گلگت بلتستان انتخابات، ایک ہزار سے زیادہ جعلی پوسٹل بیلٹ پیپرز جاری
حلقہ دیامر 2 سے پہلی ووٹ چوری سامنے آگئی، جہاں سرکاری ملازمین کی تعداد 700 ہے، لیکن 1791 پوسٹل بیلٹ پیپرز جاری کر دیے گئے.
ویڈیو : 24 نیوز
مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف، صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر، رانا ثناء اللہ سمیت دیگر رہنماء شریک
اجلاس میں آزاد کشمیر میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر تبادلہ خیال
Experience next-generation mobile connectivity with 5G- check your device compatibility, enable instantly, and explore coverage to stay ahead in the digital future.
Jazz:
https://t.co/7AQJsoNoBL
https://t.co/ctTttbA6Dr
Zong:
https://t.co/r6Ii7zNGmb
https://t.co/dHj6aNs4AP https://t.co/zfePH4wNP9
#5G #DigitalPakistan #NextGenConnectivity #FutureIsNow #5GReady #TechInnovation #StayConnected #SmartConnectivity #PakistanTech #FastInternet
پاکستانیوں ایمان مزاری کو بے نقاب کرنے میں دیر نہ کریں۔۔
جنگل کے آگ کی طرح پھیلائیں۔۔۔
فتنہ الہندوستان کی سہولت کار بے ایمان مزاری کی حقیقت سامنے آگئی۔
نیوز الرٹ 🚨🚨
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کے خط کا مکمل اردو ترجمہ
میرے پیارے شاہ صاحب،
بہ حوالہ آپ کے خط مورخہ 23 ستمبر 2024 جو ’سپریم کورٹ (عمل اور طریقِ کار) ایکٹ 2023‘ کے تحت قائم کمیٹی کی سیکریٹری‘ کے نام ہے (بالترتیب ’رجسٹرار‘، ’کمیٹی‘ اور ’ایکٹ‘)، اور جس کی نقول ’سپریم کورٹ کے تمام ججز‘ کو بھیجی گئی تھیں۔ کمیٹی کی میٹنگ میں رجسٹرار نے جسٹس ��مین الدین خان اور مجھے آپ کے خط کی کاپی فراہم کی، لیکن صحافیوں نے ہم سے پہلے ہی اسے حاصل کر لیا تھا۔
ایکٹ نے درج ��یل کام کیے:
•آئینی تشریح کے متقاضی مقدمات کا فیصلہ کرنے والا بنچ کم از کم 5 ججز پر مشتمل ہوگا؛
•آئین کی دفعہ 184(3) کے تحت سپریم کورٹ کے براہ راست فیصلے کے خلاف اپیل ہوسکے گی اور ایک بڑا بینچ اس کی سماعت کرے گا؛
•جس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دی جائے اس میں وکیل کی تبدیلی کی اجازت؛
•فوری نوعیت کے مقدمات کو 14 دن کے اندر مقرر کرنا؛ اور
•بینچز کی تشکیل ایک تین رکنی کمیٹی کے ذریعے ہو گی جس کی سربراہی چیف جسٹس کریں گے۔
جسٹس منیب اختر، جن کی آپ غیر متزلزل حمایت کرتے ہیں، نے اس ایکٹ کی مخالفت کی۔
میرے فیصلے کی تعریف کرنے اور ’راجا عامر خان بمقابلہ وفاق پاکستان‘ کی�� میں میرا حوالہ دینے کے لیے آپ کا شکریہ۔ اس کا سہرا میرے تمام معزز ساتھیوں (جن میں آپ بھی شامل ہیں) کو جا��ا ہے جنھوں نے اس سے اتفاق کیا۔ اس فیصلے نے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار کو تسلیم کیا اور ساتھ ہی بینچز مقرر کرنے میں چیف جسٹس آف پاکستان کی من مانی کو ختم کیا۔ سماعت کے دوران جسٹس اختر کی طرف سے چیف جسٹس کے مکمل اختیارات کے زبردست دفاع کا بھی ذکر ہونا چاہیے، لیکن ایسا کرتے ہوئے میں یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ انھوں نے یا دوسرے معزز ساتھیوں نے (جو اقلیت میں تھے) ایسا اس لیے کیا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان بننے کی راہ پر تھے، اور نہ ہی میں جناب مظاہر علی اکبر نقوی پر سوال اٹھاتا ہوں، جنھیں سپریم جوڈیشل کونسل نے بدعنوانی کا مرتکب قرار دے کر ہٹا دیا تھا۔
