فون کے یہ 6 خفیہ کوڈ جان لیں اور اپنا موبائل خود ہی ٹھیک کریں آج کل ہر کسی کے پاس موبائل فون موجود ہوتا ہے مگر بہت کم افراد کو علم ہے کہ چند مخصوص بٹن دبانے سے وہ اپنے موبائل کے چھپے ہوئے فنکشنز تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
اس حوالے سے آئی او ایس اور اینڈرائیڈ میں مختلف کوڈز ہوتے ہیں، کچھ تو دونوں میں ایک ہی طرح کام کرتے ہیں.جبکہ کچھ مخصوص ماڈلز کے لیے ہوتے ہیں۔یہاں آپ ایسے ہی خفیہ کوڈز جانسکتے ہیں جو آپ کے فون کو زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
*#21
یہ کوڈ آپ کو یہ جاننے میں مدد دے گا کہ کہیں آپکی فون کالز، میسجز اور فون کا دیگر ڈیٹا کسی اور ڈیوائس پر منتقل تو نہیں ہورہا اور اگر ایسا ہو رہا ہے تو آپ جان پائیں گے کہ آپکے فون کی کونسی سروس کی معلومات یا کالز وغیرہ کہیں اور بھی جا رہی ہیں، اپنے فون سے اس کوڈ کو ڈائل کریں Divert ہونے والی تمام ان��ارمیشن آپ کے سامنے آجائے گی۔
*#62#
یہ کوڈ آپ کو بتائے گا کہ جب آپ کا فون سگنلز سے باہر ہو اور اُس پر کوئی کال یا میسج وغیرہ آئے تو وہ کہیں اور فارورڈ تو نہیں ہو رہا ، ہیکر آپکا فون باریک بینی سے اپنے قبضے میں کرتے ہیں اس لیے آپ کو اپنا چیک اپ بھی باریک بینی سے کرنا ہو گا۔
*#61#
اس کوڈ کو ڈائل کرنے سے آپ جان پائیں گے کہ جب آپ کوئی کال اٹینڈ نہیں کرتے تو ایسی صُورت میں وہ کال وغیرہ کسی اور نمبر پر فارورڈ تو نہیں ہو رہی۔
*#002#
یہ یونیورسل کوڈ ہے جو آپ کے فون پر لگی ہُوئی تمام Redirections کو ختم کر دے گا، اگر آپ نے اپنے فون کی کالز یا مسیجزیا کوئی اور ڈیٹا وغیرہ Redirect نہیں کیا ہُوا تو اس کوڈ کو ملا کر آپ اپنے دل کی اچھی طرح تسلی کر سکتے ہیں کہ آپ کی معلومات محفوظ ہیں۔
*#06#
اس کوڈ کی مدد سے آپ اپنے فون کا آئی ایم ای آئی نمبر جان سکتے ہیں یہ نمبر آپ کے فون کا مخصوص نمبر ہے جو اگر فون گُم جانے یا چوری ہو جانے کی صُورت میں آپ کے بہت کام آسکتا ہے، آپ اس نمبر کی مدد سے اپنا فون سیٹ بلاک کروا سکتے ہیں اور اگر کوئی اور آپ کے فون میں دُوسری سم ڈال کر استعمال کر رہا ہے تب بھی اس نمبر کی مدد سے پولیس جان جائے گی کہ آپ کا فون کہاں ہے
*#*#4636#*#*
موبائل فونز کے خاص کوڈ ہیکرز کو آپ کی لوکیشن بتا سکتے ہیں جس سے وہ آپ کا کہیں بھی تعا��ب کر سکتے ہیں اور ان ہیکرز کے بارے میں جاننے کے لیے یہ کوڈ آپ کی مدد کر سکتا ہے
یاسر پیرزادہ زادہ کا یہ کالم نصاب کا حصہ ہونا چاھئیے ۔
.
💥💥
کیا امام حسینؓ کے پاس کوئی دوسرا راستہ تھا؟
.
ڈاکٹر علی شریعتی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ کربلا کو سمجھنا ہو تو پہلے یہ سمجھو کہ امام حسینؓ کے پاس کربلا جانے کے علاوہ اور کیا راستہ تھا؟
.
