللہ کی عمر صرف 13 سال تھی، وہ اسلام آباد سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ اُس وقت وہ اسلام آباد کے ایک مدرسے میں حفظِ قرآن کر رہا تھا۔
محب اللہ کے والد قاری عبداللہ مدنی مسجد، F-8 اسلام آباد کے امام تھے۔ ��ند سال قبل وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن اپنے بیٹے کی واپسی کی حسرت اپنے ساتھ لے گئے۔
محب اللہ کی والدہ حنیفہ بی بی آج بھی اپنے بیٹے کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
اس کے بھائی وصی اللہ، منیب اللہ، امداد اللہ اور عباد اللہ اور بہنیں سلمیٰ، تسلیم، ام ہانی اور حبیبہ آج بھی اس امید کے ساتھ زندہ ہیں کہ ان کا بچھڑا ہوا بھائی ایک دن اچانک دروازے پر آ کھڑا ہوگا۔
آبائی تعلق: گاؤں بیڑ، ضلع بٹگرام۔۔۔ رہائش: F-8/2، اسلام آباد
گھر میں محب اللہ کی یہی ایک تصویر موجود ہے۔ تصویر وقت کے ساتھ سیاہ پڑ چکی ہے، مگر اس تصویر میں آج بھی اس کے گھر والوں کو امید کی ایک کرن نظر آتی ہے۔
ماں کی آنکھیں آج بھی دروازے پر لگی ہیں… شاید کبھی اس کا بیٹا واپس آ جائے۔
محب اللہ! اگر آپ یہ پوسٹ دیکھ رہے ہیں اور آپ دنیا میں کہیں بھی موجود ہیں، تو اپنی ماں کی بے قراری اور اپنے بہن بھائیوں کی برسوں کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے ہم سے رابطہ کریں۔
آپ کے گھر والے آج بھی آپ کے منتظر ہیں۔
اگر محب اللہ تک یہ پوسٹ نہ بھی پہنچ سکے، تو ممکن ہے آپ کا ایک شیئر کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو اسے جانتا ہو، اور یوں 23 سال سے بچھڑا ہوا بیٹا اپنی ماں سے مل جائے۔
کسی بھی معلومات کی صورت میں رابطہ کریں:
+92 316 2529829
10 اگست 2026
#WaliullahMaroof #محب_اللہ #MissingPerson #FindMahibullah #گمشدہ_افراد #FamilyReunion
اس بچے کا نام جاوید ہے اور والد کا نام ایاز ہے۔
جاوید سال 2006 کے اگست میں کراچی کے تھانہ شاہ پولیس چوکی لطیف آباد ٹاؤن کو لاوارث حالت میں ملا تھا۔6 سال عمر تھی۔
جاوید کی مادری زبان پشتو ہے۔ اس کے بقول وہ گھر سے نکل کر سمندر کے قریب کہیں پہنچا تھا تو وہاں سے پولیس کو ملا تھا۔
خاندان کے افراد میں سے کسی کا نام یاد نہیں ہے۔
جاوید نے زندگی میں بہت ہی مشکل حالات دیکھے ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔ اس وقت بے یار و مددگار زندگی بسر کررہا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو دیکھے اور اذیت ناک زندگی سے نکل کر سکون میں آجائے۔
ان شاءاللہ فیملی ملنے کے بعد ہم جاوید کی زندگی پر لکھیں گے آپ پڑھ کر اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رکھ پائیں گے۔ فی الحال اسکی تکلیف کا احساس کرکے اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ آپ کا ایک شئیر کسی کی زندگی بدلنے کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
9 Aug 2026
#waliullahmaroof
تمام قارئین
اس ��ےزبان بہن کی زبان بن جائیں۔۔۔!!
