نئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا عزم ہے کہ وہ 24 گھنٹے جاگ کر کام کریں گے۔
قوم پہلے ہی 18 گھنٹے جاگ کر کام کرنے والی حکومت کے نتائج بھگت رہی ہے، قرضوں کا بوجھ ابھی اترا نہیں۔ 😏
اب 24 گھنٹے جاگنے کا اعلان سن کر بس یہی دعا ہے کہ اس بار قوم کو قرض نہیں، کچھ ریلیف ملے!
#آزادکشمیر #وزیراعظم #پاکستان
گریڈ 22 کے سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری کو 120 دن کے لیے معطل کر دیا گیا، جبکہ گریڈ 21 کے سیکرٹری ہاؤسنگ و تعمیرات کیپٹن (ر) محمد محمود کو تین ماہ کے لیے سیکرٹری صحت کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔
یہ وہ محمد محمود نہیں ہیں جو راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کے معاملے میں معطل ہوئے تھے۔؟
ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، معیشت کو سہارا دینے کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے، مگر ہمارے معزز اسپیکر صاحب ایک پودا لگانے نکلیں تو پروٹوکول دیکھ کر لگتا ہے کوئی عالمی دورہ شروع ہونے والا ہے۔
ابھی امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت مانگنے کی بات ہو رہی ہے، اور ہم اپنی تقریبات میں شاہانہ انداز ترک کرنے کو تیار نہیں۔
ذرا امریکہ اور یورپ کے پارلیمانی سربراہان کی عوامی سرگرمیوں کا انداز دیکھیں۔
قرض عوام اتارتی ہے، پروٹوکول بھی عوام ہی کے پیسوں سے ہوتا ہے۔
نومولود بچوں کی نرسری میں اگر ایمرجنسی ایگزٹ ہی موجود نہیں تو یہ کسی ایک حادثے کی بات نہیں، پورے نظام کی سنگین ناکامی ہے۔
اوپر سے بچوں کے وارڈ کا ڈیزائن ایسا، اور فائر بریگیڈ کے پاس ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب کرین تک موجود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے اصول آخر کس لیے بنائے گئے ہیں؟
ملک کے دارالحکومت کے بڑے ترین سرکاری ہسپتال میں ایسے انتظامات ناقابلِ قبول ہیں۔
اب صرف واقعے کی تحقیقات نہیں، پورے ہسپتال کی فائر سیفٹی کا آزادانہ آڈٹ ہونا چاہیے۔
آج 15 جانیں گئی ہیں، کل کسی اور خاندان کو یہ دکھ نہ دیکھنا پڑے۔
پمز کے گائنی وارڈ میں معصوم نومولود بچوں کی ہلاکت پر سب سے پہلے سوال نہیں، جواب چاہیے۔
اگر والدین کے الزامات درست ہیں کہ آگ کے وقت نرسری میں عملہ موجود نہیں تھا، دروازے بند تھے، ریسکیو تاخیر سے پہنچا اور والدین کو اپنے بچوں کی شناخت تک کے بارے میں یقین نہیں دلایا گیا، تو یہ صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
اور اگر آگ AC کے کمپریسر سے لگی تو یہ بھی بتایا جائے کہ نومولود بچوں کی نرسری میں ایسا انتظام کیوں تھا اور حفاظتی معیارات کہاں تھے؟
15 بچوں کی جان چلی گئی۔
اب شفاف تحقیقات، فرانزک/DNA تصدیق اور ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
عہدہ، سفارش یا اختیار کسی کو جواب دہی سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
یہ 15 بچے تھے، صرف اعداد و شمار نہیں۔
@CMShehbaz
آج بھی ریاست کے بڑے بڑے دماغوں کو یہ سوال بار بار سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ اربوں روپے میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا پر خرچ کرنے کے باوجود فوج اور وردی کے خلاف نفرت کم ہونے کے بجائے بڑھ کیوں رہی ہے؟
آخر اس نفرت کو پروان کس نے چڑھایا؟ پارٹی سے وابستہ کون سے صحافی اور سوشل میڈیا ایکوسسٹم اسے مسلسل ہوا دے رہے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر، یہ پورا نیٹ ورک توڑنے میں کون مکمل ناکام رہا?