جب یزید نے بیعت کا مطالبہ کیا تو امام حسینؓ کے سامنے سب سے ’آسان اور دانشمندانہ‘ راستہ یہ تھا کہ بیعت کر لیں۔ اگر اُس زمانے میں آئی وی لیگ کا سند یافتہ کوئی کنسلٹنٹ ہوتا تو وہ بھی امام کو یہی مشورہ دیتا کہ ’زمینی حقائق‘ کا ادراک کریں اور یزید کی کابینہ میں شامل ہو جائیں۔ صحابہ کرام کے گھرانوں میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے یہی کیا اور اسے ’مصلحت‘ کا نام دیا۔ عبداللہ بن عمرؓ نے بیعت کی۔ عبداللہ بن عباسؓ نے امام حسینؓ کو سمجھایا کہ کوفے مت جاؤ۔ یہ دونوں اصحاب نہایت سمجھ دار تھے، تجربہ کار تھے اور پرہیزگار بھی تھے۔ لیکن امام حسینؓ نے وہ راستہ چنا جو محفوظ نہیں تھا۔
.
یہاں شریعتی کا اصل سوال پھن پھیلا کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ جب انسان کے پاس ’محفوظ راستہ‘ موجود ہو، باعزت بھی ہو، قابلِ قبول بھی ہو اور پھر بھی وہ اسے ٹھکرائے تو اس کا مطلب کیا ہے؟
.
شریعتی کہتے ہیں کہ یہی لمحہ کربلا کا اصل لمحہ ہے، میدانِ جنگ نہیں، یہ لمحہ، جب امام حسینؓ نے مدینے میں فیصلہ کیا کہ بیعت نہیں کریں گے، اُس دن کربلا شروع ہو گئی تھی۔
.
لیکن بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔ امام حسینؓ کے سامنے بیعت کے علاوہ اور بھی کئی راستے تھے۔ ابنِ عباسؓ نے مشورہ دیا کہ یمن چلے جائیں، گوشہ نشینی اختیار کریں، وقت گزاریں، جب حالات بدلیں گے، پھر دیکھا جائے گا۔ یہ بھی ایک معقول راستہ تھا۔ حضرت علیؓ نے کئی برس تک یہی حکمت عملی اپنائی تھی، صبر، خاموشی اور انتظار کی سٹریٹیجی۔ مگر امام حسینؓ نے یہ راستہ بھی نہیں چنا۔
.
تیسرا راستہ تھا کہ کوفے کی بجائے مکے میں ہی رہیں، حرم کی پناہ میں، لیکن جب خبر ملی کہ یزید نے احرام باندھ کر حاجیوں کے روپ میں قاتل بھیجے ہیں تاکہ مکے ہی میں کام تمام کر دیں تو امام حسینؓ نے مکہ بھی چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں حرم کی بے حرمتی نہیں ہونے دوں گا، میری موت کسی اور جگہ ہو گی، یعنی اپنی حفاظت کے لیے حرم کو ڈھال نہیں بنایا۔ جب عبداللہ بن زبیر نے امام سے مکہ میں ہی رکنے کی خواہش ظاہر کی، تو امام نے فرمایا: ”بخدا! اگر میں مکہ سے ایک بالشت باہر قتل کیا جاؤں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں مکہ کے اندر قتل کیا جاؤں۔ خدا کی قسم! اگر میں مٹی کے کسی بِل میں بھی چھپ جاؤں، تب بھی یہ لوگ مجھے نکال لائیں گے تاکہ اپنی حاجت (قتل) پوری کر سکیں۔“
.
چوتھا آپشن حُرّ نے دیا تھا۔ لیکن اُس وقت تک کوفے سے مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر آ چکی تھی اور امام حسینؓ جانتے تھے کہ واپسی کا مطلب کیا ہوگا یعنی یزید کے دربار میں حاضری۔ سو انہوں نے حُرّ کو بھی انکار کر دیا۔
.