سال 2009 میں یہ معصوم بچی ملتان میں لاوارث حالت میں ملی تھی۔ ایک شیلٹر میں جمع ہوئی۔
بعد ازاں اسے کراچی کے ایک شیلٹر ہوم منتقل کر دیا گیا، جہاں یہ بچی برسوں سے زندگی گزار رہی ہے۔ شیلٹر میں نام آمنہ عرف حمیرا ہے۔
جو بچیاں اپنے گھر والوں سے ملتی ہیں یہ انکو دیکھ کر بہت روتی ہے اور اشاروں میں کہتی ہے مجھے بھی کوئی میرے اپنے گھر والوں سے ملائے۔
سترہ سال گزر گئے…وقت بدل گیا، بچپن گزر گیا، عمر بڑھ گئی…
مگر ایک سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے:
آخر اس بچی کے اپنے کون ہیں؟
شاید وہ لوگ یہ سمجھ کر خاموش ہو گئے ہوں کہ ان کی بیٹی کبھی واپس نہیں آئے گی…لیکن ہم امید نہیں چھوڑیں گے۔
یہ تصویر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
ہو سکتا ہے یہ پوسٹ کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو اس بچی کو پہچانتا ہو، یا اس کے خاندان کے بارے میں کوئی معمولی سی معلومات رکھتا ہو۔
ایک شیئر صرف ایک پوسٹ کو نہیں پھیلاتا، بلکہ کسی کی 17 سالہ جدائی ختم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
آئیے، اس بچی کو اس کے اپنوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
8 Aug 2026
#waliullahmaroof
اس ماں جی کو اپنوں سے ملانے میں مدد کریں
یہ اماں جان کئی مہینوں سے پنڈی کے ایک علاقے میں سڑکوں پر گھوم پھر رہی ہے۔ ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے۔ رات کو فٹ پاتھ پر سوتی ہے۔ سامنے کے دانت مصنوعی ہیں۔ ��جائب نامی کسی شخص کا نام بھی زیادہ لیتی ہے شاید کوئی قریبی رشتےدار ہو۔
ہری پور ایبٹ آباد کا نام لیتی ہے۔ پشتو بھی بولتی ہے۔
تمام دوست اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں تاکہ یہ اماں جان اپنے گھر پہنچ جائے۔ شاید انکے بچے آج بھی یاد کرکے بےچین ہونگے اور ڈھونڈ رہے ہونگے۔ جس علاقے میں موجود ہے وہاں کے ایک دوکاندار نے ہم سے رابطہ کرکے کیس دیا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
7 Aug 2026
#waliullahmaroof
ظلم کی انتہا ہے
چاچو نے ایک دوست پاس مجھے بھیجا کہا اسے پھینک آو کہیں میری جان چھڑاو چاچو کا دوست مجھے کراچی لے آیا وہاں بات کررہا تھا اس کے ہاتھ پیر کا/ٹ دو اس کو بھیک مانگنے پر لگاتے تو میں ڈر کر بھاگ آئی ایک آدمی ایدھی سینٹر چھوڑ گیا ایدھی والوں نے مجھے مارا میرے بال کاٹ دیے
اس نوجوان کو اپنوں سے ملائیں۔۔۔!!
اس نوجوان کو اپنا نام راشد یاد ہے اور والد کا نام محمد صدیق۔
مادری زبان سرائیکی ہے۔
راشد کا کہنا ہے کہ آج سے بیس بائیس سال قبل مجھے میرے والد نے کسی گھر میں کام پر رکھا تھا۔ میں کام سے بھاگ جایا کرتا تھا۔ ایک دن میں بس میں بیٹھ کر کہیں دور نکل گیا۔ شاید کراچی سے سکھر پہنچ گیا۔ ہم کراچی میں ہی رہتے تھے۔
سکھر میں مجھے ایک شیلٹر میں جمع کیا گیا۔ پھر وہاں سے کراچی شیلٹر منتقل ہوا۔ اور یہیں میں بڑا ہوکر جوان ہوا ۔ اور اب لاوارثی کی زندگی بسر کررہا ہوں۔ لاوارثی کی زندگی بہت اذیت ناک ہے ۔ برائے مہربانی مجھے اپنوں سے ملائیں۔
