پٹرول 74 اور ڈیزل 67 روپے سستا کرنے کا اعلان وزیراعظم
PMO Tickers
*پرائم منسٹر آفس*
(میڈیا ونگ)
اسلام آباد: 18 جون 2026ء
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا پاکستان کی ثالثی کی بدولت خطے و عالمی امن کے قیام کے بعد تیل کی قیمتوں کے حوالے سے اہم بیان
خطے میں معاشی صورتحال میں بہتری آنے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام کی جانب منتقل کررہے ہیں۔ وزیرِ اعظم
جو وعدہ قوم سے کیا تھا، الحمدللہ وہ پورا کرنے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم
پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے کمی کی جارہی ہے۔
وزیرِ اعظم
اس طرح پٹرول کی فی لیٹر قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے پر آ جائے گی اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے پر آ جائے گی۔ وزیراعظم
عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے، آپ نے مشکل صورتحال صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ وزیرِ اعظم
ان مشکل حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ وزیرِ اعظم
اس بحران کے آغاز سے ہی ہم نے اپنے وسائل سے تیل کی قیمتوں میں جس قدر
ہو سکا کمی لانے کی کوشش کی۔ وزیرِ اعظم
وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے اور کفایت شعاری سے کی گئی بچت کے ذریعے 129 ارب استعمال کرکے، ملک بھر کے عوام کو تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا۔ وزیراعظم
خطے کی معاشی صورتحال کے دوران جب کچھ ممالک میں فیول راشننگ جیسے اقدامات لیے جا رہے تھے، حکومت پاکستان کی بہتر منصوبہ کی بدولت توانائی کا بحران نہیں آیا۔ وزیراعظم
موثر اقدامات کی بدولت ، نہ کوئی لائن لگی، نہ لمبی قطاریں لگیں، اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کی پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعظم
ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے وفاق اور صوبوں نے مکمل تعاون کیا جس کے لیے میں صوبائی وزرائے اعلی کا شکر گزار ہوں۔ وزیراعظم
جس قدر ممکن ہوا عوام کو عالمی مہنگائی کی لہر سے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ وزیرِ اعظم
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جو کمی آئے گی وہ من و عن عوام کو منتقل کررہے ہیں۔
وزیرِ اعظم
معاشی استحکام برقرار رکھنے اور مہنگائی میں مزید کمی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھیں گے۔ وزیرِ اعظم
بحران کے پورے عرصے میں نہ صرف ح��ومتی سطح پر کفایت شعاری کو اپنایا گیا بلکہ ریلیف کی مد میں محروم طبقات کو سبسڈی بھی فراہم کی گئی۔ وزیراعظم
عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیرِ اعظم
اللہ کے فضل سے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی ثالثی کی بدولت امن ممکن ہوا۔ وزیرِ اعظم
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت بخشی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو ایک تاریخی دستاویز ہے۔ وزیر اعظم
اللہ تعالیٰ نے یہ عزت و اکرام اپنی کمال مہربانی سے تمام پاکستانیوں کو عطا فرمایا۔ وزیرِ اعظم
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں جن کی انتھک محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بدولت یہ امن معاہدہ ممکن ہوا۔ وزیر اعظم
نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور حکومت پاکستان کی پوری ٹیم جو امن کی ان کوششوں میں خلوص نیت کے ساتھ سرگرم عمل رہی، کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں، وزیراعظم
اس کے علاوہ معاشی ٹیم، جن میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، و��یرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری پیٹرولیم اور چیئرمین ایف بی آر شامل ہیں، نے معاشی بحران میں قابل قدر کوششیں کیں، جو قابل ستائش ہیں۔
