يارب لا أدري في أي ساعة تقبض روحي وفي أيِّ يومٍ أُغادر هذه الدنيا وحدي، اللهم ارحمني إذا صرت إلى ما صار إليه الأموات، يارب ارحمني إذا نُسي اسمي وبلي جسدي، وهُجر قبري ولم يزرني زائر ولم يذكرني ذاكر، اللهمَّ يارب ثبتني عند السؤال واغفر جميع ذنوبي وأكرم نزلي يارب وادخلني جنَّتك.
راحت کدۂ قبر
ارشاد فرمایا کہ لوگ عام طور سے یہ سمجھتے ہیں کہ جب انسان مرجاتا ہے اور قبر میں اس کو ڈال آتے ہیں تو وہاں وحشت کدہ میں تنہا پڑا رہتا ہے اور ایسی حیات مثل عدمِ حیات کے ہے۔ صاحبو! یہ نہیں ہے بلکہ مسلمان کے لیے وہاں بڑی راحت ہے۔
تو پھر عدالتوں میں داخلہ بھی وی آئی پی رویہ بھی وی آئی پی اور خاموشی بھی وی آئی پی۔
سوال یہ ہے کہ اگر قانون واقعی برابر ہے تو پھر کچھ ملزم عدالتوں میں ایسے کیوں داخل ہوتے ہیں جیسے کسی مارننگ شو کے مہمان ہوں۔؟
*🚨وزیراعظم شہباز شریف نے حاتم طائی کی قبر کو لات ماردی🙏*
*🔥وفاقی حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 5 ،5 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان، نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا، نوٹیفکیشن جاری*
جمعیت علماء اسلام پاکستان میں قومی یکجہتی کی علمبردار جماعت ہے۔ ہم مسلمان بھی ہیں، ہم ایک عقیدہ بھی رکھتے ہیں، مگر تعصب اور نفرت کے قائل نہیں ہیں۔ ہم اختلاف بھی شائستگی سے کرتے ہیں۔ ہم نفرتوں کی سیاست اٹھاتے نہیں ہے،نفرتوں کو دفن کرتے ہیں،ہم پاکستان میں شدت کی سیاست نہیں کررہے،ہم اصولوں اور محبت کی سیاست کرتے ہیں۔
پاکستان ایک آئین اور قانون رکھتا ہے۔ کتنی مرتبہ ہم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر اس آئین پر حلف اٹھایا ہے۔ہم اس کے وفادار ہیں۔
لیکن جو لوگ ہمارے ملک کے محافظ ہیں،ہمارے سرحدات کے محافظ ہیں، ہمارے سیاست کے محافظ ہیں،جو ہمارے ملک کی معیشت کے محافظ ہیں اگر وہی آئین کو سبوتاژ کرتے ہیں، اگر وہی قانون کو موم کی ناک بنا دیں، تو پھر ملک کو تباہی کے کنارے پر پہنچانے کے ذمہ دار بھی اپ ہیں۔
میں دفاعی اداروں کا احترام کرتا ہوں، میں نظم و نسق چلانے والے اداروں کا احترام کرتا ہوں،میں ملک میں اصولی سیاست کا احترام کرتا ہو لیکن اپنی حدود سے تجاوز کریں گے تو پھر سامنے بھی ہم کھڑے ہوں گے، مقابلہ بھی ہم کریں گے۔ اور تم مجرموں کے ساتھ مقابلہ کررہے ہو اس لئے کوئی مجرم تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
جمعیت علماء اسلام ایک پاک، صاف، شفاف، اور عقیدہ پر پختہ پُرعزم جماعت ہے۔ اگر اسکو تم نے مدمقابل لانے کی کوشش کی تو اپنی ہلاکت کا اعلان کرو گے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا کراچی میں خطاب
کہا جاتا ہے کہ:شیطان کو سب سےزیادہ وہ بندہ تھکاتا ہے جو قرآن کی طرف متوجہ ہو!
امام ابن مفلحؒ فرماتے ہیں:
"رہا قرآن، تو وہ سب سے بڑی شفا اور بہترین دوا ہے۔ ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے سوال کرتےہیں کہ وہ ہمیں اپنے فضل و رحمت سےقرآن والوں میں شامل فرمائے۔
[الآداب الشرعية: 3/39]
ایک زمانہ تھا خان عبدالولی خان سے کسی نے پوچھا کہ ملک کدھر جا رہا ہے اس نے کہا ڈرائیور کو پتہ نہیں ہے ہم تو سواری ہے میرا خیال ہے ہمارے ڈرائیور کو بھی پتہ نہیں ہے۔
#خون_سستا_پیٹرول_مہنگا
اسلام آباد:قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے اہم خطاب
نوٹ: قومی اسمبلی کی میڈیا مینجمنٹ نے مولانا صاحب کے خطاب کے دوران متعدد مقامات پر آواز غائب کرکے اسے سینسر کرنے کی مذموم کوشش کی ۔
جب سرکاری میڈیا نے مولانا صاحب کی آواز بند کر کے نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تو ایک خاتون نے اپنے موبائل سے ویڈیو بنانا شروع کر دی، یہاں تک کہ مولانا صاحب کی آواز ہر طرف پہنچ گئی۔
ایسی بہادر خاتون کو سلام !