راشد کو صرف اپنا اور والد کا نام یاد ہے ۔ شیلٹر کی فائل سے بچپن کی فوٹو ملی ہے ��و ورثاء تک پہنچنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ فائل میں ایک جگہ ایڈریس بھٹو کالونی نیو کراچی لکھا ہے اور دوسری طرف نارتھ کراچی لکھا ہے۔ شاید بچپن میں ان دو جگہوں کے نام راشد کو یاد ہونگے جو فائل میں لکھے گئے ہیں۔
سرائیکی وسیب کے دوست بالخصوص اور ملک بھر کے تمام دوست بالعموم اس پوسٹ کو دل کھول کر شئیر کریں۔
راشد کو اسکے خاندان سے ملانے میں مدد کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
3 اگست 2026
#waliullahmaroof
آج یکم اگست ہے ۔۔ یہ بچہ ایک اگست 2024 کو پاکستان ریلوے پولیس کو لودھراں ٹرین اسٹیشن پر لاوارث حالت میں ملا تھا۔
آج دو سال ہوگئے اسکو لاوارث ہوئے۔
بچہ بہت ننھا سا تھا بات نہیں کرس��تا تھا۔ ورثاء کو ڈھونڈنے کی بہت کوششیں کی گئی ہیں۔ ہم نے بھی دو بار پوسٹ لگائی تھی لیکن گھر والوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
بچے کو ایک سرکاری شیلٹر میں دے دیا گیا تھا۔
راتوں کو بچہ اٹھ کر زور زور سے روتا تھا۔ ماں کی آغوش میں جس بچے کو ہونا چاہئے تھا وہ شیلٹر میں ہے۔ راتوں کو اٹھ کر کمرے سے باہر نکل کر دیکھتا کہ شاید امی سوئی ہوئی ہوگی انکے پاس سر رکھ کر سوجائےگا۔ لیکن آج تین سال مکمل ہوگئے کسی نے اس کے لئے رابطہ نہیں کیا۔
بائیں طرف پرانی تصویر ہے اور دائیں طرف حالیہ
برائے مہربانی انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو پاکستان کی گلی گلی میں عام کریں۔ جس کونے میں بھی والدین موجود ہوں ان تک ہماری پوسٹ پہنچ جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
1 Aug 2026
#waliullahmaroof
یہ 1979ء کی بات ہے…
بابر اُس ��قت صرف چار یا پانچ سال کا معصوم بچہ تھا۔ والد کا نام اصغر اور والدہ کا نام سید بی بی تھا۔ خاندان ��یک کچے مکان میں رہائش پذیر تھا۔
بابر اپنے ماں باپ کا لاڈلا اور اپنے دو بھائیوں کا سب سے چھوٹا بھائی تھا۔ گھر بھر کی آنکھوں کا تارا… وہ خود کہتا ہے:
"مجھے گھر میں بہت زیادہ پیار کیا جاتا تھا۔ میں اپنی مستیوں میں گم، اپنی چھوٹی سی دنیا کا بادشاہ تھا۔"
پھر ایک دن اُس کی معصوم دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
بابر کے ماموں نے کہا:
"چلو، پتاسے کھانے چلتے ہیں۔"
ننھے بابر نے خوشی خوشی ماموں کی انگلی پکڑی اور اچھلتا کودتا اُن کے ساتھ چل پڑا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ سفر ماں کی گود، باپ کے سائے اور اپنے گھر سے نصف صدی کی جدائی کا آغاز ہے۔
ماموں اسے ٹرک کی فرنٹ سیٹ پر (ماموں ٹرک چل��تا تھا) بٹھا کر صبح سے سفر کرتے ہوئے سہ پہر کے وقت لاہور کے ایک علاقے میں لے آئے۔ وہاں ماموں نے بابر سے کہا:
"تم یہاں رکو، میں ابھی آتا ہوں۔"
ماموں تو واپس نہ آئے…
اور وہ دن اور آج کا دن، بابر اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا۔
