ٹرمپ کی بلی آخر تھیلے سے باہر نکل آئی ہے۔اس نے جنگ لڑی ہی اس مقصد کیلئے تھی۔ایران سے سولہ ایئر بیس،بیالیس ہوائی جہاز تباہ کروانے اور چالیس روزہ جنگ لڑنے کے بعد بھی کسی ایک ہدف کو حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد جب بے بس ہو کر مذکرات کی طرف آیا تو جوں ہی راستہ بنتا دکھائی دیا کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح پھر ہاری ہوئی پونجی کی رٹ لگاتے ہوئے "ابراہم اکارڈ" کی قوالی شروع کر بیٹھا ہے۔قوی امید ہے کہ مسلمان ممالک اس طرف کان نہیں دھریں گے کیونکہ اسراائییل کو تسلیم کرنا ملت سے غداری ہے جبکہ "ابراہم اکارڈ" کو تسلیم کرنا درحقیقت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن سے براہ راست غداری ہے۔
یہ چال اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس تدبیر کے مشابہ ہے جو جلال الدین اکبر کو اس کے مصاحبین نے "دین اکبری" کے عنوان کے تحت پڑھائی و سکھلائی تھی اور اسی باسی کڑی میں شاہجہان کے اقتدار کے آخری دنوں میں دارا شکوہ کی صورت میں دوبارہ ابال آیا تھا۔پاکستان کے موجودہ حکمرانوں سے امید ہے کہ وہ شیخ احمد سرہندی رح اور اورنگزیب عالمگیر کے کردار کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہوئے شیطانی دماغوں کے اس لطیف وار کو اپنی دانش و حکمت اور جرات و جسارت سے ناکام بنائیں گے۔ان شاءاللہ
بلوچستان میں ہونے والے دھماکوں اور خونریز واقعات اور انسانی جانوں کے ضائع سے جو چیز سامنےآ رہی ہے وہ یہ کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر جو کامیابی حاصل ہوئی ہے نقصان پہنچانے کے لیے دشمنان ملت دشمنان ملک سرگرم عمل نظر آرہے ہیں
اقامتِ دین کی جدوجہد ایسے ہی فرض ہے جیسے نماز فرض ہے۔ آپ باطل کے ماحول میں رہ کر اگر اقامتِ دین کی جدوجہد نہیں کرتے تو آپ کی اللٰہ کے ساتھ کوئی وفاداری نہیں۔ آپ اللٰہ کے غدار ہیں، باغی ہیں۔
~ ڈاکٹر اسرار احمد
آج صدر راولپنڈی، GPO چوک پر ایک عجیب منظر دیکھا، جو ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے
میں بائیک پر کھڑا تھا کہ دو خواتین نے رکشہ بُک کیا۔ کرایہ طے ہونے لگا۔
رکشہ والے نے کہا: 250 روپے لگیں گے باجی
خواتین: نہیں بھائی، 200 سے ایک روپیہ اوپر نہیں دیں گی، بس!
کافی بحث کے بعد غریب رکشے والا 200 پر مان گیا۔ پسینہ بہا کر، محنت سے کمانے والا 50 روپے ہار گیا۔
خواتین رکشے میں بیٹھیں ہی تھیں کہ ایک بھکاری آ گیا۔ ہاتھ پھیلایا۔
اور بنا ایک لمحہ سوچے، اُن میں سے ایک خاتون نے پرس سے 100 کا نوٹ نکال کر اُسے دے دیا۔
میں یہ سب دیکھ کر بس سوچتا رہ گیا...
جس رکشے والے نے دھوپ میں جل کر آپ کو منزل تک پہنچانا تھا، اُس سے 50 روپے کے لیے جھگڑا کر لیا۔
اور جس نے صرف ہاتھ پھیلایا، اُسے 100 روپے فوراً دے دیے؟
یہ کیسی سوچ بن گئی ہے ہماری؟
محنت کی قیمت کم اور بھیک کی قیمت زیادہ کیوں ہو گئی ہے؟
کیا وہ رکشہ ڈرائیور اُس 100 روپے کا زیادہ حقدار نہیں تھا جس نے پسینہ بہانا تھا؟
کبھی کبھی لگتا ہے ہم ہمدردی غلط جگہ دکھا رہے ہیں۔ محنت کش کو اُس کا حق دو، عزت دو۔ بھیک نہیں، روزگار کو فروغ دو۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
اسامہ خان۔۔۔۔
ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ میں پاکستان کا قابل تقلید کردار پینتیس سال قبل تحریر کی گئی کتاب کی روشنی میں:
"جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب و عجم کے امتیازات کا خاتمہ کر دیا تو ایران اور اس کے توابع کی آریائی اقوام نے بہت ہی قلیل عرصہ میں اسلام قبول کر لیا۔یہ لوگ اسلام کی قوت بن گئے۔ایرانی دفاعی اور جارحانہ تزویراتی نظام اب اسلام کو ورثے میں مل گیا۔جنگ خندق اور طائف کی فتح اس نظام کو اپنانے کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔اسلام نے حکمت کو مومن کی میراث قرار دیا اور پھر اسی سر زمین سے غزالی ،رازی ،البیرونی ،ابن سینا ،رومی ،سعدی ،حافظ اور خاقانی جیسے مفکرین پیدا ہوئے،جنھوں نے عجمیت کی حکمت کو اسلام کے تابع کر دیا۔ان کا مزاج اور سوچ عرب سے مختلف تھی اور یہی فکر عجم تھی اور پھر یہ اسلام کے مزاج کے ساتھ جب شیر و شکر ہوئی تو اسلامی امہ میں ایک خاص مزاج پیدا ہو گیا۔بقول اقبال
عرب کے سوز میں ساز عجم ہے
حرم کا راز توحید امم ہے
تہی وحدت سے ہے اندیشہ غرب
کہ تہذیب فرنگی بے حرم ہے
تاریخ کے مختلف مراحل میں طاغوت شیطان بزرگ کے کارندوں نے بار ہا عرب و عجم کے تعصبات کو ہوا دیکر وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی، مگر حرم سے محبت نے ان کو یکجا رکھا اور کیے رکھے گی"
("اھل فارس کی فکری و عملی میراث اور علامہ اقبال" صفحات 6 اور 7 از پروفیسر بریگیڈیئر وحید الزمان خان)
عرب و عجم میں اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرنا اللہ کے خصوصی فضل و کرم ہونے کی گواہی ہے۔
یہ قبول دعاؤں جیسا پاکستان ہے.