#خون_سستا_پیٹرول_مہنگا
مجھے احساس ہے اس بات کا کہ وہ بھی میرا خون ہے۔ چند ہفتے پہلے وانا میں آپ کے پورے قلعے کو اڑا دیا گیا، جس میں ہمارے فوجی جوان شہید ہوئے۔
کل بنوں میں ہونے والے ایک حملے نے پورے پولیس اسٹیشن کو اڑا دیا۔ جتنے بھی وہاں سپاہی تھے، وہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ اور آج تمام شہر اور علاقے کے تھانوں کی پولیس اپنے اپنے تھانوں کو چھوڑ کر پولیس لائن میں آ کر جمع ہو گئی ہے۔
جو مقامات ہمارے تحفظ کے لیے تھے، آج ان کو خود تحفظ حاصل نہیں۔ کس کے پاس جائیں؟
ہم روایتی لوگ ہیں۔ اگر میں غم کے اندھیروں میں کھڑا ہوں، اگر میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں، اور ہر طرف میرا خون بہہ رہا ہو، تو ایسے ماحول میں کم از کم میں جشن نہیں منا سکتا۔ بڑا دل ہے، ہر طرف خون بکھرا ہوا ہے، زندگیاں غیر محفوظ ہیں، اور ساتھ ساتھ جشن بھی منایا جا رہا ہے۔
اس ساری صورتحال میں ہم نے یہاں بڑے بڑے واقعات دیکھے ہیں۔ مولانا ادریس کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ میں روز مرہ کی بات کر رہا ہوں۔ پورے سال کے تعلیمی دور میں وہ ہر روز اٹھائیس سو طلبہ کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔ بیک وقت ایک مدرسے میں تیرہ سو اور دوسرے مدرسے میں پندرہ سو طلبہ پڑھتے ہیں۔ یہ ہمارے اثاثے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں شہادت کے لباس میں دفن کیا گیا۔ تو مجھے فیض کا یہ شعر یاد آیا:
کہ اپنے سر پر کفن کو ذرا ٹیڑھا رکھو
تاکہ دشمن کو یہ گمان نہ ہو کہ میں غرورِ عشق کی بانکپن کھو چکا ہوں۔
وہ زندہ ہے، تمام شہداء زندہ ہیں۔ میرے اداروں کے نوجوان اگر جا رہے ہیں تو وہ اپنا خون اپنی مٹی کے حوالے کر رہے ہیں، اپنی جان مٹی کے حوالے کر رہے ہیں۔ تو ہماری پالیسیاں کہاں ہیں؟ امن و امان نہ ہو تو کاروبار کہاں ہوگا؟
آج میرے علاقوں میں، جناب اسپیکر، توجہ سے سن لیجیے، کوئی حکومتی رٹ موجود نہیں۔ دیہاتوں میں، مسجدوں کے اندر مسلح لوگ، بیٹھکوں میں مسلح لوگ۔ عام آدمی اپنے بچے کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ کاروبار ختم ہو چکے ہیں۔ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، اور بہت سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں، لیکن قوم کو نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارے ملک میں کیا صورتحال ہے۔
میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتا ہوں، ٹانک میرا علاقہ ہے، لکی مروت میرا علاقہ ہے، بنوں میرا علاقہ ہے۔ میں ان علاقوں سے ووٹ لیتا رہا ہوں، ان علاقوں نے بار بار مجھے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔ یہ میرے آنکھوں کے سامنے کے علاقے ہیں۔
ہمارا کوئی سپاہی محفوظ نہیں، کوئی شہری محفوظ نہیں۔ ایک ہی گاؤں میں چھٹی پر آیا ہوا نوجوان صبح لے جایا گیا، صحرا میں اس کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے قتل کر دیا گیا۔ اسی گاؤں سے ظہر کے بعد دوسرے شخص کو لے جایا گیا اور مغرب سے پہلے اس کی لاش آ گئی۔ اس طرح ہماری جانیں آسان ہو گئی ہیں، اس طرح ہمارا خون سستا ہو گیا ہے۔