ایک ننھے بچے سے اس کا بچپن چھن گیا۔۔ایک گھر اجڑ گیا۔
ایک ماں اپنے بیٹے کے انتظار میں رہ گئی۔ایک باپ اپنے لاڈلے کو ترستا رہا۔
بابر کو ایک یتیم خانے نے اپنے پاس رکھ لیا۔ وہاں اس کی اچھی پرورش ہوئی۔ ادارے کی میڈم نے اسے اپنے بچوں کی طرح محبت دی۔ بابر کی فائل آج بھی اسی ادارے میں موجود ہے۔
بچپن کی تصویر بھی ادارے کے ریکارڈ سے ملی ہے۔
ادارے کے منتظمین کے مطابق جب بابر وہاں آیا تھا تو وہ فارسی زبان میں کوئی نغمہ گنگنایا کرتا تھا، جس کے آخر میں شاید "لولولولو" کے الفاظ آتے تھے۔ ممکن ہے وہ اپنی ماں کی سنائی ہوئی کوئی لوری گاتا ہو… شاید ماں کی وہ لوری ہی تھی جو اس معصوم بچے کو اتنی بڑی جدائی کے باوجود یاد رہ گئی۔
آج تقریباً 47 ��ال گزر چکے ہیں۔
بابر خود بچوں کا باپ بن چکا ہے، مگر اس کے دل میں آج بھی اپنے ماں باپ کی محبت ویسی ہی زندہ ہے۔ وہ آج بھی اپنے والد اصغر اور والدہ سید بی بی کو یاد کرتا ہے اور اُن کی محبت کے لیے ایسے تڑپتا ہے جیسے مچھلی پانی کے لیے تڑپتی ہے۔
اسے اپنے والدین کے نام کے علاوہ خاندان کے کسی فرد کا نام یاد نہیں۔
لیکن امید ابھی زندہ ہے…!
ہو سکتا ہے بابر کے والدین ��نیا میں نہ ہوں، لیکن شاید اس کے بھائی، رشتہ دار یا کوئی ایسا شخص آج بھی موجود ہو جو اصغر اور سید بی بی کے اس بچھڑے ہوئے بیٹے بابر کو پہچان سکے۔
اللہ کا نام لے کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کیا معلوم یہ پوسٹ کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو بابر کے خاندان کو جانتا ہو۔
اللہ بچھڑوں کو ملانے والا ہے۔ ان شاء اللہ، بابر کا خاندان بھی مل سکتا ہے۔
کسی بھی قسم کی اطلاع ہو تو نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں:
+92 316 2529829
29 جولائی 2026
#WaliullahMaroof
"السلام علیکم محترم!
امید ہے آپ خیریت و عافیت سے ہونگے
آپکی مدد کی ضرورت ہے
میں بچپن میں کھو گئی تھی تقریبا 4 یا 5 سال کی ہونگی اپنے گھر والوں کے ساتھ کسی رشتے دار کے ہاں آئی تھی وہاں سے باہر چیز کے لئے باہر نکلی تو میں گھر بھول گئی ایسے چلتے چلتے پھر کسی روڈ پر رکی تو وہاں ہوٹل تھا ایک شخص تھا وہ مجھے گھر لے گیا وہ کچھ پوچھ بھی رہا تھا شاید میں اسکی زبان نہیں جانتی تھی اسلئے کچھ نہیں بولا مجھے اپنا نام گھر والوں کے نام کچھ بھی یاد نہیں ہے بس یہ واقعہ یاد ہے
خیر پھر کچھ دن اس شخص نے مجھے اپنے گھر رکھا اس دن کی پک بھی بنوائی تاکہ ماں باپ کو ڈھونڈا جاسکے لیکن نہیں ملے کراچی نارتھ ناظم آباد یونین کونسل کے ذریعے میں ایک فیملی کے زیر نگہداشت میں آئی اب 21 سال کی ہوں انہوں نے ہی تعلیم و تربیت کی ابھی تک میرے گھر والوں کا کچھ پتہ نہیں چلا آپکی وال دیکھی آپ نے کتنے لوگوں کو انکے گھر والوں سے ملوایا مجھے اللہ سے امید ہے آپ کے ذریعہ وسیلہ بنے ان شاء اللہ تعالٰی میں بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح ایک دن اپنے گھر والوں سے ضرور ملوں گی بس آپکی مدد کی ضرورت ہے