سوال سیدھا ہے: اپنا کام کرنے میں ناکام کون ہوا؟
Price Control & Commodities Management
کی سلمیٰ بٹ بڑے بڑے فوڈ چین کے مگرمچھوں کو جس طرح ایکسپوز کر رہی ہیں، یہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔
یہ وہ مافیا تھا جسے ہاتھ لگانا بھی مشکل سمجھا جاتا تھا۔ ہم برسوں یہ سمجھ کر بے فکر رہے کہ بڑے فوڈ برانڈز انٹرنیشنل اسٹینڈرڈز پر پورا اترتے ہیں، مگر حقیقت سامنے آ رہی ہے۔
اب سوال صرف قیمتوں کا نہیں، معیار، ملاوٹ اور عوام کے ساتھ ہونے والے دھوکے کا بھی ہے۔
@SalmaButtPMLN@MaryamNSharif
اگر فوج کسی افسر کو بچانے کے لیے کھڑی ہو جاتی، طلبہ پر تشدد ہوتا یا معاملہ دبانے کی کوشش کی جاتی تو تنقید بالکل بنتی تھی۔
لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے؛ افسر گرفتار ہے اور اس کے خلاف فوجی کارروائی ہو رہی ہے۔ ایک غلط فیصلے نے اس کے پورے کیریئر کو داؤ پر لگا دیا۔
اب اصل مطالبہ یہی ہونا چاہیے کہ انصاف صرف فوری نہ ہو، بلکہ شفاف اور قانون کے مطابق بھی ہو۔
جس مقصد کے لیے یوتھیے فوج سے محاذ آرائی بڑھا رہے ہیں، وہی حکمتِ عملی سب سے زیادہ نقصان عمران خان کو پہنچا سکتی ہے۔
اداروں کے اندر نفرت پیدا کرنا، اشتعال انگیزی اور مسلسل ٹکراؤ کسی کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ سامنے والے کو مزید سخت پوزیشن اختیار کرنے کا جواز دیتا ہے۔
لگے رہو۔۔۔ مگر یاد رکھو، سیاست میں بعض اوقات اپنے ہی نعروں کی قیمت سب سے زیادہ اپنے قائد کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
ہم ایک منٹ بھی ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ وقت وضاحتوں، تاخیر اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کا نہیں، فوری اور واضح قانونی و سیاسی اقدام کا ہے۔
کل یہی کہا جا رہا تھا کہ Contempt فائل ہی نہیں ہو سکتی، بہن کی پریس کانفرنس بھی ہونی تھی، مگر اب حالات سب کے سامنے ہیں۔
اگر واقعی مؤقف واضح ہے اور کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا تو پھر ہر ممکن قانونی راستہ فوری اختیار ہونا چاہیے۔ عوام اور کارکنان صرف بیانات نہیں، عملی قدم دیکھنا چاہتے ہیں۔
@PTIofficial@BarristerGohar
پیٹرول پھر مہنگا، ڈیزل پھر مہنگا۔
پیٹرول میں 3 روپے 81 پیسے اور ڈیزل میں 3 روپے 59 پیسے فی لیٹر اضافہ۔
عوام کی جیب پر ایک اور وار، مگر سوال وہی ہے: آخر اس اضافے کی کوئی حد بھی ہے یا نہیں؟
آپ سب منیب فاروق کو کریڈٹ دیجیے۔
جس بات پر اُس وقت سب نے اُن کا مذاق اڑایا، آج وہی باتیں ایک ایک کرکے حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہیں۔
کبھی کبھی سچ بولنے والا وقت سے آگے ہوتا ہے، اس لیے اُس وقت سمجھ نہیں آتا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب سخت سکیورٹی میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے مکمل طبی معائنہ کیا اور انہیں صحت مند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی تمام مراحل میں موجود رہیں۔ معائنہ مکمل ہونے کے بعد صبح تقریباً 5 بجے انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا
ذرا حساب تو لگائیں!