سپریم کورٹ رولز 1980ء (’رولز‘) کے تحت چیف جسٹس کو بینچز کی تشکیل کا اختیار تھا، تاہم اس اختیار کا بعض افراد نے، خاص طور پر آئینی تشریحات کے معاملات میں، جن کے دور رس اثرات تھے، غلط استعمال کیا۔ میرے معزز پیشروؤں کی جانب سے بینچز کی ترتیب اور ہر بار جسٹس ا��جاز الاحسن اور جسٹس اختر کو ان میں شامل کرنا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا ان کی دانشمندی ان کے سینئرز سے برتر تھی۔
ایکٹ کے قانون بننے سے پہلے (جب یہ ایک بل کی شکل میں تھا) چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے، جسٹس اختر اور دیگر معزز ججوں کی مدد سے، 13 اپریل 2023 کو چیف جسٹس کے اختیارات کو محفوظ رکھنے کے لیے مداخلت کی، اور ایسا کرنے کے بعد اس کیس کا فیصلہ نہیں کیا؛ یہ پہلا کیس تھا جس کا میں نے چیف جسٹس کے طور پر فیصلہ کیا۔
آپ نے صحیح یاد کیا کہ میں ’قانون کے تحت متعارف کردہ اجتماعیت اور شفافیت پر مضبوطی سے یقین رکھتا تھا، اسی لیے بطور سینئر جج، انھوں نے ]میں نے[ کسی بھی بینچ میں بیٹھنے سے خود کو الگ رکھا اور راجہ عامر کیس کے فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے کئی مہینوں تک چیمبر کے کام کا انتخاب کیا۔۔۔ اس ایکٹ کی اہمیت۔۔۔ اس طرح اجاگر ہوئی کہ یہ پہلا اور واحد کیس تھا جسے انھوں نے ]میں نے[ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سنا۔‘ آپ میری ’اجتماعیت پسندی‘ ک�� توثیق کرتے ہیں، لیکن آپ کی جانب سے آپ میرے چیمبر تک چند قدم چل کر اپنے خیالات شیئر نہیں کر سکے اور اس کے بجائے الٹی میٹم دیے۔
پریشان کن بات یہ ہے کہ آپ نے آرڈیننس نمبر VIII بابت 2024 پر، جسے آپ ’ترمیمی آرڈیننس‘ کے نام سے یاد کر رہے ہیں، رائے دی ہے۔ آپ سے عمر میں بڑے اور قانون میں 42 سالہ تجربے کا حامل ہونے کے ناطے مجھے یہ مشورہ دینے کی اجازت دیجیے کہ ترمیمی آرڈیننس پر رائے دینا، جیسا کہ آپ نے کیا، اور اپنے خط کو ساتھی ججز میں تقسیم کرنا جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے فیصلے کے لیے پیش ہو سکتا ہے، مناسب نہیں تھا۔
ترمیمی آرڈیننس نے تین رکنی کمیٹی برقرار رکھی ہے؛ چیف جسٹس اور سب سے سینئر جج کمیٹی کے رکن رہیں گے، تاہم قانون اب چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کے ججز میں سے کسی تیسرے رکن کو نامزد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
شاہ صاحب! آپ نے میری جانب سے کمیٹی کے تیسرے رکن کو تبدیل کرنے پر سوال اٹھایا اور مجھے الٹی میٹم دیا کہ جب تک جسٹس اختر کو دوبارہ کمیٹی میں شامل نہیں کیا جاتا، آپ اس کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کریں گے۔ احترام کے ساتھ عرض ہے کہ آپ کی یہ درخواست قانون کے منافی ہے۔
کمیٹی کے تیسرے رکن کی میری جانب سے تبدیلی پر قانونی طور پر آپ سوال نہیں اٹھا سکتے۔
۔