بسم الله الرحمٰن الرحيم
*بہترین عمل جس کے ساتھ تم رمضان کا اختتام کرو وہ استغفار ہے!*حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
استغفار تمام نیک اعمال کی مہر ہے؛
اسی پر نماز، حج اور قیام اللیل کا خاتمہ کیا جاتا ہے،
اور مجالس کا اختتام بھی،
پھر اگر یہ(مجلس) ذکر کی ہو تو وہ اس پر مہر لگانے والا ہے اور اگر لغو ہو تو اس کا کفارہ بن جاتا ہے
اسی طرح لازم ہے کہ رمضان کے روزوں کا خاتمہ بھی استغفار کے ساتھ کیا جائے
عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ نے اپنے شہروں کی طرف یہ حکم روانہ کیا کہ
*وہ رمضان کا اختتام استغفار سے کریں اور صدقہ کا صدقہ فطر سے*
کیونکہ صدقہ فطر روزے دار کے لیے لغو اور بےہودہ گوئی سے طہارت کا ذریعہ ہے .استغفار اصلاح ��ر دے گا جو رمضان میں غلط ہوچکا لغو اور ��فث کی صورت میں،
اس لیے بعض علماء متقدمین کہتے ہیں
*”بے شک صدقہ فطر روزے دار کے لیے ایسے ہی ہے جیسے نماز میں سجدہ سہو۔