دو دن گزر گئے، مگر نہ علیمہ خان کی طرف سے کوئی دو ٹوک بیان آیا، نہ نورین نیازی نے کوئی وضاحت دی، اور نہ ہی عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے وہ متوقع پیغام سامنے آیا جس میں ’’ڈٹ جانے‘‘ کا اعلان ہوتا۔
اتنی بڑی خبر، اتنا بڑا دعویٰ اور پھر ایسی مکمل خاموشی؟
سوال یہ نہیں کہ خاموشی کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ اس خاموشی کے پیچھے کیا ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ باہر مزاحمت کی باتیں اور اندر سے سہولتوں کی کوئی راہ نکالی جا رہی ہو؟
دو دن کی خاموشی بھی کبھی کبھی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔
اللہ کا شکر ادا کریں کہ گزشتہ رات طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے عمران خان کو صحت مند قرار دیا۔ یہ خبر سن کر بعض لوگوں کو خوشی کے بجائے اتنی مایوسی کیوں ہوئی؟
سوشل میڈیا پر صبح سے ایسے ردِعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں جیسے انہیں عمران خان کی صحت یابی نہیں بلکہ کسی سنگین یا جان لیوا بیماری کی خبر کا انتظار تھا۔
اگر واقعی عمران خان نے علاج کے لیے ہسپتال جانے سے انکار کیا ہے اور وہ اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں تو پھر بات بہت سادہ ہے۔
ان کے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک واضح پیغام آ جائے کہ میں نے ہسپتال جانے سے انکار کیا ہے، میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔ ساتھ وہی لہجہ اور وہی سخت الفاظ بھی لکھ دیے جائیں جو عمران خان ماضی میں جنرل عاصم منیر کے بارے میں استعمال کرتے رہے ہیں۔
پھر ہم بھی مان لیں گے کہ واقعی کپتان نے اصولی مؤقف اختیار کیا ہے اور کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے۔
میدان بھی حاضر ہے، گھوڑا بھی تیار ہے، اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ سوار میدان میں اترتا ہے یا نہیں۔
اگر واقعی عمران خان نے علاج کے لیے ہسپتال جانے سے انکار کیا ہے اور وہ اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں تو پھر بات بہت سادہ ہے۔
ان کے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک واضح پیغام آ جائے کہ میں نے ہسپتال جانے سے انکار کیا ہے، میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔ ساتھ وہی لہجہ اور وہی سخت الفاظ بھی لکھ دیے جائیں جو عمران خان ماضی میں جنرل عاصم منیر کے بارے میں استعمال کرتے رہے ہیں۔
پھر ہم بھی مان لیں گے کہ واقعی کپتان نے اصولی مؤقف اختیار کیا ہے اور کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے۔
میدان بھی حاضر ہے، گھوڑا بھی تیار ہے، اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ سوار میدان میں اترتا ہے یا نہیں۔
تاریخی طنز
عمران احمد خان نیازی کے ساتھ بھی بالآخر وہی معاملہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے جو کبھی ملک ریاض کے ساتھ ہوا تھا۔ منتیں، ترلے، یقین دہانیاں اور ہر ممکن کوشش کے باوجود بات بنتی نظر نہیں آ رہی۔ اطلاعات کے مطابق حافظ صاحب نے معافی دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
سیاست میں وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا؛ جو کل طاقت کے مرکز کے قریب کھڑا ہو کر فیصلے کرتا تھا، آج اسی مرکز کے دروازے پر کھڑا جواب کا منتظر ہے۔ تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ اقتدار کے عروج پر انسان خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا ہے، مگر وقت گزرنے کے بعد وہی فیصلے اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
آہو! وقت بڑا بے رحم منصف ہے، نہ منت مانتا ہے نہ ترلا۔