پانچواں راستہ کربلا میں ملا جب عمر بن سعد 3 محرم الحرام کو چار ہزار کے لشکر کے ساتھ کربلا پہنچا تھا۔ وہ ذاتی طور پر نواسہ رسولؐ سے جنگ کرنے سے کتراتا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ معاملہ صلح سے حل ہو جائے۔ تاریخِ طبری کے مطابق، ابن سعد نے اپنے خطوط اور پیغامات کے بعد امام حسینؓ سے براہِ راست بات چیت کی خواہش ظاہر کی چنانچہ دونوں لشکروں کے درمیان ایک غی�� جانبدار جگہ پر رات کے وقت ملاقاتیں طے پائیں۔ یہ ملاقاتیں ایک یا دو نہیں، بلکہ تین سے چار مرتبہ ہوئیں، دونوں اپنے چند گھڑ سواروں کے ساتھ خیموں سے دور آتے، اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ دیتے اور تنہائی میں طویل گفتگو کرتے۔ امام حسینؑ کے ساتھ ان کے بھائی عباس بن علی اور بیٹے علی اکبر ہوتے، جبکہ ابن سعد کے ساتھ اس کا بیٹا حفص اور ایک غلام ہوتا تھا۔ انہی ملاقاتوں میں اُن مشہور زمانہ تین شرائط پر گفتگو ہوئی جن میں امام حسینؓ نے پیشکش کی کہ یا تو انہوں واپس مدینے جانے دیا جائے یا پھر کسی سرحدی علاقے میں بھیج دیا جائے جہاں وہ عام مسلمان کی طرح رہ سکیں۔ تیسری شرط، کہ انہیں یزید کے پاس بھیج دیا جائے تاکہ وہ اُس سے مل کر معاملات طے کر سکیں، کے بارے میں مورخین کا کہنا ہے کہ امام نے یہ بات کبھی نہیں کی۔ دراصل یہاں بھی امام حسینؓ کے پاس یزید کی بیعت کا آپشن موجود تھا، ابن سعد کا یہی مقص�� تھا کہ امام کو راضی کرلے ، مگر آپ نے یہ راستہ بھی نہیں چنا۔
.
علی شریعتی کہتے ہیں کہ امام حسینؓ نے اپنی شہادت سے پہلے تاریخ کو پڑھ لیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے بیعت کر لی تو یزید کی حکومت کو ایک ایسی مذہبی سند مل جائے گی جسے صدیوں تک استعمال کیا جائے گا کہ ”رسول اللہ ﷺ کے نواسے نے بیعت کی“۔ یہ جملہ تاریخ میں لکھا جاتا اور پھر ہر غاصب حکمران اسے اپنی ڈھال بناتا۔ امام حسینؓ ک�� خاموشی پوری امت کی خاموشی بن جاتی۔
👇
فرعون ٹیکنالوجی اور سائنس میں ہم سے بہت آگے تھے
یہ سات ہزار سال قبل سات سو کلو میٹر دور سے
ایک کروڑ پتھر مصر لائے ہر ایک پتھر 25 سے 28 سو ٹن وزنی تھا
یہ ون پیس تھا اور یہ پہاڑ سے چوڑائی میں کاٹا گیا تھا
یہ پتھر صحرا کے عین درمیان 170 میٹر کی بلندی پر لگائے گئے
قدیم مصری آرکیٹیک نے 8ہزار قبل ایسا ڈیزائن بنایا
جو ہر طرف سے بند بھی تھا
لیکن بندش کے باوجود
اندر سورج کی روشنی بھی آتی تھی
اندر کا درجہ حرارت بھی باہر کے ٹمپریچر سے کم تھا
اُن لوگوں نے8 ہزار سال قبل لاشوں کو (محفوظ) کرنے کا طریقہ بھی ایجاد کر لیا
یہ خوراک کو ہزار سال تک محفوظ رکھنے کا
طریقہ بھی جان گئے
قاہرہ کے علاقے جیزہ کے بڑے اہرام
میں 23 لاکھ بڑے پتھر ہیں
ابوالہول دنیا کا سب سے بڑا ون پیس اسٹرکچر ہے
اور
یہ لوگ جانتے تھے
شہد دنیا کی واحد خوراک ہے
جو کبھی خراب نہیں ہوتی
اہراموں میں 5 ہزار سال پرانا شہد نکلا
اور یہ مکمل طور پر استعمال کے قابل تھا
یہ لوگ کمال تھے
پر اُن میں یہ خرابی تھی کہ یہ تکبر کرتے تھے
اور اِسی لئے اُن لوگوں نے اللّٰه کو یکتا ماننے سے انکار کیا اللّٰه تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں
چنانچہ
یہ پکڑ میں آ گئے اور عبرت کا یوں نشان بنے کہ آج تک نشان عبرت ہیں
جس نے رب کیلئے جھکنا سیکھ لیا وہی علم والا ہے
کیونکہ علم کی پہچان عاجزی ہے اور جاہل کی پہچان تکبر ہے۔۔!!
فرمانِ مصطفی ﷺ ہے
جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔۔!!!
(مسلم شریف، حدیث نمبر 91)
فاطمہ ثنا کے ہاتھوں وہاب ریاض کی لائیو بے عزتی۔ وہاب ریاض بات کرتے رہ گئے، لیکن فاطمہ ثنا نے منہ اٹھا کر دیکھا تک نہیں۔
#PakistanCricket#T20WorldCup#cricket