نلتر جھی�� پنجاب میں ڈوبنے والے بچے کی ویڈیو ہے۔گھر والوں نے رونا دھونا شروع کر دیا تھا۔ایسے میں اللہ کے حکم سے موت سے بچانے والی پنجاب کی ایک سیّاح لیڈی ڈاکٹر اور انکے شوہر نے اس بچے کو طبی امداد بہم پہنچا کر جان بچائی۔
خراج تحسین کا حق دار ہے یہ جوڑا۔
جیو انسانیت کی خدمت کیساتھ
2015میں لگنے والے پاور پلانٹس جن کے بارے میں کہا گیا تھا یہ گیم چینجر ہیں نے پاکستان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اس پاورسیکٹر نے ہماری قومی سلامتی کو ہاتھ ڈالا ہے دو وفاقی وزیر جنہوں نے یہ پلانٹ لگائے وہ اس کےذمہ دار ہیں ! ارشد عباسی ۔۔
@KhawajaMAsif یہ بھی سن لیں ذرا ۔۔
"مجھے یاد ہے ایک دفعہ الیکشن کمپین میں نواز شریف صاحب نے کہا تھا کہ 'ترقی دیکھنی ہے تو ل��ہور جا کر دیکھیں، شہباز شریف نے کتنی ترقی کرا دی ہے'۔ یہ بات وہ راجن پور میں کھڑے ہو کر راجن پور کے لوگوں کو کہہ رہے تھے۔ راجن پور کے لوگوں کو داد ��ینی چاہیے کہ انہوں نے نعرے مار مار کر گلا بٹھا دیا، واہ واہ کی، خوب داد دی، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ راجن پور کی ترقی کی بھی کوئی بات کر لیں۔ ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ، خانیوال، لودھراں، رحیم یار خان، بہاول نگر اور باقی جتنے اضلاع ہیں، ان کی بات نہیں کرنی۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ سارا پیسہ آپ نے وہاں لگا دیا۔ پورے پنجاب سے لوگ، کھوتے ریڑھی پر بیٹھ کر یا میری طرح کسی نہ کسی ذریعے سے، لاہور پہنچ گئے۔ اب آبادی کا بم وہاں پھٹ چکا ہے اور اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں"۔رؤف کلاسرا
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
پاکستانی 75 فیصد زیادہ بجلی کا بل ادا کر رہے ہیں۔ یعنی اگر آپ کا بل 10 ہزار روپے آیا ہے تو اصل میں وہ 2,500 روپے بنتا ہے، اور یہ بات آج وفاقی وزیر نے خود تسلیم کی ہے۔ عمران ریاض خان
#pakistan@ImranRiazKhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
امریکیوں نے سافٹ ڈرنکس بنا کر کھربوں ڈالر کمائے اور کماتے جارہے ہیں۔ ساری دنیا سے دولت سمٹ کر امریکہ کے برانڈز کو جاتی ہے۔ ان ڈرنکس سے ہونے والی شوگر کے مرض کے علاج کیلیے امریکی کمپنیوں نے دوائیں بناکر مزید کھربوں ڈالر کمائے اور کما رہی ہیں۔ عدنان عادل
@adnanaadil
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
اسے کہتے ہیں ایمان اور یقین کی طاقت
پاکستانی اداکار سہیل سمیر کہتے ہیں
"میری بیٹی صرف 6، 7 ماہ کی تھی جب وہ بہت زیادہ بیمار ہو گئی۔ میری بیگم اسے بائیک پر اسپتال لے کر جا رہی تھیں۔ راستے میں میری بیگم نے مجھے بتایا: 'جب میں نے بائیک روکی تو دیکھا کہ بیٹی سانس نہیں لے رہی تھی۔' یہ سنتے ہی میں تیزی سے اسپتال کی طرف بھاگا۔
سارا راستہ میں اللہ سے رو رو کر دعا کرتا رہا: 'یا اللہ! میری بچی کو زندگی دے دے۔ اگر تُو نے اسے زندگی دی تو میں اسے حافظہ بناؤں گا، پوری کوشش کروں گا کہ اسے تیری راہ پر چلاؤں۔'
پھر ایک معجزہ ہوا۔ جیسے ہی ہم اسپتال کی پارکنگ میں پہنچے، میری بیٹی کو ہوش آ گیا۔ میں نے فوراً اللہ کا شکر ادا کیا۔ مگر لوگوں کو یقین نہیں آ رہا تھا۔
میں نے اپنی بیگم سے کہا: 'چلو واپس گھر چلتے ہیں۔' مگر میری بیوی نے کہا: 'تم پاگل ہو گئے ہو؟ اس کو ڈاکٹر کو تو چیک کروا لیں۔'
میں نے جواب دیا: 'جہاں پر میری بات ہوئی ہے نہ، وہ زندگی اللہ کی تھی۔ اور اللہ نے دوبارہ زندگی دی ہے۔ اب اس کو کچھ نہیں ہو گا۔ آپ لوگ یقین کریں۔'
اس کے بعد میری بیٹی کو کچھ نہیں ہوا۔ میں نے اپنا وعدہ نبھایا اور اسے حافظہ بھی بنایا۔
ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے۔🤲
🚨 سوال : اگر چئیرمین بیرسٹر گوہر کو تمام اختیارات دے دئیے جائیں تو وہ عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی راستہ نکال سکتے ہیں؟