وزیرِ اعظم
وزیراعظم شہبازشریف نے ایران امریکہ کی جنگ بندی مع��ہدے کے فوراً بعد اپنا وعدہ پورا کردیا،،پیٹرول 74 اور ڈیزل 67 روپے سستا کرنے کا اعلان۔ شکریہ وزیراعظم شہبازشریف، شکریہ فیلڈ مارشل
جو میں نے وعدہ کیا تھا، ہماری حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ہم جب کمی آئے گی تو ایک ایک پائی قوم کو واپس لوٹائیں گے، تو آج انشاء اللہ خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا۔
سب یوتھیوں کو جو اس وقت ایرانی بنے یہ لازمی سنائیں ٹرمپ نے دوبارہ بتایا ہے کہ جس وقت ایران کے جنرل سلیمانی کو امریکہ نے نشانہ بنایا تو عمران خان نے کیسے ٹرمپ کی تعریفوں کے پل باندھے تھے
لازمی ان سے شئیر کیجئے
#ایویں
گرلز ہاسٹلز کے جھرمٹ میں رہتا ہوں مگر کوئی لڑکی یا خاتون واقف نہیں وہی حال سوشل میڈیا پر ویسے چاہے کوئی بھی اسٹوری بنائے تو میں اس سے واقف نہیں ۔ بحرحال ایسے وی حاجی نہیں کے کسے نوں تکئیے وی ناں تے ٹہرک وی کنٹول کری رکھئیے
شوکت ترین صاحب کو جب عمران خان کے دور میں وزارت خزانہ کا وزیر لگایا گیا تو فرمائش ہوئی کہ ہمیں گروتھ دکھائیں۔ معیشت تو منفی میں چل رہی تھی۔ ترین صاحب نے بیس ائر تبدیل کرکے گروتھ 6.1 % دکھا دی۔ اب بنیادی عقل رکھنے والے شخص کو بھی پتہ ہے بیس ائر تبدیل کرکے ماضی کے کسی مندی والے سال سے تقابل کر لیں تو اس بجٹ میں بھی گروتھ بیس فیصد کیا چالیس فیصد بھی نکالی جا سکتی ہے۔ لیکن دنیا بھر میں آپ ایک مسخرے کے طور پر جانے جا سکتے ہیں، کوئی آپ کو یا آپ کو دعوے کو سنجیدہ نہیں لے گا۔ یہ تمام باتیں بتانا حکومت کے مالیاتی ترجمانوں کا کام ہے اس لئے خاکسار اس پر چپ تھا۔ تا ہم ایک انتہائی سنجیدہ شخص نے جب پوچھا تو بتانا پڑا۔
آداب عرض ہے
🙏🙏🙏
"ہم نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب اسد قیصر اسپیکر قومی اسمبلی تھے اور پارلیمنٹ کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے تھے۔ ارکانِ اسمبلی کو پروڈکشن آرڈرز جاری کروانے کے لیے بارہا درخواستیں اور کوششیں کرنا پڑتی تھیں۔ ہم نے پارلیمنٹ کے اندر ایسے حالات بھی دیکھے ہیں جہاں غیر منتخب اداروں کے اثر و رسوخ کی باتیں کی جاتی تھیں۔ آج اگر فسطائیت اور جبر کی بات ہو رہی ہے تو ہم خود بھی سیاسی مشکلات، گرفتاریوں اور جیلوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ اور اسد قیصر صاحب کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ صوابی میں یونیورسٹی کے قیام میں ��ماری حکومت کا بھی اہم کردار تھا۔"احسن اقبال
پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں 17 نومبر 2025 کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے چودھری انوارالحق کی حکومت کو گھر بھیج کر ریاست میں سیاسی نظام، جمہوریت اور عوامی اعتماد کی بحالی کا اعلان کیا، اس موقع پر یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ جب عام انتخابات میں صرف 6 ماہ باقی ہیں تو حکومت کی تبدیلی کی کیا ضرورت پیش آئی؟ تاہم بعض سیاسی حلقوں نے اسی وقت یہ عندیہ دیا تھا پیپلز پارٹی کی حکومت کا دورانیہ محدود نہیں بلکہ یہ اپنی مدت سے زیادہ چل سکتی ہے، باوجود اس کے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور بار بار یہ کہتے رہے کہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات وقت پر ہوں گے کسی قسم کی کوئی تاخیر نہیں ہوگی، اب تقریباً 7 ماہ بعد جب الیکشن شیڈول بھی جاری ہوچکا ہے پیپلز پارٹی نے انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے، سوال یہ ہے اگر عوام کا ووٹ ہی اصل جمہوریت کی بنیاد ہے تو پھر انتخابی عمل کو مؤخر کرنے کا کیا جواز ہے؟ پیپلز پارٹی کا تو بنیادی سیاسی نعرہ بھی یہی ہے “جمہوریت بہترین انتقام ہے” تو پھر آزاد کشمیر کے حالات کو انتخابات موخر کروائے جانے کی وجہ کیوں پیش کیا جارہا ہے۔
سرکاری ٹٹی خانے کا مالک !