میرے 3 بھائی تھے 2 بہت بڑے تھے ایک کی شادی ہوچکی تھی اور یہی انکو بجلی کا کام بھی آتا تھا اور ایک پانی کا ٹینکر چلاتے تھے اور ایک مجھ سے ایک سال بڑا ہوگا یا دو سال میری جیسی شکل کا تھا اور 3 ہی بہنیں تھی ایک شادی شدہ تھی اور دو ہم عمر تھی ��اید جڑواں ایک کا رنگ کافی گورا تھا اور ایک سانولی گھر میں سب سے چھوٹی تھی
گھر سے تھوڑا دور شہر لگتا تھا جہاں سپیوں کی فیکٹری تھی ایک بار بہنوں کے ساتھ گئی تھی
اور گھر کے برابر میں قبرستان تھا اور اسی کے سامنے مسجد یا مدرسہ تھا قبرستان ایسا تھا کہ ہم دیوار سے جھانک لیا کرتے تھے گھر میں توری کی بیل تھی
یہ کنفیوژن ہے کہ جسکو میں بہن بھائی سمجھ رہی ہوں شاید رشتہ دار ہوں جوائنڈ فیملی سسٹم ہو ۔
امی کا چہرہ گول تھا جیسا میرا ہے والد کا لمبا قد تھا سفید داڑھی تھی ناک بھی لمبی تھی دبلے پتلے تھے ایک بار یاد ہے مجھے بخار ہوا تو والد صاحب ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا تھا تو روئی تھی والد صاحب نے کہا چیونٹی کاٹ کر چلی گئی وہ کندھوں پر بٹھا کر جھلاتے تھے جب شیو کرتے تھے تو ایک بار میں نے بھی انکی نقل کی تھی اور
گھر ہمارا فرش پکا مکان تھا گھر میں ٹینک بھی بنا تھا شاید باہر گھر کی دہلیز پر ہم نے سپیاں بھی لگائی تھی۔
جنکو بہن بھائی اور والد کہہ رہی ہوں شاید وہ کوئی اور ہوں
*کھونے کا ��ن*
اس دن ہم اپنے گھر سے اپنے ماموں کے گھر آئے تھے یا شاید کوئی رشتہ دار مجھے لگتا ہے کہ ماموں کی ٹانگ ٹوٹی تھی انکو دیکھنے آئے تھے ہم کسی بس میں سوار ہو کر آئے تھے جیسے کراچی میں w11 ہوتی ہے ویسی گھر پکا تھا گھر کے سامنے دوکان تھی پہلے ہم بچے ساتھ مل کر چیز لینے گئے اسکے بعد میں نے امی سے ضد کی کہ مجھے دوبارہ چیز لینی ہے انہوں نے منع بھی کیا لیکن میں نے ضد کی پھر انہوں نے سکہ دیا میں باہر گئی ننگے پیر کیونکہ سامنے دوکان تھی اور یہ ذہن میں رکھا تھا کہ گھر کے دو دروازے ہیں براؤن یا مہرون یہی کلر تھا پھر میں چیز لے کر مڑی تو مجھے ہر گھر کے دو دروازے دکھے اور وہ بھی ایک ہی کلر کے ��و گھر دیکھتی دو دروازے اور ایک جیسے کلر پھر چلتے چلتے کافی دور ہوگئی اندھیرا ہونے لگ گیا تھا پہلے دن تھا اور ایک جگہ ڈھال سے جیسے پہاڑی سے نیچے اترے ایسی جگہ تھی اور شاید کوئی ندی کی طرف کوئی علاقہ تھا میں بس دیکھا لیکن وہاں گئی نہیں سیدھی سیدھی چلتے چلتے شہر کی طرف آگئی جہاں ہوٹل اور ٹریفک تھا وہاں سامنے ایک پٹھان لڑکا میرے پاس کچھ بولتا ہوا کچھ پوچھ رہا تھا میں نے شاید جواب دیا پھر وہ اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا انہوں نے ایک ہفتہ رکھا تصویر بنائی اور بہت ڈھونڈا ان کے گھر کبوتر تھے جو پٹھان لڑکا تھا ایک بار انکے گھر سے بھی نکلی تھی تو بیچ میں چورنگی تھی اور چار راستے تھے پھر وہ پٹھان انکل مجھے لینے اگئے کیونکہ زیادہ دور نہیں تھا اور انکا گھر میں روڈ پر تھا بڑے بڑے گھر تھے پھر کچھ دن بعد یا موجودہ والد مجھے لینے اگئے اور جب میں باہر کمرے سے نکلی تھی میرے پاس وہی فراک تھی جس دن کھوئی تھی وہ کپڑے پہنے تھے انہوں نے باندھ کر دی تھی ان کے گھر سے پیلے رنگ کا سوٹ پہن کر نکلی تھی (پٹھان کے گھر سے) باہر انکا لان بنا تھا وہاں میرے موجودہ والد کسی پیپر پر سائن کر رہے تھے پھر انکے ساتھ میں گھر آگئی