قوموں کی زندگی میں دھوپ چھاؤں آتی ہے ، ہم جیسوں کوبھی یقین تھا ، چھاؤں آئے گی۔ ہم نہیں دیکھیں گے تو ہماری آئندہ نسل دیکھے گی۔ مگر ہم نے کب یہ سوچا تھا کہ وقت کا موسم یوں بدل جائے گا۔ اچانک ہی، دیکھتے ہی دیکھتے، جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے۔
یہ مذاکراتی عمل کامیاب ہوتا ہے تو کیا عجب آگے چل کر پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کر لے کہ آپ نے جہاں اتنی جنگیں رکوا دیں ، اب آپ کو مسئلہ کشمیر بھی حل کروانا چاہیے ۔ کشمیر میں انسایت سسک رہی ہے ۔ اقوام متحدہ سے کچھ ہو نہیں پا رہا۔ اب آپ ہی ہیں جو اسے حل کروا سکتے ہیں اور امن کے نوبل انعام کے تو آپ پہلے ہی سے حقدار ہیں ۔
آج کا کالم.
https://t.co/pImn85WigP
🚨 This is insane… Iran and Trump are playing ping-pong with the world’s oil supply!
Timeline that’s blowing minds right now:
- 8 AM: Trump says “Iran opened the Strait of Hormuz with no conditions!”
- 9 AM: Iran fires back “Trump is lying — we will NOT open it until the US lifts the blockade!”
- 8 PM: Trump says “The blockade will end very soon!”
- 9 PM: Iran hits back “America failed, we’re closing Hormuz again and keeping it shut!”
The entire world is watching this chaotic back-and-forth like a Netflix series 😂
20% of global oil is stuck in the middle of this drama.
Who’s winning this game? Nobody… except maybe the oil price.
The next 24 hours are going to be wild 🔥
سچ مانیں تو نوبیل پرائز برائے امن کا کوئی حقدار ہے تو وہ پاکستان ہے۔ بڑھاپے میں سبز ہلالی پرچم کو سرخرو ہوتے دیکھ لیا۔ اللہ بھلے اب عمران خان کو اوپر بلا لے۔
آپ فارغ ہوں تو را کی پاکستان بارے مختلف سٹریٹجیک پیپر نکال کر پڑھیں ان کی سوچ ان کے منصوبے دیکھیں اس کے بعد بیرون ملک سے چلنے والے پی ٹی آئئ اکاؤنٹ دیکھ لیں ان کا content analysis کر لیں آپ کو لگے گا یہ را کے سٹریٹجی روم سے لکھے گے ہیں پاکستان فوج سے پاکستان کے وجود سے اتنی نفرت صرف ان کو ہی ہے
واقعی۔۔
یہ پاکستان کی تاریخ کا
سب سے بہترین"سپہ سالار"ہے👇
اسے اللہ نے اپنی رحمت خاص سے مقرر کیا ہے۔
"قابل رحم سے قابل فخر ملک بنا دیا"
پاکستان کے دشمن اور اس کے غدار
اتنے بے بس کبھی نا دیکھے۔
یہ واقعی بہترین سپہ سالار ہے❤️
(اسد آر چوہدری)
Saudi Arabia has made a major announcement that it will not engage in any war against Iran. Saudi officials have officially informed the United States that they will not allow the use of their territory or airspace to launch attacks against Iran. This is a major turning point for the Middle East.
بھارت کا اصل چہرہ یہ ہے👇
"ہم اسرائیل کے بھائی ہیں
اور
ہم تو چاہیں گے کہ
اسرائیل۔۔۔
لبنان کے نہتے لوگوں پر 100 بم اور مارے اور غزہ کے معصوموں پر 50 بم اور برسائے"
یہ الفاظ بھارت کا ہمیشہ پیچھا کریں گے۔