آپ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھائیں، لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ آپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں میرا خون کتنا سستا ہو چکا ہے۔ کبھی احساس ہے ہمیں اس بات کا؟ جب میں نہ ملک کے لیے، نہ امن و امان کے لیے، نہ شہری کی حفاظت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، نہ معیشت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، تو پھر حکومت تو نہ رہی۔
حکومت کے تو دو ہی کام ہوتے ہیں: لوگوں کی معیشت کو بہتر کرنا اور لوگوں کی جان و مال اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنا۔ نہ ہم لوگوں کو معیشت دے رہے ہیں اور نہ جان و مال کا تحفظ دے رہے ہیں۔
اس بات کا بھی نوٹس لیا جائے کہ جب بجٹ پاس ہوتا ہے اور کسی بھی اسکیم کے ٹینڈر آتے ہیں تو ٹھیکیدار کو سائٹ پر جانے سے پہلے پورے ٹینڈر کے پیسے کا دس فیصد دینا پڑتا ہے۔ یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ ہمارا دل گردہ ہے کہ ہم پھر بھی ان علاقوں میں جاتے ہیں، ان گاؤں میں جاتے ہیں اور وہاں کس ماحول میں ہوتے ہیں؟
اب تو لوگوں نے علاقوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے نوٹیبل لوگ بھی اب غمی خوشی اسلام آباد تک محدود ہو گئے ہیں۔ اور اگر کوئی عام آدمی گاڑی میں جا رہا ہو یا درس حدیث دے رہا ہو تو اسے شہید کر دیا جاتا ہے، جیسے مرغی کو بھی اتنی آسانی سے ذبح نہیں کیا جاتا۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب
اللہ کے ساتھ وہی شخص وحشت محسوس نہیں کرتا جس نے اپنے دل کو اللہ کی محبت سے آباد کر لیا، اس کے ذکر سے سکون پایا، اس سے راز و نیاز کی باتیں کرنے کا عادی ہوگیا اور اس کی خاطر دوسروں سے بے نیاز ہوگیا۔ ایسا شخص تنہائی میں بھی اللہ کا ساتھ محسوس کرتا ہے اور اکیلے رہنے پر خوش رہتا ہے۔
ابھی باپ کے شہادت کے 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے ابھی باپ کے قبر کی مٹی بھی گیلی ہے بیٹا باپ کےمشن کو جاری رکھتے ہوئے اس کے مسند کو سنبھالنے کے لیے پہونچ گئے
نُورِ خُدا ہےکُفر کی حرکت پہ خندہ زَن
پھونکوں سےیہ چراغ بجھایا نہ جائے
شیخ ادریس رح کا بیٹا انکی جگہ درس حدیث دینےپہونچ گئے
جو بات پاکستان کے باقی سیاستدان خواب میں بھی کرنے سے کتراتے ہیں، وہی بات قائد محترم کرتے ہوئے ذرّہ برابر بھی نہیں کتراتے اور ڈنکے کی چوٹ پر اپن موقف پیش کرتے ہیں..
شیخ السعدی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"جو شخص فتنوں کے دور میں اپنے ایمان کو بچانے کے لیے دور بھاگتا ہے، اللہ اسے ان فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اور جو سلامتی کا خواہش مند ہوتا ہے، اللہ اسے سلامتی عطا فرما دیتا ہے۔"
[تيسير الكريم الرحمن (صفحہ 544)]
شہادت سے گھبراتے کیوں ہو ؟ یہ تو وہ راستہ ہے جس پر حضرت امام حسینؓ سے لے کر ہر دور کے سچے لوگ چلتے آئے ہیں۔
یہی وہ قافلہ ہے جس میں مولانا حسن جان شہید، مولانا سمیع الحق شہید، ڈاکٹر عادل خان شہید، مفتی نظام الدین شامزئی شہید مولانا گل نصیب خان شہید مولانا حامد الحق شہید جیسے اکابر کی یادیں اور قربانیاں ہمیں حوصلہ دیتی ہیں۔
آج شیخ ادریس شہید بھی اسی روشن قافلے کا حصہ بن گئے ہیں۔
یہ قافلہ رکنے والا نہیں !