والسلام ع��یکم"
یہ تصویر گمشدگی کے روز کی ہے 2008 میں
اپنی بہن سمجھ کردنیا بھر میں اس پوسٹ کو عام کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof
Jewish actress Miriam Margolyes says When I visited Israel I saw how disgusting Israeli people were because of their racist treatment of Palestinians
“Israeli people are shits”
عالمی دن برائے عطیہِ خون (14 جون) کے موقع پر، شوکت خانم ہسپتال میں کینسر سے لڑتے مریضوں کے علاج کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے خون کے عطیات کی اہمیت کیا ہے اور شوکت خانم ہسپتال میں خون کے عطیات کیسے دیئے جاسکتے ہیں؟
#WorldBloodDonorDay#DonateBloodSaveLives#SKMCH
یہ بچہ دسمبر 2025 کو کراچی میں لاوارث ملا تھا۔ اپنا نام یا دیگر معلومات بتانے سے قاصر ہے۔
بچہ اس وقت سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظتی تحویل میں ہے۔ بہت کوشش کی گئی لیکن ورثاء نہیں ملے۔ برائے مہربانی بچے کو ماں کے آغوش تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔اس عمر میں ماں باپ سے دور ہونا بہت ہی اذیت ناک ہوتا ہے۔ ایک لمحے کے لئے آنکھیں بند کرکے تصور کریں شاید آپ برداشت نا کرسکیں۔ زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ نیچے درج نمبر پر اطلاع دیں۔
03162529829
نوٹ: برائے مہربانی گود لینے کے
خواہشمند بالکل بھی رابطہ نا کریں۔
2 jun 2026
#waliullahmaroof
حجۃ الوداع کا خطبہ (مختصر اردو ترجمہ)
“اے لوگو! میری بات غور سے سنو، شاید اس سال کے بعد میں تم سے یہاں دوبارہ نہ مل سکوں۔
تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر ��سی طرح حرام ہے جیسے آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ شہر حرمت والے ہیں۔
لوگو! جاہلیت کے تمام سود ختم کیے جاتے ہیں، اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا سود ختم کرتا ہوں۔
عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ تمہارے ان پر حقوق ہیں اور ان کے تم پر حقوق ہیں۔ ان کے ساتھ بھلائی اور نرمی سے پیش آؤ۔
کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔
ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ مسلمانوں کے درمیان آپس میں محبت اور انصاف ہونا چاہیے۔
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔
جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ میری بات دوسروں تک پہنچا دیں۔”
⸻
اس خطبے کو اسلامی تاریخ میں انسانی مساوات، انصاف اور بنیادی حقوق کے ایک عظیم منشور کے طور پر دیکھا جاتا ہے
گزشتہ سے پیوستہ۔۔!!