کوئی بھی راستہ نہیں نکال سکتا یہاں را��تہ نکالنے والے خود بھی پھنس گئے ہیں ، خان کو نکالتے ہیں تو پھر پھنستے ہیں، نہیں نکالتے تو پھر پھنستے ہیں، میں خان کی ضمانت دینے کے لیے تیار یوں وہ کسی کو کچھ نہیں کہے گا، وہ کوئی وحشی جنونی نہیں بنے گا ، لیکن ان کو عمران خان کا خوف ہے، اعتزاز احسن
26 ویں آئینی ترمیم پر تو بہت خوش ہو کر بولا تھا کہ بروٹ میجوریٹی سے ترمیم پاس کروائی ہے،
تو بیٹا 28 ویں ترمیم پر کیوں جان نکل رہی ہے؟
اب بھی آؤ اب تو فکر لاحق ہو گئی ہے کہ پیسہ بے نظیر انکم پروگرام سے کٹے گا، یا این ایف سی میں سے کٹے گا، سائرہ بانو
سہیل آفریدی نے ویڈیو چلوا دی
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار اپنی گن میں بلٹ ڈال رہا ہے ، سہیل آفریدی
میں نے راستہ کھولنے کی بات کی، راستہ ہم نے بند نہیں کیا ،انہوں نے دس گیارہ گھنٹے پورے پاکستان سے آنے والے لوگوں کو خوار کیا ، سہیل آفریدی
جو لوگ اپنا اصل مینڈیٹ واپس مانگتے ہیں، انہیں منتخب سیٹوں سے ہٹا کر پچاس پچاس سال کی جیل سنا دی جاتی ہے۔ جو لوگ جمہوریت، انصاف اور عدالتوں کو بچانے کی بات کرتے ہیں، انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن ہم یہ الٹی گنگا بہنے نہیں دیں گے۔ محمود خان اچکزئی
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@MKAchakzaiPKMAP
جب روکنے کا وقت آیا تو اسد قیصر نے کہا بعد میں یہ ذمانہ داری مجھ پر ائے گی تب میں نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا اور ملکی خودمختاری کی خاطر رولنگ دی۔
@QasimKhanSuri
کچھ لوگ وردی کے بغیر بھی ہیرو ہوتے ہیں — اور ریاض میں دو پاکستانیوں نے یہ ثابت کر دکھایا۔
ریاض کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی — شعلے بلند ہوئے، دھواں پھیلا اور عمارت میں موجود سعودی خاندان کے بچے اندر پھنس گئے۔ جب لوگ پیچھے ہٹ رہے تھے، انہی لمحوں میں دو پاکستانیوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر جلتی عمارت میں قدم رکھ دیا اور ان بچوں کو باحفاظت باہر نکال لیا۔
اس بے مثال بہادری پر سعودی سول ڈیفنس نے دونوں کو خصوصی اعزاز سے نوازا۔ مقامی شہریوں نے سوشل میڈیا پر مہم چلا کر ان کے لیے مالی عطیات جمع کیے اور انہیں دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
آج پوری دنیا میں یہ دو نام پاکستان کا فخر بن گئے ہیں۔
یہ ہیں اصلی ہیرو — جن کے لیے انسانیت سب سے پہلے تھی۔
#سائفر_ایک_حقیقت ثابت ہونے کے بعد ��ن تمام کرداروں پر آرٹیکل 6 کی کاروائی ہونی چائیے جنہوں نے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف سازش کی- پاکستان ایک عظیم ملک ہے، اس میں رہنے والے شیری عظیم ہیں، ان کے منتخب لیڈر کے خلاف سازش کی اور پھر کھلے عام مینڈیٹ چرایا۔ سب کا ٹرائل ہونا چاہیے!
بھڑکیں مارنا آسان ہے، مگر سچ جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہ ہے موسیٰ گیلانی کی “جیت” کی حقیقت۔ راتوں رات ان اسٹیشنز کے نتائج تبدیل کیے گئے۔ 12,515 اضافی ووٹ مسترد کیے گئے تاکہ چھوٹے گیلانی صاحب کی شکست کو جیت میں تبدیل کیا جا سکے۔
یہ جناب عمران خان سے الیکشن لڑیں گے؟ پہلے مجھے تو ہرا کر دکھائیں: مہر بانو قریشی
@MeherBanoQ
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا ��کار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک ��نتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو رو��گار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح ��ی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
مومنہ اقبال کو ہراس کرنے والے ن لیگی ای پی سے ثاقب چدھڑ عمران خان کے نام پر ووٹ لے کر ن لیگ میں شامل ہو گئے۔ یہ گردہ اسکینڈل میں بھی ملوث رہے، یہ اپنے حلقے کے غریب لوگوں کا گردہ سستے بھاؤ میں خرید کو کروڑوں میں بیچتے تھے، شہباز گل