واش روم کا تنازع ہمارے معاشرے کی اصل تصویر ہے۔ ہر کوئی رعونت اور غرور سے بھرا ہوا ہے۔ ایک افسر نے سرکاری دفتر میں واش روم ہی اپنا پرسنل رکھا ہوا ہے اور اگر کوئی استعمال کر لے تو اسے دفتر سے ہی نکال دیا جاتا ہے یعنی یہ بیوروکریسی ہے اور یہ پولیس ہے۔ اس نے خاک عوام کو اپنا سمجھنا ہے۔ دوسری طرف واش روم استعمال نہ کرنے دینے کے “جرم” پر افسر ہی ضلع بدر ہو جاتا ہے ( شاید یہ سرعام بے عزتی کی سزا ہے) مگر یہی مزا ہے ک�� وہ دوسری جگہ افسر لگ جاتا ہے اور اب وہ وہاں کے ٹٹی خانے کا بھی ذاتی مالک ہو گا اور اگر اس دوران مر گیا تو وہ ٹٹی خانہ اس کی قبر میں رکھ دیا جائے گا۔
افسران اور سیاستدانوں کی یہی فرعونیت عوام کے مزاج میں ہے۔ سڑک پر کوئی سگنل کی پابندی کا خیال نہیں کرتا کیونکہ سڑک اس کے باپ کی ذاتی جاگیر ہے۔ اگر اس پر چالان ہو جائے تو ریاست کو گالیاں ہیں اور وہ فورا غریب اور مظلوم بن جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر دیکھ لیجئے، آپ کی رائے ��ے مختلف تحریر کہیں نظر آ جائے فورا بد کلامی، فورا گالی۔ گویا ہر تحریر لکھنے والا آپ کی رائے اور خیالات کا غلام ہے۔ آپ اس سے رائے کا اختلاف نہیں کرتے اس پر فتوی تھوپتے ہیں۔
میں سوچ رہا ہوں کہ ایم پی اے کے بیٹے کو دفع ہونے کا کہہ دیا اور اگر یہ ہمت جرات یا غلطی کوئی غریب سائل کر لیتا تو اس کو تو یہ صاحب تھانے میں الٹا لٹکاؤ دیتے کہ میری ہگنے کی مقدس جگہ پلید کر دی۔ سی سی ڈی سے مقابلہ ہی کروا دیتے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ میں یہ ہمارے ہی بچے ہوتے ہیں جو بڑی تعداد میں سی ایس ایس کر کے جاتے ہیں۔ ان کا مطالعہ وسیع ہوتا ہے کہ انگریزی کتابیں بھی گھول رکھی ہ��تی ہیں تو پھر یہ سال دو سال میں ہی فرعون کیسے بن جاتے ہیں؟ کیا ان کی ٹریننگ میں خامی ہے یا مسئلہ کچھ اور ہے۔ دنیا بھر میں یہ بیوروکریسی پچھلی صدی سے ہی متروک ہو چکی۔ انہیں پبلک سرونٹ ڈیکلئیر کیا جا چکا مگر یہاں یہ حاکم ہیں۔
ہم ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ بھائی اگر یہی روئیے رکھنے ہیں تو دفتر اپنے باپ کے پیسوں سے بنوا لو اور وہاں نو اینٹری کا بورڈ لگا دو۔ سڑک پر دوسروں کو گزرنے کا حق تسلیم نہیں کرنا تو سڑکیں بھی اپنی زمینوں پر بنوا لو اور اگر سوشل میڈیا پر دوسرے کی رائے کا احترام ہی نہیں کرنا تو اپنی فیس بک اور ٹوئیٹر ایجاد کر لو۔ اپنا واٹس ایپ گروپ بنا لو جہاں سب تمہارے ہم خیال ہوں اور اختلاف کرے اسے کرپٹ قرار دے کر نکال دو۔
دنیا میں رہنا ہے تو شئیرنگ تو کرنی ہی پڑے گی پرائیویسی کا حق گھر تک محدود ہے اور یہی دنیا بھر کا مسلمہ اصول ہے۔
حالات جس طرف جا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی جس طرح کا رویہ اور بلیک میلنگ کر رہی ہے ن لیگ کے ساتھ تو بات نئے اتحاد کی جانب جا سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے بغیر بھی دو تہائی ممکن ہے بہت سے پی ٹی آئی کے لوگ اس کے منتظر ہیں، مولانا فضل الرحمان کو بھی ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔
آزاد کشمیر میں فسادی ایکشن کمیٹی کو دلائل سے دانیال عزیز نے پچھاڑا ھے باقی جس جماعت کی حکومت ھے آزاد کشمیر میں وہ پیپلزپارٹی تو چاھتی تھی فساد برپا ھو،اور کسی وفاقی حکومت کے کرتا دھرتا نے اس واضع الفاظ میں ان کی حقیقت بیان نہیں کی
اور ناظرین جب نیاز بٹنے لگی ہے تب موصوف کو یاد آیا کہ وہ ایک محب وطن کشمیری اور پاکستانی ہیں جو جذبات میں بہہ کر ہندوستان ایکشن کمیٹی کے ریاست مخالف ایجنڈے پر پاکستان کو گالیاں دے رہے تھے
کیا یہی وہ بہادر نڈر پہاڑیے ہیں جنہوں نے سینے پر “ گوگی “ کھانی تھی
پیپلز پارٹی ��اضی میں مہاجرین کی نشستوں کے ذریعے ہی اقتدار میں آتی رہی ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود، چوہدری عبدالمجید، فیصل راٹھور اور ان کے والد ممتاز راٹھور بھی مہاجرین کی نشستوں کے ووٹوں سے منتخب ہوئے تھے۔ سنیے آذاد کشمیر مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر کی گفتگو
اللہ کا شکر ہے کہ پنجاب میں تعلیم کے نظام کی تباہی سکولوں کی فروخت کا معاملہ اب قومی اسمبلی میں بھی پہنچ چکا ہے
محمد الیاس چو��دری گجرات سے ایم این اے ہیں وہ اسمبلی کے فلور پر بتا رہے ہیں کہ ان کے گاؤں میں سرکاری سکول میں 98 بچیاں تھی اسے ٹھیکدار کو دے دیا اب 26 بچیاں ہیں جس دن انسپیکشن ہوتی پرائویٹ سکول سے بچے لے آتے ہیں دس دس ہزار پر ٹیچر پڑھا رہے ہیں
آپ سب پنجاب کی تعلیم کی بربادی پر آواز اٹھاتے رہیں یہ بہت بڑا مسلہ ہے نسلوں کی بقا کا معاملہ ہے