ان اماں جی کی پوسٹس اس سے قبل 2 بار ہم لگا چکے ہیں
الحمدللہ کافی پیشرفت ھوئی ھے اور کیس حل ہونے کے قریب پہنچ چکا ھے۔۔
اماں جی کا گاؤں شیخوپورہ کا گاؤں مہتہ سوجا ٹریس ھوا ھے جہاں کے نمبردار صاحب اور بزرگوں نے تصدیق کی ھے کہ یہ بچپن میں اس خاندان کی بچی گم ہوئی تھی۔۔۔ دادا، دادی اور چچا کے نام بالکل صحیح ھیں۔۔۔ لیکن بدقسمتی ھے کہ یہ خاندان کچھ مسائل کی وجہ سے اس علاقے سے جا چکا ھے اور مزید معلومات یا رسائی ک��ی گاؤں کے فرد تک نہیں ھے۔۔۔
آج خوش قسمتی سے ایک 95 سال کے بزرگ سے انکے ��یٹے نے ہماری بات کروائی انہوں نے بتایا کہ اماں جی کے خاندان کو ٹریکٹر ٹرالی پر گوجرانوالہ چن دا قلعہ کے پاس تھیڑی نامی ایریا کے قریب چھوڑا تھا جہاں عبدالغنی اور فتح خان نے اپنا ڈیرہ بنایا تھا۔۔۔
آپ تمام درد دل رکھنے والے انسانوں سے التماس ھے کہ اماں جی کے خاندان کو ٹریس کرنے میں مدد کریں۔۔۔
اماں کے متعلق پہلے ہم لکھ چکے ہیں کہ انکے بقول: میرا نام طاہرہ بی بی ہے والد کا نام عبد الغنی، والد کا نام نصرت بی بی ، داداکا نام فتح خان دادی کا نام اللہ رکھی ہے جو کھڈیوں کا کام کرتے تھے۔
میرے بہن بھائیوں کے نام یہ ہیں محمد انور، محمداسلم، سچاخان،
ضلع شیخوپورہ کا کوئی گ��ؤں تھا جس کا نام مجھے پتہ نہیں البتہ یہ گاؤں کھیلوں کا سامان بنانے میں مشہور تھا۔ گاؤں کے دو بڑے چوہدری تھے ایک چوہدری شریف اور دوسرا چوہدری بشیر تھے یہ گاؤں کے بڑے اور جاگیر دار تھے میرے چچاؤں کے نام عبدالحق، عبدالقادراور محمد حسین تھے میرے والد نے میری والدہ کو طلاق دے کر دوسری شادی کر لی تھی والدہ نے بھی طلاق کے بعد دوسری شادی کر کے شاہدرہ موڑ پر کسی سے شادی کر لی تھی میں اکثر ان سے ملنے جایا کرتی تھی۔ میری چھوٹی بہن ریل حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ میری عمر 5، 6 سال ہو گی جب دادی کے ڈانٹنے پر گھر سے اکیلی نکل گئی اور منزل کھو گئ۔ پولیس نے لاہور چوبرجی کے شیلٹر پہنچا دیا جہاں بیس سال گزارے، شیلٹر نے حسب روایت میری شادی کر دی- میرے چار بچے ہیں اب وہ بھی شادی شدہ ہیں۔ شادی کے بعد میرے شوہر نے بہت کوشش کی میرے گھر والوں کو ڈھونڈنے میں لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔ مجھے امید ہے اب سوشل میڈیا کا دور ہے تو میں اپنے گھر والوں سے مل سکوں گی انشا اللہ۔
مجھے گھر میں پیار سے گدو کہتے تھے۔ بچپن میں پسلی پر دانہ نکلا جو خراب ہوکر زخ�� بن گیا اسکا نشان آج بھی موجود ہے۔
ہماری قوم جولاۓ ہے۔
ہم آج آپ سے تیسری بار درخواست کررہے ہیں کہ اس کیس کو کامیاب بنانے میں ہماری مدد کریں۔
گوجرانوالہ کے دوست بابا جی کے بتائے علاقوں میں ضرور یہ پوسٹ پہنچائیں اور اماں جی کے خاندان کی تلاش کے لئے ہماری مدد کریں۔جولائے قوم سے تعلق رکھنے والے خاندانوں سے رابطہ کرکے مدد حاصل کریں۔
اماں جی کی طبع��ت ناساز ہے دل کی مریضہ ہے برائے مہربانی انکو زندگی میں اپنوں سے ایک بار ضرور ملوائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں
25 may 2026
03162529829
#waliullahmaroof
دل تھام کے پڑھئے!