آؤ ہم بھی عہد کریں :
سر بکف، سر بلند، حق کے راستے پر ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔ #شہید_شیخ_ادریس_رح
حضرت شیخ دنیا سے چلے گئے ہیں اور امن کی تلاش میں بدامنی کا شکار ہو گئے ,انہوں نے پوری زندگی قوم ،ملک اور امت کو امن دینے کے لیے جدوجہد میں گزاری لیکن آج وہ خود سفاکیت اور بربریت کا شکار ہو گئے ۔
انہوں نے شہادت کا اعلیٰ مقامِ پا لیا ۔
مجھے اللہ پر اعتماد ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مجرموں ، سفاکوں اور قاتلوں کو ضرور کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
ہم حکمرانوں اور ذمہ دار اداروں سے پُرزور انداز میں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مفت کی تنخواہیں نہ لیں۔ ان کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ ہمارے شہید کے قاتلوں اور مجرموں کو تلاش کریں، انہیں منظرِ عام پر لا کر کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔
آج پورے ملک میں ہماری صوبائی جماعتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں مظاہرے کیے ہیں، لیکن میں بحیثیتِ امیر اعلان کرتا ہوں کہ آنے والے جمعہ المبارک کو، ان شاء اللہ، نمازِ جمعہ کے بعد پورے ملک میں تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز اور صوبائی ہیڈکوارٹرز پر زبردست مظاہرے کیے جائیں گے۔
میں ان شاء اللہ 14 مئی کو کراچی میں ایک بڑے جلسۂ عام میں شرکت کروں گا، اور ہم آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان اس جلسے میں کریں گے۔
ہم نے اس ملک کو بچایا، پاکستان آج اگر قائم ہے تو علماء ،جمعیت علماء کے موقف ،وفاق المدارس العربیہ اور ہمارے دینی مدارس کی وجہ سے قائم ہے، تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی وجہ سے قائم ہے۔
ہم پاکستان کے آئین، پاکستان کے قانون اور پاکستان کے پرامن نظام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئی بھی اسلحے کی سیاست نہیں کر رہا ،کوئی بھی بغاوت نہیں کر رہا۔ ہم قربانیاں دے رہے ہیں، ہماری لاشیں اٹھ رہی ہیں اسی پاداش میں۔
میں نے باجوڑ میں ایک ہی جلسے کے اندر اسی 80 جنازے اٹھائے ہیں۔ ہم نے وزیرستان کےجید علماء کرام ذمہ دار علماء کرام کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم نے قبائلی علاقوں میں اور ملک کے اندر یہ قربانیاں دی ہیں۔
ہم نے مولانا حسن جان جیسے ایک انتہائی شریف النفس اور امن کے طلبگار استاد کی قربانی دی ہے۔ ہم نے اپنے پارلیمنٹیرین مولانا معراج الدین کی وربانیہ دی ہے۔ ہم نے مولانا نور محمد، جو ہمارے پارلیمنٹ کے اندر تھے، ان کی قربانی دی ہے۔
کتنے علماء کرام ہیں، کراچی سے لے کر باجوڑ تک، جو اس ملک کے لیے شہید ہوئے ہیں، اللہ کے دین کا نام لیتے ہوئے، جو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ کیا گناہ ہے ان لوگوں کا، سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے دین کی سربلندی چاہتے تھے اور پرامن جدوجہد کر رہے تھے۔
یہ لوگ ہمیں مشتعل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جو جید علماء کرام کی شہادتیں ہیں، یہ ہمارے پُرامن راستے کو خون آلود راستے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے رنگنا نہیں چاہتے۔ ہم امن کے داعی ہیں، امن کا پرچم بلند رکھتے ہیں۔
وَكُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ
جب بھی ان بدامنی پھیلانے والوں نے جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی، اللہ نے اسے بجھا دیا۔
یہ لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کا طرزِ عمل اسرائیل اور صہیونیوں جیسا ہے۔ اگر مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، افغانستان میں، پاکستان میں، تو یہ امتِ مسلمہ کا طریقہ نہیں ہے۔
ہمیں استقامت کے ساتھ اپنے اکابر کے راستے پر چلنا ہے۔ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی محمود کو مرتد کہتے ہہیں ؟ اکابر علماء کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا عبدالحق کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ حضرت درخواستی کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا احمد علی لاہوری کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کو مرتد کہتے ہیں؟
ان کو مرتد کہنا اپنے آپ کو مرتد کہنا اور مرتد قرار دینا ہے ۔
جمعیت علماء اسلام کو مرتد کہنا علماء کرام کو مرتد کہنا دلیل ہے کہ تم قاتل اور مرتد ہو۔تمہارا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں
ہم تمہارا راستہ نہیں اپنائیں گے۔ جو تمہارے راستے پر جائے گا وہ اسلام کا مجرم ہوگا، وہ رسول اللہ ﷺ کا مجرم ہوگا، وہ اللہ کا مجرم ہوگا۔ تم ان باتوں سے ہمیں گمراہ نہیں کرسکتے ۔
ہم اس وطن سے محبت کرتے ہیں، ہم اس وطن سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں، اور ہم اپنے وطن کو اسلام ،امن کا گہوارہ اور دینِ اسلام کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔
اختلافِ رائے ہوتو مکالمہ ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے کریں لیکن یہ کون سا دین ہے کہ اختلافِ رائے پر کسی کو قتل کر دیا جائے؟
اگر کسی عمل سے پاکستان کا امیج بہتر ہوتا ہے تو ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ،ہم اس کی تعریف کریں گے، لیکن یہ جہالت ہے، اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی تعزیتی اجتماع سے خطاب