عمران سے ملاقات کرکے جب میں نے انکی زبانی انکی داستان سنی تو واللہ میں خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا،رات بھر مجھے ان دو ننھے منے بہن بھائی پر گزرے وقت کی داستان سن کر بہت رویا۔
یہ سال 2009 کی بات ہے،نیچے جو تحریر کاپی کی ہے یہ عمران کا لکھا ہوا ہے:
"میرا نام عمران ھے اور میری بہن کا نام لا ئبہ(اصل نام اسماء) ھے
ھم دونوں جب گھر سے نکلے تھے تب میری عمر چار۔ بہن چھ سال کی تھی۔
ہمارے گھر میں ماں باپ کے درمیان کوئ جھگرا ہوا،ماں ھم دونوں کو لیکر گھر سے نکل گئ ۔
تب رات زیادہ ہونے کی وجہ سے ھم فت پاتھ پر ہی سو گئے۔
جب آدھی رات میں آنکھ کھلی تو ماں نہیں تھی،میں اور بہن روتے روتے ڈرتے سہمتے سوگئے۔
صبح اٹھ کر پھر رونے لگے ۔
وہاں تین آدمی أئے انہوں نے ہمے ناشتہ کروایا ۔
ایک آدمی ھم دونوں کو اپنے گھر لے گیا،انہوں نے کئ روز ہمیں اپنے پاس رکھا ۔
ایک دن ایک بندہ آیا اور ان سے بولا یہ دونوں بچے مجھے دیں دے آپ،پھر وہ ہمیں اپنے ساتھ لیکر اپنے گھر لے آیا۔
وہ ہم پر ظ*لم کرتا اور گھر کے کام کرواتا تھا۔
جسکی وجہ سے ایک خاتون نے ہمیں کورنگی کے ایک شیلٹر میں داخل کرادیا ۔
مجھے تب اپنا نام بھی سہی سے یاد نہیں تھا ۔
میری بہن کہتی کہ اس نام اسماء ھے اور والد کا نام برھان ہے ۔
مجھے بس اتنا یاد ھے کہ ہمارے ابو ہمیشہ ٹوپی اور شلوارکمیز پہنے تھے ۔
کبھی کبھی یاد آ��ا ہے ٹرین میں صفر بھی کیا ہے۔
اور سمندر بھی گئے ہیں ۔
ابھی میرا نام عمران اور میری بہن کا نام لائبہ رکھا ھے
بہن کا کہنا ہے کہ ہمارے بھائ بہن یا کزن بھی ہیں
وہ ہمارے گھر آتے رہتے تھے۔ مجھے کنفرم نہیں ہے کہ میرا نام شیلٹر مے رکھا ہے یا یہی اصلی نام ہے۔ اسماء نے کہا ہے کہ گھر میں بھی یہی نام ہے۔"
یہ دلخراش داستان جب عمران کے ساتھ بیٹھ کر انکی زبانی سنیں تھی تو میں بالکل ساکت ہوگیا تھا اور میں سب کچھ بھول گیا اور ان بہنوں پر گزرے حالات کے سوچ میں بالکل گم گیا۔
اور عمران نے جب یہ بتایا کہ "بہن سے ملنے جاتا ہوں تو وہ بہت ہی حسرت کے ساتھ کہتی ہے بھائی گھر کا کچھ کرو نا""تو ایسے لگا جیسے کسی نے وار کردیا ہو دل پر۔
اگر کراچی کے دوست اس پوسٹ کو پورے شہر میں پھیلا دیں تو یہ دو بہن بھائی اپنے خاندان کے پاس پہنچ سکتے ہیں۔انکی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔
خدارا اس پوسٹ کو ملک بھر میں عام کریں تاکہ دو پھول جیسے بہن بھائی اپنوں سے ملیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
24 may 2026
#waliullahmaroof
I have decided to launch my YouTube channel right after Eid. Insha Allah.
Channel will be to help you.
No Sensation. No cheap politics
Topics Will Be:
Self Improvement. Global Affairs. Finance.
1. I will upload all my capital markets video courses for all to learn for FREE including my Investment Banking course as well for FREE.
2. I will make videos on global issues, global economy and political economy.
3. I will make self improvement videos for the youth and for all ages so they can handle their obstacles in life, develop a positive attitude and succeed. All videos will be in Urdu and sometimes in English.
4. Once a week I will take questions from the viewers and guide them with answers.
Please Retweet.